سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلمقسط نمبر 1: عام الفیل، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے کے واقعات -از قلم: شعیب احمد محمدی۔
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم
قسط نمبر 1: عام الفیل، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے کے واقعات -
از قلم: شعیب احمد محمدی۔
9284434542
1. مکہ اور قریش کی حالت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے مکہ شہر عرب کا مرکز تھا۔ یہاں بیت اللہ تھا جہاں پوری دنیا سے لوگ حج کے لیے آتے تھے۔
مکہ کے سردار قریش تھے۔ قریش کے بڑے کام تھے:
1. سقایت - حجاج کو زمزم پلانا
2. رفادت - حجاج کو کھانا کھلانا
3. حجابہ - کعبہ کی کنجی اور خدمت
اس وقت قریش کے سردار حضرت عبدالمطلب بن ہاشم تھے۔ وہ بہت نیک، سخی اور عزت والے تھے۔ لیکن اس دور میں عرب میں بت پرستی عام تھی۔ کعبہ کے اندر اور باہر 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ کمزوروں پر ظلم ہوتا تھا۔
2. حضرت عبداللہ کا واقعہ قرعہ - قربانی سے نجات
حضرت عبدالمطلب نے ایک مرتبہ اللہ سے عہد کیا: یا اللہ اگر تو مجھے 10 بیٹے عطا فرمائے تو میں ان میں سے ایک کو کعبہ کے پاس قربان کر دوں گا۔
اللہ نے ان کو 10 بیٹے عطا فرمائے جن میں سب سے چھوٹے اور سب سے محبوب حضرت عبداللہ تھے۔
جب عہد پورا کرنے کا وقت آیا تو حضرت عبدالمطلب نے قرعہ ڈالا۔ پہلی بار بھی عبداللہ کا نام نکلا، دوسری بار بھی، تیسری بار بھی۔
قریش نے کہا: اگر آپ نے اپنے بیٹے کو ذبح کر دیا تو عرب میں یہ رسم بن جائے گی۔ آخر فیصلہ ہوا کہ 10 اونٹ اور عبداللہ کے نام کا قرعہ ڈالا جائے۔
اس طرح قرعہ ڈالتے رہے۔ جب 100 اونٹ ہوئے تو قرعہ اونٹوں کے نام پر نکلا۔
قریش نے خوشی سے 100 اونٹ کعبہ کے پاس ذبح کیے۔ اس طرح اللہ نے حضرت عبداللہ کو بچا لیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انا ابن الذبیحین - میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں یعنی حضرت اسماعیل اور حضرت عبداللہ۔
3. حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت آمنہ کا نکاح
حضرت عبداللہ کا نکاح قریش کی پاکیزہ خاتون حضرت آمنہ بنت وہب سے ہوا۔
شادی کے کچھ ماہ بعد عبداللہ رضی اللہ عنہ تجارت کے لیے شام گئے۔ واپسی پر وہ مدینہ میں بیمار ہو گئے اور وہیں وفات پا گئے۔
اس وقت حضرت آمنہ حاملہ تھیں۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یتیم پیدا ہوئے۔
4. حضرت آمنہ کو حمل کی بشارت
حضرت آمنہ فرماتی ہیں: مجھے حمل کے دوران کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک نور ہے جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ اور آواز آئی: تمہارے پیٹ میں اس امت کے سردار ہیں۔ جب وہ پیدا ہوں تو نام محمد رکھنا۔
5. ابرہ اور حضرت عبدالمطلب کی ملاقات
جب ابرہہ کا لشکر مکہ پہنچا تو اس نے مکہ والوں کے جانور پکڑ لیے۔ ان میں حضرت عبدالمطلب کے 200 اونٹ بھی تھے۔
ابرہہ نے پیغام بھیجا کہ مکہ کا سردار اس سے ملے۔ حضرت عبدالمطلب تشریف لے گئے۔ ابرہ کو دیکھتے ہی اس کے دل میں حضرت عبدالمطلب کا رعب بیٹھ گیا۔ وہ تخت سے اتر کر حضرت عبدالمطلب کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اور عزت سے پیش آیا۔
ابرہہ نے پوچھا: کیا چاہتے ہو؟
حضرت عبدالمطلب نے فرمایا: میرے 200 اونٹ واپس کر دو
ابرہہ حیران ہو کر بولا: میں آیا ہوں تمہارا کعبہ گرانے، اور تم اونٹوں کی بات کر رہے ہو؟
حضرت عبدالمطلب نے تاریخی جواب دیا:
میں اونٹوں کا مالک ہوں، اس لیے اونٹ مانگ رہا ہوں۔ اور کعبہ کا ایک مالک ہے، وہ خود اس گھر کی حفاظت کرے گا
ابرہہ نے اونٹ واپس کر دیے۔
6. عام الفیل کا واقعہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے تقریبا 50 دن پہلے یمن کا عیسائی حاکم ابرہہ بہت بڑا لشکر لے کر مکہ پر حملہ کرنے آیا تھا۔ اس لشکر میں ہاتھی بھی تھے۔ اس کا مقصد کعبہ کو گرانا تھا۔ اسی وجہ سے اس سال کو عام الفیل کہا جاتا ہے۔
جب ابرہ کا لشکر مکہ کے قریب مغمس پہنچا تو اللہ نے ابابیل پرندوں کا لشکر بھیجا۔
اللہ تعالی نے قرآن میں اس واقعہ کو سورہ الفیل میں بیان فرمایا:
سورہ الفیل
الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیل۔ الم یجعل کیدھم فی تضلیل۔ وارسل علیھم طیرا ابابیل۔ ترمیھم بحجارة من سجیل۔ فجعلھم کعصف ماکول
آسان ترجمہ:
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے لشکر کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ کیا اس نے ان کی چال اور سازش کو ناکام نہیں بنا دیا۔ اور اس نے ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے ابابیل بھیجے۔ جو ان پر پکی ہوئی مٹی کے کنکر پتھر مار رہے تھے۔ پھر اللہ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے ریزہ ریزہ کی طرح کر دیا۔
آسان الفاظ میں مطلب:
اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ یاد کرو جب ابرہہ ہاتھی لے کر کعبہ گرانے آیا تھا۔ اللہ نے اس کی ساری پلاننگ خراب کر دی۔ اور چھوٹے چھوٹے پرندے بھیج کر بڑے لشکر کو مٹی کے پتھروں سے تباہ کر دیا۔
اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ جب اللہ مدد کرے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی کچھ نہیں کر سکتی۔
اس طرح اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت خود فرمائی۔
اللہ ہم سب کو سیرت پڑھ کر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین ثم آمین
---
اب یہ بالکل صاف ہے۔ کاپی کر کے پوسٹ کر دیں۔
اللہ آپ کی اس سیرت کی خدمت کو قبول فرمائے بھائی
اگلی قسط میں آپﷺ کی ولادت مبارکہ اور بچپن کے واقعات پڑھیں انشاءاللہ جاری ۔۔
ا
Comments
Post a Comment