جل گیا گھر ہمارا ( قسط دوم)۔ - سید فاروق احمد قادری۔
جل گیا گھر ہمارا ( قسط دوم)۔ -
سید فاروق احمد قادری۔
ایک پولیس انسپکٹر اپنے ماتحت کے ساتھ وہاں پہنچا جاوید کے حالات دیکھ کر کانسٹیبل نے کہا
"صاحب! اس نے بہت زیادہ پی رکھی ہے۔"
انسپکٹر نے سخت لہجے میں ڈانٹتے ہوئے کہا:
"اوئے! گھر جاتا ہے یا اندر کروں؟"
جاوید نے لڑکھڑاتے ہوئے سلام کیا اور ایک درد بھری مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
"صاحب! میرا گھر تو میری جیب میں ہے۔"
انسپکٹر اس کی بات سن کر چونک گیا۔
"کیا مطلب؟"
جاوید نے اپنی جیب کی طرف اشارہ کیا۔
"دیکھ لیجیے صاحب!"
انسپکٹر نے تلاشی لی تو جیب سے ایک چھوٹی سی پوٹلی برآمد ہوئی۔ اسے کھول کر دیکھا تو اس میں مٹی بھری ہوئی تھی۔
وہ حیرت سے بولا:
"یہ کیا ہے؟"
جاوید کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
"اپنے گھر والوں کو قبرستان میں دفن کر کے آیا ہوں صاحب۔ یہ انہی کی قبروں کی مٹی ہے۔"
یہ سن کر انسپکٹر گھبرا گیا۔ اس کے ہاتھ سے مٹی نیچے گر گئی۔ اس نے فوراً ہاتھ جھٹکے اور خاموشی سے جاوید کو دیکھنے لگا۔
جاوید کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ بھاری آواز میں بولا:
"صاحب! گجرات کے فسادات میں میرا گھر جلا دیا گیا تھا۔ میرے اپنے مجھ سے چھین لیے گئے۔ میرا بھائی بھی مارا گیا۔ میں بمبئی میں نوکری کرتا ہوں۔ اب اس دنیا میں اکیلا رہ گیا ہوں اور اپنے غم کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہوں۔"
چند لمحے خاموش رہنے کے بعد جاوید نے دور اٹھتے ہوئے شعلوں کی طرف اشارہ کیا اور گڑگڑاتے ہوئے بولا:
"صاحب! دیکھئے... پھر وہی نفرت کے سوداگر بے قصور لوگوں کو مار رہے ہیں۔ ان کے گھر جلا رہے ہیں۔ یہ منظر مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ خدا کے لیے انہیں روکیے صاحب... انہیں روکیے..."
اس کی آواز رندھ گئی۔ آنسو رخساروں پر بہنے لگے۔ دور کہیں آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے اور فضا میں چیخ و پکار گونج رہی تھی جاوید بے بسی سے ان شعلوں کو دیکھ رہا تھا، جیسے اس کے سامنے ایک بار پھر اس کا اپنا گھر جل رہا ہو
( جاری ہے )
کتاب سلگتا احساس
رائٹر سید فاروق احمد قادری
Comments
Post a Comment