"پریم چند کا ادب پھر اسٹیج پر زندہ — 'آداب، میں پریم چند ہوں' کا 1025واں تاریخی شو 12 جولائی کو پونے میں۔


"پریم چند کا ادب پھر اسٹیج پر زندہ — 'آداب، میں پریم چند ہوں' کا 1025واں تاریخی شو 12 جولائی کو پونے میں۔

اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار منشی پریم چند کے فن و فکر کو عوام تک پہنچانے والی منفرد اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ تھیٹر سیریز "آداب، میں پریم چند ہوں" اتوار 12 جولائی 2026 کو اپنا 1025واں تاریخی شو سدرشن رنگ منچ، پونے میں پیش کرے گی۔
اس سلسلے کا آغاز 2005 میں معروف ہدایت کار اور تھیٹر کارکن مجیب خان نے اس عزم کے ساتھ کیا تھا کہ منشی پریم چند کی لازوال کہانیاں محض کتابوں کی زینت نہ رہیں بلکہ اسٹیج کے ذریعے عام لوگوں کے دلوں تک پہنچیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منفرد ادبی و ثقافتی سفر آج لمکا بک آف ریکارڈز اور ورلڈ وائیڈ بک آف ریکارڈز میں اپنا نام درج کرا چکا ہے۔
قصہ گوئی انسان کی تہذیبی روایت کا اتنا ہی قدیم حصہ ہے جتنی خود انسانی تاریخ۔ کبھی یہ قصے الاؤ کے گرد سنائے جاتے تھے، کبھی داستان گوئی کی محفلوں میں اور کبھی مثنوی و حکایت کی صورت میں۔ وقت کے ساتھ یہی روایت افسانے کی شکل اختیار کر گئی، جو ادب کی سب سے مؤثر اور زندگی سے قریب ترین صنف قرار پائی۔ تاہم منشی پریم چند اپنی تخلیقات کو ہمیشہ "قصہ" ہی کہتے تھے۔
اردو افسانے کی تاریخ میں منشی پریم چند سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ انسان سازی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا “ادب وہی اچھا ہے جو ہمیں بہتر انسان بنا دے۔" کہانی نویسی کے اپنے انداز کے بارے میں وہ کہتے تھے کہ پہلے بنیادی پلاٹ چند سطروں میں تحریر کرتے، پھر اس میں ڈرامائیت تلاش کرتے، اور جب اس میں اسٹیج کی جان محسوس ہوتی تو اسے مکمل کہانی کی صورت دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بیشتر تخلیقات آج بھی تھیٹر کے لیے نہایت موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ منشی پریم چند نے افسانے کو فرسودہ روایتوں سے نکال کر سماجی حقیقت نگاری کی مضبوط بنیاد عطا کی۔ ان کے بعد ترقی پسند ادیبوں نے اس روایت کو مزید فروغ دیا، مگر ایک صدی گزرنے کے باوجود ان کی تحریریں آج بھی سماج کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، کیونکہ ان کا رشتہ انسان، اخلاق اور معاشرتی اقدار سے جڑا ہوا ہے۔
معروف ادیب صادق انصاری کے مطابق “ مجیب خان کے ڈرامے محض اسٹیج پر پیش نہیں کیے جاتے بلکہ اردو ادب کی روح میں نئی تازگی اور زندگی کی حرارت پیدا کرتے ہیں۔ ایسے دور میں جب اردو ڈرامے پر مرثیے پڑھے جا رہے ہیں، مجیب خان اپنے ہنرمند فنکاروں کے ساتھ پریم چند کی کہانیوں کو اسٹیج پر زندہ رکھ کر اردو تھیٹر کو نئی زندگی عطا کر رہے ہیں۔"
اسی ادبی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے 1025ویں شو میں منشی پریم چند کی تین شہرۂ آفاق کہانیاں "بڑے بھائی صاحب"، "خوفِ رسوائی" اور "ستی" پیش کی جائیں گی۔ یہ تینوں ڈرامے انسانی نفسیات، اخلاقی اقدار اور معاشرتی رشتوں کی گہری عکاسی کرتے ہیں۔
یہ پروگرام اردو ادب اور معیاری تھیٹر سے محبت رکھنے والوں کے لیے محض ایک اسٹیج شو نہیں بلکہ ادبی ورثے کی تجدید، تہذیبی شعور کی آبیاری اور پریم چند کے فکر و فن کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ: 📞 9821044429

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔