نجی راکٹ 'وکرم-1' کا مدار تک کا کامیاب سفر - تحریر : عارف محمد خان، جلگاؤں۔
نجی راکٹ 'وکرم-1' کا مدار تک کا کامیاب سفر -
تحریر : عارف محمد خان، جلگاؤں۔
بھارت کے نجی خلائی شعبے (Private Space Sector) نے خلا کی وسعتوں میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ حیدرآباد کی اسٹارٹ اپ خلائی کمپنی 'اسکائی روٹ ایرواسپیس' (Skyroot Aerospace) کے تیار کردہ پہلے نجی آرربیٹل راکٹ 'وکرم-1' (Vikram-1) نے اپنی پہلی ہی آزمائشی پرواز میں کامیابی کا پرچم لہرا دیا ہے۔ "مشن آگمن" کے تحت کیے گئے اس کامیاب تجربے کے بعد بھارت دنیا کے ان چند چیدہ چیدہ ممالک میں شامل ہو گیا ہے جن کے نجی شعبے کے پاس مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
15 منٹ کا سفر اور 450 کلومیٹر کی بلندی:
آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر (ISRO) سے وکرم-1 راکٹ نے دوپہر کے وقت فضا کو چیرتے ہوئے اڑان بھری۔ تقریباً 15 منٹ کے انتہائی سنسنی خیز اور قطعی سفر کے بعد، راکٹ نے زمین سے 450 کلومیٹر بلند لو ارتھ آربٹ (LEO) میں پہنچ کر اپنے ساتھ لے جائے گئے سیٹلائٹس کو کامیابی سے ان کے مخصوص مدار میں پہنچا دیا۔
پہلی ہی کوشش میں %100کامیابی ایک عالمی ریکارڈ :
خلائی سائنس کی تاریخ میں یہ بات انتہائی نایاب مانی جاتی ہے کہ کوئی بھی نیا راکٹ اپنی پہلی ہی آرربیٹل پرواز میں مکمل کامیاب ہو جائے (یہاں تک کہ اسپیس ایکس جیسے بڑے اداروں کو بھی شروع میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا)۔ لیکن 'وکرم-1' نے پہلی ہی کوشش میں یہ کارنامہ انجام دے کر دنیا بھر کے خلائی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ بھارتی خلائی تحقیقی ادارے (ISRO) اور IN-SPACe نے اسکائی روٹ کی اس شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیا ہے۔
تکنیکی مہارت اور منفرد ساخت:
7 منزلہ عمارت جتنا اونچا (تقریباً 24 میٹر) یہ راکٹ جدید ترین ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔
کاربن کمپوزٹ باڈی: راکٹ کا بیرونی ڈھانچہ فولاد سے زیادہ مضبوط لیکن وزن میں انتہائی ہلکا رکھنے کے لیے مکمل کاربن کمپوزٹ سے تیار کیا گیا ہے۔
4 مراحل (4 Stages): یہ راکٹ 4 حصوں پر مشتمل ہے، جس کے پہلے 3 مراحل میں ٹھوس ایندھن (Solid Fuel) اور آخری مرحلے میں خلائی پوزیشن کو درست کرنے کے لیے مائع ایندھن (Liquid Fuel) کا استعمال کیا گیا ہے۔
3D پرنٹڈ انجن: راکٹ کے آخری مرحلے میں کمپنی کے اپنے تیار کردہ تھری ڈی پرنٹڈ 'رمن' انجن استعمال ہوئے ہیں، جو سستی اور تیز رفتار مینوفیکچرنگ کی دنیا میں ایک انقلابی قدم ہے۔
صلاحیت: یہ راکٹ اپنے ساتھ 350 کلوگرام تک کے چھوٹے سیٹلائٹس کو خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عالمی خلائی معیشت پر اثرات اور مستقبل :
اسکائی روٹ ایرواسپیس کے سی ای او پون کمار چندانا کے مطابق، یہ مشن عالمی کمرشل مارکیٹ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ بڑے راکٹوں (جیسے PSLV یا Falcon-9) پر چھوٹے سیٹلائٹ بھیجنے کے لیے کمپنیوں کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن 'وکرم-1' کو "آن ڈیمانڈ سروس" کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، یعنی اسے چند دنوں کے اندر اسمبل کر کے لانچ کیا جا سکتا ہے۔
اس کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ اب خلا صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ بھارت کے نوجوان سائنسدان اور نجی کمپنیاں بھی اب گلوبل اسپیس مارکیٹ میں راج کرنے کے لیے تیار ہیں۔
Comments
Post a Comment