اولاد کی تربیت: کفایت شعاری، حقوق اور معاشرتی توازن - ازقلم : شعیب احمد محمدی۔
اولاد کی تربیت: کفایت شعاری، حقوق اور معاشرتی توازن -
ازقلم: شعیب احمد محمدی۔
دونوں کا جہاں ہے اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
— علامہ اقبال
1. تمہید: تربیت ہی نسلوں کا سرمایہ
اولاد اللہ کی سب سے بڑی نعمت اور امانت ہے۔ یہ وہ پودا ہے جسے والدین اپنے خون جگر سے سینچتے ہیں۔ اگر تربیت صالح ہو تو یہی اولاد دنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتی ہے۔ لیکن اگر تربیت میں کوتاہی ہو جائے تو یہی اولاد والدین کے لیے آزمائش اور معاشرے کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو ڈگری تو دلوا رہے ہیں، مگر دین، اخلاق اور کردار کی تعلیم سے غافل ہیں۔
2. دینی پہلو: کفایت شعاری حکم ربانی ہے
اسلام میانہ روی کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرچ میں میانہ روی آدھی معیشت ہے۔ آج غریب گھرانوں کے بچے جب امیر دوستوں کو دیکھتے ہیں تو ان جیسا لباس، موبائل اور اسٹائل اپنانے کی ضد کرتے ہیں۔ والدین بچوں کو سمجھائیں کہ عزت برانڈڈ کپڑوں میں نہیں، تقویٰ اور سیرت میں ہے۔ صحابہ کرام فقر میں بھی بادشاہوں سے زیادہ باوقار تھے کیونکہ ان کا دل قناعت سے بھرا تھا۔ بچوں کو بتائیں کہ حرام کی کمائی سے خریدا ہوا مہنگا جوتا، حلال کی کمائی سے لیے ہوئے سادہ چپل سے بہتر نہیں۔
3. معاشرتی و نفسیاتی زہر: دیکھا دیکھی کی بربادی
غریب بچے کا امیر سے دوستی کرنا برا نہیں، لیکن اس کی نقل میں اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلانا تباہی ہے۔ جب بچہ ضد کر کے مہنگا موبائل یا بائیک مانگتا ہے اور باپ قرض لے کر دلاتا ہے تو پورا گھر سود کی لعنت میں ڈوب جاتا ہے۔ نتیجہ؟ باپ مقروض، ماں پریشان، اور بچہ مزید فرمائشوں کا عادی۔ یہیں سے چوری، جھوٹ اور احساس کمتری جنم لیتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ محبت سے بچوں کو کفایت شعاری کا درس دیں۔ انہیں بتائیں کہ تمہارے دوست کے والد ڈاکٹر، ٹیچر، کارخانے کے مالک یا تاجر ہیں، اور بیٹا آپ کے والد مزدور ہیں۔ دونوں کی کمائی میں فرق ہے، اس لیے خرچ میں بھی فرق رکھو۔ یہ احساس دلانا شرمندگی نہیں، حقیقت پسندی ہے۔
4. اخلاقی و سماجی علاج: حقوق کی پہچان
تربیت کا دوسرا نام حقوق کی ادائیگی ہے۔ والدین پر بچوں کے حقوق ہیں کہ انہیں حلال رزق کھلائیں، اچھی تعلیم دیں، دین سکھائیں، اور وقت دیں۔ صرف پیسہ دے کر جان چھڑانا تربیت نہیں۔ بچوں پر والدین کے حقوق ہیں کہ بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں، ادب سے بات کریں، اور ان کے فیصلوں کی قدر کریں۔ جب بیٹا کہے ابا آپ کو کیا پتہ فیشن کا تو سمجھ لو تربیت میں سوراخ ہو گیا۔ والدین روزانہ 10 منٹ بچوں کے ساتھ بیٹھیں، ان کے دوستوں کا حال پوچھیں، ان کی ضرورت اور خواہش میں فرق سمجھائیں۔ بیٹی کو بتائیں کہ سادگی میں حسن ہے اور بیٹے کو بتائیں کہ مرد کی شان سادگی اور خودداری میں ہے۔
5. جذباتی پہلو: آنسو بچاؤ، کل پچھتاؤ گے
ذرا سوچو، وہ باپ جس نے ساری زندگی سائیکل چلائی، وہ بچے کی ضد پر قرض لے کر بائیک لے دے۔ پھر قسط نہ دے سکے تو بائیک ضبط، عزت نیلام۔ ماں کے کان کی بالیاں بک گئیں بچے کے مہنگے اسکول کی فیس میں۔ کل یہی بچہ کہے گا آپ نے میرے لیے کیا ہی کیا ہے۔ یہ جملہ قیامت سے کم نہیں۔ اس لیے آج ہی بچوں کو نہ سننا سکھاؤ۔ ان کی ہر جائز خواہش پوری کرو، مگر ناجائز ضد کے آگے دیوار بن جاؤ۔ محبت یہ نہیں کہ ہر بات مان لو، محبت یہ ہے کہ بچے کو غلط راستے سے روک لو چاہے وہ روئے۔
6. نافرمانی کی نئی شکل: میں کماتا ہوں کا غرور
جب والد سمجھائے اور بیٹا یہ کہہ دے کہ میں کماتا ہوں، اپنی مرضی سے خرچ کروں گا تو سمجھ لو شیطان نے اس کے دل پر قبضہ کر لیا۔ یاد رکھو بیٹا، کمانے کے قابل تمہیں اسی باپ نے بنایا جس نے اپنی جوانی تمہاری تعلیم پر لگا دی۔ رزق اللہ دیتا ہے، تمہاری ڈگری یا نوکری نہیں۔ یہ جملے والدین کے دل چیر دیتے ہیں۔ کل جب تمہاری اولاد تمہیں یہی جواب دے گی تب تمہیں باپ کا درد سمجھ آئے گا۔ مالک بننے سے پہلے بندہ بنو۔ کمانے کا مطلب یہ نہیں کہ ماں باپ کے ادب کو بیچ دو۔ حدیث ہے: باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے اسے ضائع کر دو یا حفاظت کرو۔
7. مطلبی دوستی: سانپ کو دودھ پلانا
ایسے دوست سے دوستی نہ کرو جو صرف تمہارا اور تمہارے پیشے کا فائدہ اٹھائے۔ جو تمہیں امیر دوستوں کے اسٹائل پر اکسائے، مہنگی پارٹیوں پر لے جائے، اور تمہاری جیب خالی کر کے چھوڑ دے۔ ایسا دوست دوست نہیں، دیمک ہے جو تمہارا کردار اور گھر دونوں کھوکھلا کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، پس تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ سچا دوست وہ ہے جو تمہیں مسجد لے جائے، فضول خرچی سے روکے، اور مشکل میں والدین کا ادب سکھائے۔ مطلبی دوست کو پہچانو، ورنہ کل تمہارے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
8. خلاصہ: میزان قائم کرو
اولاد کی تربیت میں توازن چاہیے۔ نہ اتنی سختی کہ بچہ باغی ہو جائے، نہ اتنی نرمی کہ سر چڑھ جائے۔ امیر کی تقلید کے بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سکھاؤ۔ کفایت شعاری، قناعت، شکر اور صبر کا سبق دو۔ یاد رکھو، جو بچہ آج چپل میں خوش رہنا سیکھ لے گا، کل وہ پورے خاندان کو سنبھالے گا۔ اور جو بچہ آج ہی برانڈ کا غلام بن گیا، کل وہ اپنی عزت بھی بیچ دے گا۔
وما توفیقی الا باللہ
Comments
Post a Comment