تعلیمی سالِ نو کا عہد: مشترکہ ذمے داریوں کا منشور - تحریر: ضیاء الرّحمٰن مظہر الحق انصاری۔ Testament of the New Academic Year
تعلیمی سالِ نو کا عہد: مشترکہ ذمے داریوں کا منشور -
Testament of the New Academic Year
تحریر: ضیاء الرّحمٰن مظہر الحق انصاری۔
(پرنسپل، رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیر کالج، بھیونڈی)
ایک بچے کی تعلیم اپنے مقصد و معنویت کے اعتبار سے اتنی عظیم اور اپنے دائرۂ کار کے اعتبار سے اتنی وسیع ہے کہ اس کی تکمیل نہ کسی ایک فرد کے بس کی بات ہے اور نہ کسی ایک ادارے کے۔ ایک بچے کی ہمہ جہت تعلیم و تربیت اساتذہ، والدین، خاندان، انتظامیہ اور تعلیمی قیادت کی مشترکہ، منظم اور مربوط کوششوں (Collective, Organised and Coordinated Efforts) کی متقاضی ہے۔
★ مشترکہ کوشش کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم کے ہر مرحلے میں تمام متعلقہ افراد اپنی ذمہ داریوں میں برابر کے شریک ہوں اور مسلسل اپنا کردار ادا کریں۔
★ منظم کوشش کا تقاضا ہے کہ تمام سرگرمیاں نظم و ضبط، معیاد و معیار کی پابندی اور اصولوں کی پاس داری کے مطابق انجام پائیں۔
★ جب کہ مربوط کوشش سے مراد یہ ہے کہ ہر فریق اپنی ذمہ داری آزادانہ طور پر ادا کرتے ہوئے دوسروں کی کوششوں کا معاون اور تکملہ بھی بنے۔ ہر ایک کو اپنے کردار کی نوعیت، حدود اور مقاصد کا واضح شعور ہو اور وہ جانتا ہو کہ اسے اپنی ذمے داری کس طرح بہترین انداز میں نبھانی ہے۔
لہٰذا نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ضروری ہے کہ اساتذہ، والدین، انتظامیہ اور ہیڈ ماسٹر باہمی مشاورت اور رابطے کے ذریعے اشتراک، تنظیم اور ارتباط کے بنیادی اصول طے کرلیں۔ اگر یہ بنیاد ابتدا ہی میں مضبوط کردی جائے تو کامیابی کی امیدیں روشن اور نتائج حوصلہ افزا ہوسکتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے ہر فرد اور ہر ادارہ کم از کم تین بنیادی نکات پر عمل کرنے کا عہد کرے۔ اسے ہم کامن منیمم پروگرام آف ایجوکیشن (Common Minimum Programme of Education - *CMPE* ) کا نام دے سکتے ہیں۔
◻️ اساتذہ کا عہد :
اساتذہ یہ طے کرسکتے ہیں کہ:
1. وہ روزانہ پابندیِ وقت کے ساتھ اسکول حاضر ہوں گے اور تدریس کے ایک لمحے کو بھی ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
2. ہر سبق کی تیاری پوری دل جمعی اور محنت سے کریں گے، گویا یہ ان کی تدریسی زندگی کا پہلا اور آخری سبق ہو۔
3. درس و تدریس کے دوران اپنی علمی صلاحیت، تجربے، توانائی اور خلوص کو پوری طرح بروئے کار لائیں گے اور طلبہ کی فکری و اخلاقی تربیت کو بھی اپنا فرض سمجھیں گے۔
◻️ والدین کا عہد :
والدین کا کامن منیمم پروگرام یہ ہوسکتا ہے کہ:
1. وہ اپنے بچوں کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنائیں گے اور غیر ضروری غیر حاضری کی ہر ممکن روک تھام کریں گے۔
2. بچوں کی تعلیم کے لیے درکار وسائل اور ساز و سامان کی فراہمی میں حتی المقدور کوئی کوتاہی نہیں کریں گے، خواہ اس کے لیے ذاتی خواہشات اور آسائشوں میں کمی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔
3. وہ اسکول اور اساتذہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے تاکہ اپنے بچوں کی تعلیمی اور اخلاقی پیش رفت سے باخبر رہ سکیں۔
◻️انتظامیہ کا عہد :
انتظامیہ کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ:
1. مؤثر تدریس اور بہتر تعلم کے لیے درکار تمام بنیادی وسائل اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی تاکہ طلبہ اور اساتذہ کسی قسم کی قلت محسوس نہ کریں۔
2. اساتذہ کے تقرر اور انتظامی فیصلوں میں اقربا پروری، تعصب اور ذاتی یا مالی مفادات سے بالاتر ہوکر صرف اہلیت، محنت، دیانت داری اور صلاحیت کو معیار بنائے گی۔
3. معاشی طور پر کمزور مگر باصلاحیت طلبہ کی معاونت اور سرپرستی کے لیے مستقل فنڈ یا بجٹ مختص کرے گی۔
◻️ہیڈ ماسٹر کا عہد :
اس پورے پروگرام میں صدر مدرس کا کردار مرکزی اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ وہ اساتذہ، والدین اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کا مضبوط پل ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے عہد کرنا چاہیے کہ:
1. اسکول میں ایسا تعلیمی اور اخلاقی ماحول قائم کرے گا جو طلبہ کے لیے خوف کا نہیں بلکہ اعتماد، حوصلے اور ترقی کا ذریعہ بنے۔
2. اساتذہ کے درمیان ذمے داریوں کی تقسیم عدل، شفافیت اور اہلیت کی بنیاد پر کرے گا۔
3. مفید، جدید اور تخلیقی تعلیمی نظریات کو آزمانے میں تردد نہیں کرے گا اور ہر سال کم از کم ایک مؤثر تعلیمی جدت (Innovation) کے نفاذ کی کوشش کرے گا۔
تعلیم کسی ایک فرد کی ذمے داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی امانت ہے۔ جب اساتذہ اخلاص کے ساتھ پڑھائیں، والدین دل جمعی کے ساتھ تعاون کریں، انتظامیہ فراخ دلی سے وسائل فراہم کرے اور تعلیمی قیادت دانش مندی سے رہنمائی کرے تو بچے کی شخصیت کے پوشیدہ جوہر نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
نئے تعلیمی سال کا اصل عہد یہی ہونا چاہیے کہ ہم دوسروں سے مطالبہ کرنے سے پہلے اپنی ذمے داری پوری کریں۔ اگر ہر فرد اپنا حصہ دیانت داری، محنت اور احساسِ جواب دہی کے ساتھ ادا کرے تو نہ صرف ہمارے تعلیمی ادارے ترقی کریں گے بلکہ ہم ایسی نسل تیار کر سکیں گے جو علم، کردار اور خدمتِ خلق کے اعلیٰ اوصاف سے آراستہ ہو۔
آئیے! نئے تعلیمی سال کا آغاز اس عزم کے ساتھ کریں کہ ہم سب مل کر ہر بچے کے روشن مستقبل کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
Comments
Post a Comment