جامع اخباری رپورٹ: پاسپورٹ اور بین الاقوامی شہریت کی قانونی حیثیت - عالمی امیگریشن قوانین اور ہندوستانی پاسپورٹ ایکٹ 1967ء کی دفعہ 6 کے تناظر میں تجزیاتی مطالعہ۔


:
شری وردھن : (اظہر ظہیر الدین کردمے) حالیہ دنوں میں زیرِ بحث آنے والی میڈیا رپورٹس، آڈیو کلپس اور بین الاقوامی سفارتی قوانین کی روشنی میں یہ سچائی مکمل طور پر عیاں ہو چکی ہے کہ کسی بھی انسان کی قومی شناخت اور قانونی شہریت کا سب سے معتبر، مستند اور ناقابلِ تردید ثبوت اس کا "پاسپورٹ" ہوتا ہے۔ پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست اور شہری کے درمیان اس قانونی رشتے کا عالمی اعلامیہ ہے جسے پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔

عالمی اصول اور شہریت کی بنیادی تعریف

عالمی قوانین اور سفارتی ضوابط کے
 مطابق، کوئی بھی خود مختار ملک اپنے شہریوں کو جو پاسپورٹ جاری کرتا ہے، وہ اس بات کی حتمی سند ہوتی ہے کہ حاملِ پاسپورٹ اس ملک کا قانونی شہری ہے۔ مثال کے طور پر، جب حکومتِ امریکہ اپنے کسی شہری کو پاسپورٹ جاری کرتی ہے، تو وہ بین الاقوامی سطح پر "امریکی شہری" (American Citizen) کہلاتا ہے۔ اسی طرح، حکومتِ ہند کی جانب سے جاری کردہ پاسپورٹ کے حامل افراد کو دنیا کے ہر کونے میں "انڈین سٹیزن" (Indian Citizen) یعنی ہندوستانی شہری تسلیم کیا جاتا ہے۔

ہندوستانی قانون کا نکتہ: پاسپورٹ ایکٹ 1967ء کی دفعہ 6

اس ضمن میں دی گئی قانونی دلیل سب سے زیادہ وزنی اور دستاویزی ہے، جس میں ہندوستان کے پاسپورٹ ایکٹ 1967ء کی دفعہ 6 (Section 6 of The Passports Act, 1967) کا حوالہ دیا گیا ہے۔ قانون کی یہ دفعہ واضح طور پر حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے فرد کو پاسپورٹ جاری کرنے سے صاف انکار کر سکتی ہے جو ہندوستان کا قانونی شہری نہ ہو۔

اس کا سیدھا اور صاف قانونی مطلب یہ ہے کہ پاسپورٹ کے حصول سے پہلے فرد کی شہریت کی مکمل اور سخت جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس حکومتِ ہند کا پاسپورٹ موجود ہے، تو قانون کی رو سے یہ اس بات کا حتمی اور عدالتی ثبوت ہے کہ وہ "انڈین سٹیزن" ہے۔ یہ دستاویز کسی بھی مقامی شناختی کارڈ سے بالاتر ہو کر شہریت کی حتمی تصدیق کرتی ہے۔

امریکہ کی شہریت اور پاسپورٹ کی تبدیلی: ایک غیر مبہم دلیل

شہریت اور پاسپورٹ کے اس لازمی رشتے کو سمجھنے کے لیے بین الاقوامی ہجرت (Migration) کا عمل ایک بہترین اور عملی دلیل فراہم کرتا ہے۔ جب ایک ہندوستانی شہری (Indian Citizen) اعلیٰ تعلیم، ملازمت یا کاروبار کی غرض سے امریکہ جاتا ہے اور وہاں کئی سالوں تک قیام پذیر رہتا ہے، تو طویل قیام اور وہاں کے تمام مقامی کارڈز بن جانے کے باوجود وہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی شہری ہی رہتا ہے، کیونکہ اس کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ ہوتا ہے۔

لیکن جب یہ فرد امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتا ہے اور "امریکی شہریت" (American Citizenship) کے لیے باضابطہ عریضہ (درخواست) دائر کرتا ہے، تو امریکی امیگریشن قوانین کے تحت اس کی درخواست منظور ہونے پر اسے ایک نیا "امریکن پاسپورٹ" عطا کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہندوستان کا آئین بیک وقت دوہری شہریت کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے امریکی پاسپورٹ ملتے ہی اس کی سابقہ قانونی شناخت (انڈین سٹیزن) ختم ہو جاتی ہے اور وہ اب ایک باقاعدہ "امریکی شہری" کہلاتا ہے۔ پاسپورٹ کا یہ تبادلہ ثابت کرتا ہے کہ پاسپورٹ کا بدلنا دراصل شہریت کی حتمی تبدیلی کا مظہر ہے۔

پاسپورٹ: شہریت کی بہترین اور عالمگیر شناخت کیوں؟

کسی بھی ملک کے اندرونی شناختی کارڈز (جیسے ووٹر آئی ڈی، راشن کارڈ یا دیگر مقامی دستاویزات) صرف اس ملک کی حدود کے اندر عارضی مقاصد کے لیے کام آتے ہیں اور ان سے کسی شخص کی بین الاقوامی قانونی شہریت کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا (کیونکہ غیر ملکی مقیم افراد کو بھی کچھ مقامی کارڈز جاری ہو سکتے ہیں)۔

اس کے برعکس، پاسپورٹ وہ واحد دستاویز ہے جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے تحت بین الاقوامی سرحدوں پر کسی شخص کی قومیت کی تصدیق کرتی ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس کسی ملک کا پاسپورٹ موجود ہے، تو دنیا کی کوئی بھی عدالت یا حکومت اس کی شہریت سے انکار نہیں کر سکتی، کیونکہ اس کی پشت پر پوری ریاست کی طاقت اور خودمختاری کھڑی ہوتی ہے۔

حاصلِ کلام 
پاسپورٹ ایکٹ میں "بھارت کا شہری" کا لفظ دراصل اس بات کی قانونی ضمانت دیتا ہے کہ پاسپورٹ اور شہریت دونوں ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں
خلاصہ بحث یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین، ہجرت کے عملی نمونوں اور پاسپورٹ ایکٹ 1967ء کی دفعہ 6 کے مشترکہ مطالعے سے یہ بات پتھر کی لکیر بن جاتی ہے کہ پاسپورٹ اور شہریت لازم و ملزوم ہیں۔ جس طرح ایک ہندوستانی جب تک ہندوستانی پاسپورٹ رکھتا ہے وہ انڈین سٹیزن ہے، اور جیسے ہی اسے امریکی پاسپورٹ ملتا ہے وہ امریکن سٹیزن بن جاتا ہے؛ بالکل اسی طرح یہ اصول آفاقی ہے کہ پاسپورٹ ہی کسی بھی انسان کی شہریت کی سب سے بہترین، مستند، قانونی اور آخری شناخت ہے۔ انتظامیہ اور عوام دونوں کے لیے اس قانونی نکتے کو سمجھنا اور تسلیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اظہر ظہیر الدین کردمے 
ضلع رایگڈھ

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔