حضرت خطيب العصر رح حیات و خدمات ( 1954 -2026)ازقلم سید براءعازب بن سید مرتضی(رہبر)پربھنی مہاراشٹر۔( متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ )
حضرت خطيب العصر رح حیات و خدمات ( 1954 -2026)
ازقلم سید براءعازب بن سید مرتضی(رہبر)
پربھنی مہاراشٹر۔
( متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ )
علامہ سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ عليہ عالم اسلام اور خصوصا بر صغیر کے ایک مشہور مفسر، عظیم محدث، ایک بے باک خطیب اور بلند پایہ محقق و عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخلص مربی تھے ۔جن کو عالم اسلام خطیب العصر، جانشین مفکر اسلام اور ابی الحسن الصغیر کے نام سے یاد کرتا ہے۔
خطیب العصر علامہ سید سلمان حسینی ندوی رح کی پیدائش 1954ء کو لکھنو میں ہوئی علامہ موصوف کا تعلق اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے قصبہ منصور پور کے ایک سادات گھرانے سے تھا۔ آپ کے والد محترم کا نام مولانا سید محمد طاہر حسینی مظاہری تھا جو شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد رشید وخلیفہ تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا ایک انتہائی نیک صفت خاتون تھی جن کا تعلق خانوادہ حسنی سے تھا۔ علامہ موصوف رح کی والدہ مشہور عالم ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنی کی صاحبزادی اور مفکر اسلام علامہ سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی بھتیجی تھی۔
علامہ سید سلمان حسینی ندوی رح کو نجیب الطرفین ہونے کا شرف حاصل ہے؛ آپ کا سلسلۂ نسب والدِ گرامی کی جانب سے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور والدۂ ماجدہ کی طرف سے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ تک جا ملتا ہے ۔ آپ علامہ ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنی ندوی اور مفکر اسلام رحمہ اللہ کے نواسہ ہے۔
علامہ سید سلمان حسینی ندوی رحمتہ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی گھر اور قریبی مکتب میں حاصل کی، علامہ موصوف کو اللہ تعالی نے بے پناہ قابلیت و صلاحیت سے نوازا تھا جس کا ثمرہ یہ تھا کہ آپ کم عمری کے باوجود قرآن و سنت سے منسلک ہو گئے۔اس کے بعد علامہ موصوف رح عالم اسلام کی مشہور اسلامک یونیورسٹی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخل ہو گئے اور وہاں سے حفظ قرآن کی تکمیل کی ۔ پھر آپ درجہ عالمیت کی طرف داخل کرائے گئے جس کے بعد 1974 میں حضرت علامہ موصوف رح نے عالمیت کی سند حاصل کی پھر 1976 میں فضیلت مکمل کی۔فضیلت مکمل کرنے کے بعد علامہ موصوف نے 1980 میں سعودی عرب کی مشہور اسلامک یونیورسٹی جامعة الامام محمد بن سعود الاسلامیة ریاض سے حدیث میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور اپنا مقالہ اپنے زمانے کے مشہور زمانہ محدث شیخ عبدالفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ کی نگرانی میں مکمل کیا ۔
علامہ موصوف نے اپنے طالب علمی ہی کے دور میں عربی اور اردو زبان میں مہارت پیدا کر لی تھی اور اپنی تعلیم مکمل کرنے تک اسلامی علوم و فنون میں کمال اور تاریخ اسلامی کا احاطہ کر لیا تھا۔
سعودی عرب میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد علامہ موصوف ہندوستان کی مشہور اسلامک یونیورسٹی اور مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں بحیثیت استاد علومِ حدیث مقرر ہوئے۔اور اگلے 40 سال تک حضرت مولانا رح دارالعلوم ندوۃ العلماء میں اپنے فرائض پوری عرق ریزی و جاں فشانی کے ساتھ انجام دیتے رہے۔ جس میں درس حدیث اور درس حجة الله البالغه قابل ذکر ہے۔
علامہ موصوف نے دوران تدریس ایسے علماء و قائدین پیدا کر دیےجو قدیم صالح اور جدید نافع کا پیکر تھے۔ حضرت مولانا کی شخصیت بہت سی خوبیوں کی جامع شخصیت تھی جو آپ کو اپنے دور کے علماء و مفکرین کی پہلی صف میں لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔ آپ کے شاگردوں کے بیان کے مطابق آپ دوران تدریس کسی خاص مسلک وہ مرتب فکر کی تبلیغ نہیں کرتے تھے اور حق کو پوری قوت کے ساتھ بیان کرتے تھے اور اس میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔
علامہ موصوف اپنے شاگردوں کو اکثر یہی نصیحت کیا کرتے تھے۔عزیزم! اپنے کو نوجوانوں کی قیادت کے لئے تیار کرو، سیرتِ رسولِ اکرم -صلی اللّٰہ علیہ وسلم- اور قرآن کو ایک ساتھ اس طرح پڑھو کہ کتاب و سنت تمہارے وجود کی جان بن جائے۔
علامہ موصوف نے مفکر اسلام رح کے بعد عالمی سطح پر سب سے زیادہ ندوۃ العلماء کا تعارف کروایا۔
علامہ موصوف ہندوستان کے ان چند علماء میں سے تھے جو عالمی سطح پر ملت اسلامیہ کی نمائندگی کرتے تھے۔ مسئلہ اصلاح تعلیم و نصاب ہو یا مسئلہ فلسطین یا سعودی حکومت کی اسرائیل کی غیر جانبدارانہ حمایت ہو یا دیگر سماجی سیاسی مسئلے ہو۔ علامہ موصوف پوری قوت کے ساتھ اس کی تردید فرماتے تھے۔
علامہ موصوف کی شخصیت کی تعمیر و ترقی میں مفکر اسلام علی میاں ندوی رح کا بڑا کردار رہا ہے ان کے ذریعے اللہ نے آپ کو عالم اسلام میں متعارف کروایا ہے اور علامہ موصوف نے اپنی خداداد صلاحیت وقابلیت کی بنیاد پر اپنی تحقیق و تصنیف کا لوہا عرب و عجم میں منوایا اور اپنے وقت کے دینی وانقلابی تنظیموں و شخصیتوں کے پرزور حمایت کی۔
علامہ سید سلمان حسینی ندوی رح کے تصنیفی کارناموں میں سے ایک عظیم کارنامہ "مشعال المصابيح شرح مشكوة المصابيح" ہے جو ان کی علمی قابلیت کا انمول ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ "مذكراتي" ہے جس میں تقریبا 50 سال سے زائد علامہ موصوف نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور ملکی و عالمی تاریخ کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ عربی زبان میں قلم بند کیا ہے۔
اس کے علاوہ علامہ موصوف رح کی تصنیفات کی تعداد 80 سے زائد تک ہے جن میں قرآن کی ترتیب نزولی ، انتخاب تفاسیر، آخری وحی ،خطبات سیرت، الخلافة في الاسلام ،ہمارا نصاب تعلیم کیا ہو؟،اور اللہ تعالی کے بے لاگ قوانین اور فیصلے نامی کتب قابل تحسین ہے۔
علامہ موصوف رح جامعہ سید احمد شہید کے ناظم ، جمعیت شباب اسلام کے بانی وصدر، رابطہ عالمی الاسلامی کے رکن،الاتحاد العالمي لعلماء المسلمين کے رکن ہونے کے علاوہ کئی ملی و سماجی تنظیموں کے سرپرست تھے۔
لیکن عمر کے آخری سالوں میں علامہ موصوف رح کا نظریہ جمہور کے مسلک سے ہٹا ہوا تھا، اور راقم سطور بھی اس کا اعتراف کرتا ہے کہ علامہ موصوف غلطی پر تھے۔ کیونکہ ہمارا اصول یہی ہے کہ حق ہر شخصیت سے بالا تر ہے جو بات قرآن و سنت کے مطابق ہو اسے ہم قبول کرتے ہیں اور جو اس کے خلاف ہو وہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم ان کی وسیع خدمت کو بھول جائے اور ان کے لیے دعا و تعزیت نہ کرے۔
افسوس کہ علامہ سید سلمان حسینی ندوی رح 29 جون بروز پیر مطابق 13 محرم الحرام 1448 کو نماز تہجد کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی علامہ موصوف رح کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں مقام کریم سے نوازے، حسنات کو قبول فرما کر غلطیوں سے درگزر فرمائے۔ اور خصوصا اہل خانہ،شاگردوں ، ومتعلقین کو صبر جمیل نصیب فرمائے آمین ۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزه نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
سید براءعازب بن سید مرتضی(رہبر) صاحب
پربھنی مہاراشٹر
( متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ )
Comments
Post a Comment