استاد کیسا ہونا چاہیے؟ - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
استاد کیسا ہونا چاہیے؟ -
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
استاد کیسا ہونا چاہیے؟
استاد صرف کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ نسلوں کا معمار اور کردار ساز ہوتا ہے۔ ایک اچھے استاد میں درج ذیل صفات ہونی چاہئیں:
اخلاص اور تقویٰ
اس کا مقصد شہرت یا مال نہیں بلکہ علم کی خدمت اور طلبہ کی اصلاح ہو۔
علم میں مہارت
جس فن کو پڑھاتا ہو، اس پر اچھی گرفت رکھتا ہو اور مسلسل اپنے علم میں اضافہ کرتا رہے۔
عمل کا نمونہ
اس کی زندگی اس کی تعلیمات کی ترجمان ہو۔ طلبہ استاد کے کردار سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
شفقت اور محبت
طلبہ کے ساتھ باپ جیسی محبت اور خیر خواہی کا معاملہ کرے، ان کی کمزوریوں کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
عدل اور انصاف
تمام طلبہ کے ساتھ یکساں سلوک کرے، کسی کے ساتھ جانبداری نہ برتے۔
صبر اور برداشت
طلبہ کی غلطیوں اور کم فہمی پر غصے کے بجائے حکمت اور صبر سے کام لے۔
نفسیاتِ طلبہ کی سمجھ
ہر طالب علم کی صلاحیت، مزاج اور حالات مختلف ہوتے ہیں، استاد کو ان فرقوں کو سمجھنا چاہیے۔
اچھے اخلاق
نرم گفتاری، خوش اخلاقی، تواضع اور حسنِ سلوک استاد کی زینت ہیں۔
مثبت رہنمائی
صرف غلطیوں کی نشاندہی نہ کرے بلکہ ان کی اصلاح کا راستہ بھی بتائے۔
اپنی تہذیب اور دینی اقدار کا پاسبان
خصوصاً اردو اور دینی علوم کے استاد کو اپنی زبان، تہذیب اور اسلامی اقدار کا عملی نمونہ ہونا چاہیے۔
حضرت امام شافعی فرماتے ہیں:
"استاد کی ہیبت بھی ہونی چاہیے اور محبت بھی، تاکہ شاگرد ادب کے ساتھ علم حاصل کرے۔"
خلاصہ:
ایک کامیاب استاد وہ ہے جو علم کے ساتھ کردار، محبت کے ساتھ نظم، اور شفقت کے ساتھ تربیت کا حسین امتزاج رکھتا ہو۔ ایسے استاد ہی اپنے شاگردوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں اور قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔
Comments
Post a Comment