سرکاری ایل۔پی۔سی۔ کنڑا اسکول سولپور میں یارانِ ادب بیدر کے زیراہتمام تعلیمی اشیاء کی تقسیم - اسکول میں صرف 2طلبہ تھے،اسکول بندہونے والاتھاصدرمعلمہ کی بدولت آج 36طلبہ ہیں : گاؤں والوں کی گواہی۔


 بیدر۔ 25/جولائی (راست)آج ہفتہ کو سرکاری LPSکنڑا اسکول سولپور تعلقہ و ضلع بیدرمیں یارانِ ادب کی جانب سے وہاں کے طلبہ کونوٹ بک، پنسل، قلم، شارپنر، ربر، رنگین قلم، توشہ دان، کاپی کاکور، پانی پینے کی بوتل اور دیگر اشیاء تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر محمدیوسف رحیم بیدری سکریڑی یاران ِ ادب بیدر نے بتایاکہ یہ پہلا اسکول ہے جہاں ہفتہ ہونے کے باوجود طلبہ کی تعدادصدفیصد سے زائد 105.55فیصد ہے۔ 36طلبہ کی بجائے 38طلبہ یہاں ہمارے سامنے موجود ہیں، جس کا سہرا ہیڈمسٹریس بیناکاؤڑے کے سر جاتاہے۔ میں انھیں مبارک باد پیش کرتاہوں۔ سولپور دیہات کے محب تعلیم بزرگ جناب سنگ شٹی نے اپنے مختصر خطاب میں انکشاف کیاکہ ”ہمارے اس اسکول میں صرف 2طلبہ رہ گئے تھے اور اسکول بند کردیاجانے والاتھاکہ محترمہ بیناکاؤڑے نے اس اسکول کوبچانے میں خوب محنت کی۔ آج 36بچے یہاں زیر تعلیم ہیں۔صدرمعلمہ کے علاوہ دوٹیچر ڈینئیل اور گیانیشورمددگار معلم بھی ہیں۔ صدرمعلمہ بیناکاؤڑے کے اس کام کے پیش نظر یارانِ ادب کی جانب سے ان کی شالپوشی اور گلپوشی کرتے ہوئے انہیں زبردست تہنیت پیش کی گئی۔ جناب عبدالسلیم اسد نے اپنی جانب سے طلبہ کے لئے نقد500روپئے کاعطیہ ہیڈمسٹریس کو پیش کیا۔ جناب حیدرعلی سوداگر ای سی اوتعلقہ بیدر نے اپنے خصوصی خطاب میں اسکول کی عمارت، صفائی ستھرائی، وقت پر طلبہ کوہرچیز مہیاکرنے پر ہیڈمسٹریس اور ان کے مددگارمعلمین کی تعریف کی۔اور بتایاکہ یہ LPSاسکول مثالی اسکول ہے یہاں اسمارٹ کلاس بھی طلبہ کے لئے چلائی جاتی ہے۔ عبدالسلیم اسد اور ڈینئیل ٹیچر نے بھی خطاب کیا۔ ہیڈمسٹریس محترمہ بیناکاؤڑے نے اپنے صدارتی خطاب میں بہت سی باتیں کہیں اور یاران ادب کے علاوہ سولپور کے بزرگوں کاشکریہ اداکیا۔ اس موقع پر سولپورکے متوطن چند رشیکھرپاٹل کو یاران ِ ادب نے گلپوشی اور شالپوشی کے ذریعہ تہنیت پیش کی جب کہ اسکول کی جانب سے محمدیوسف رحیم بیدری، حیدرعلی، ابوالحسن قادری مالک نیونیہا کلینیکل لیباریٹری بیدر، چندرشیکھرپاٹل، عبدالسلیم اسد، سنگ شٹی اور اولیائے طلبہ کی شالپوشی کی گئی۔ جناب یوسف رحیم بیدر ی نے اپنی کنڑی کتاب ”میرناغزل گڑو“صدرمعلمہ، چندرشیکھرپاٹل اور ایس ڈی ایم سی صدر امیش کو تحفتاً پیش کی۔طلبہ وطالبات نے یاران ِ ادب کا باآوازِ بلند شکریہ اداکیا۔ آخر میں ایک اور حیرت انگیز بات یہ بتانی ہے کہ اس کنڑامیڈیم سرکاری اسکول کو بچانے کے لئے ایل کے جی اور یوکے جی بھی ہیڈمسٹریس نے خود اپنی طرف سے ذمہ دارانہ طورپر شروع کیا ہے۔ اور جو گیسٹ ٹیچر پریہ درشنی ہیں وہ اسکول کی ایسی دوسری خاتون ہیں جو رضاکارانہ طورپر بچوں کوتعلیم دیتی ہیں اوراپنی اس خدمت کاکوئی معاوضہ نہیں لیتیں۔ کاش اس طرح کاجذبہ اردو خواتین ٹیچرس میں بھی پیدا ہوجائے تو پھر اردو زبان روزبروز ترقی کی شاہراہ پر گامزن نظر آئے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔