ڈاکٹر انیس صدیقی: گل شگفتہ رو۔پر ایک نظر۔۔ ازقلم : واجد اختر صدیقی گلبرگہ کرناٹک۔
ڈاکٹر انیس صدیقی: گل شگفتہ رو۔پر ایک نظر۔
ازقلم : واجد اختر صدیقی گلبرگہ کرناٹک۔
9739501549
ڈاکٹر انیس صدیقی نہایت خاموش طبع،کم آمیز اور نام و نمود سے بے نیاز رہے ہیں۔میدانِ صحافت،تحقیق،ترتیب و تدوین اور اشاریہ سازی سے انہیں گہرا شغف رہا ہے۔ علاوہ ازیں وہ اردو کے قابل ترین اور فرض شناس استاد بھی رہے ہیں۔ جماعتِ اول تا پی یو کی سطح پر اردو کتابوں کے ترتیب کار کی حیثیت سے بھی موصوف کی شناخت انفرادی اور مستحکم ہے۔ موصوف جو بھی کام کا بیڑا اٹھاتے ہیں پایہ تکمیل کو نہ صرف پہنچاتے ہیں بلکہ کام میں عمدگی کی بھر پور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اپنے کام کے تئیں انکا بے پناہ involvement انکے مزاج کا حامل ہے۔ ادبی صحافت ہو کہ ادبی تحقیق یا پھرترتیب و تدوین کا کام ہی کیوں نہ ہو انکی سچی لگن ہی سنگلاخ راہوں کو ہموار کرنے کا ہنر رکھتی ہے۔ کرناٹک میں اردو صحافت،شب خون توضیحی اشاریہ، شمس الرحمان فاروقی علامتوں کے صحرا کا مسافر، افلاک، گلبرگہ میں شعر و ادب،سو تکلف اور اسکی سیدھی بات،خاکہ نگاری اردو ادب میں اور اشاراتِ صحافت آپکی گرانقدر اور قابلِ اعتبار تصنیفات اور تالیفات ہیں۔آپکی ایک اور اہم کتاب شمس الرحمان فاروقی کی وفیات نگاری عنقریب منظرِ عام پر آئیگی۔
ڈاکٹر انیس صدیقی نے جس موضوع پر بھی کام کیا ہے ایمانداری،غیر جانبداری اور بے باکی سے کام لیا ہے۔اور انہوں نے ہر بات کو مدلل اور مضبوط انداز میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔جہاں تک انکی زبان و بیان کا معاملہ ہے انہوں نے پوری مہارت کے ساتھ اظہارِ خیال کیا ہے۔ انکی تحریروں میں سادہ بیانی اور انکے خوش گوار لہجہ نے انہیں پختہ کار قلم کار بنایا ہے۔
ڈاکٹر انیس صدیقی: گل شگفتہ رو اظہر جمال کی شائع شدہ تصنیف ہے جو انکے ایم فل کے تحقیقی مقالے ڈاکٹر انیس صدیقی کی ادبی خدمات کی تلخیص ہے۔زیرِ نظر کتاب کی ابتدا مصنف نے ولی دکنی کے اس شعر سے کی ہے کہ:
جیوں گلِ شگفتہ رو ہیں سخن کے چمن میں ہم
جیوں شمع سر بلند ہیں ہر انجمن میں ہم
ڈاکٹر انیس صدیقی کی شخصیت اس شعر کی تفسیر معلوم ہوتی ہے چونکہ انیس صدیقی سخن کے باغ میں شگفتہ رو ہیں اور وہ ہر انجمن کی ایک تابندہ شمع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کتاب کا عنوان بھی اسی شعر کی ایک ترکیب سے لیا گیا ہے جو انتہائی خوبصورت ہے۔
میری نظر میں فنِ تحقیق ایک پیچیدہ عمل کا نام ہے جس میں محقق کو عرق ریزی سے کام لینا پڑتا ہے لیکن اظہر جمال ان معنوں میں بہت خوش نصیب ہیں کہ انہوں نے ایک محقق کی ادبی خدمات کو اپنی تحقیقی کا موضوع بنایا۔وہ بھی ایسا محقق جو تحقیق کی باریکیوں سے کما حقہ واقف کار ہے۔زندہ شخصیتوں پر کام کرنا آسان بھی ہے اور دشوار بھی۔لیکن انیس صدیقی کی شخصیت اخلاص کی پیکر، منکسر المزاج اور برد بار رہی ہے۔یقینا انہوں نے اظہر جمال کیلئے کئی آسانیاں بہم پہنجائی ہونگی۔
زیرِ نظر کتاب میں اظہر جمال نے ابجد۔ ا ب ج د کے اعتبار سے چار اہم ابواب بنائے ہیں بابِ اول الف میں انہوں نے ڈاکٹر انیس صدیقی سوانح و شخصیت کے عنوان سے انیس صدیقی کا خاندانی پس منظر،تعلیم و تربیت،اساتذہِ کرام نیز ادبی زندگی کے حالات کے علاہ انکی حیات و خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔بابِ دوم میں انہوں نے ڈاکٹر انیس صدیقی ادبی شناخت کے عنوان سے تحریر کرتے ہوئے چند ذیلی عنوانات قائم کئے ہیں جیسے تحقیق،ترتیب و تدوین، نصابی ادب، اشاریہ سازی، ادبی صحافت اور نثر نگاری کے عنوانات سے اظہر جمال نے مفصل اور مدلل ڈاکٹر انیس صدیقی کی ادبی حیثیت و ادبی وقارکو جامع انداز میں پیش کیا ہے جس سے انیس صدیقی کی میدانِ ادب میں قدر پیمائی بہ آسانی کی جاسکتی ہے۔بابِ سوم کتابیات اور بابِ چہارم میں انتخابِ تحریرکے عنوان سے انیس صدیقی کے پانچ اہم مضامین شاملِ اشاعت کیے گئے ہیں جس میں وفیات نگاری:ماہیت و فن،قومی تعمیر میں ادب و صحافت کا رول، کلاسیکی روایت کے امین:نیاز گلبرگوی،محمد اعظم اثر کچھ باتیں کچھ یادیں اور فیچر نگاری:واقعات سے تاثر کا سفر شامل ہیں۔ان مضامین کے مطالعہ سے انیس صدیقی کے تنقیدی جواہر بھی کھل کر سامنے آتے ہیں۔
صدر شعبہِ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کے پروفیسر سید رفضل اللہ مکرم نے پیش رس لکھتے ہوئے انیس صدیقی کو نرم دمِ گفتگو،گرم دمِ جستجو قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر نشاط احمد اسسٹنٹ پروفیسر یونیورسٹی آف حیدرآباد کے تاثرات بھی اس کتاب کی زینت بنے ہوئے ہیں۔بات اپنی کے تحت اظہر جمال نے انیس صدیقی کے تئیں اپنی عقیدت اور اپنے تحقیقی سفر کی طرف اشارہ کیا ہے۔
بہر کیف اظہر جمال نے اس کتاب کے ذریعہ اس بات کا واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ فنِ تحقیق و ترتیب سے بہ خوبی واقف ہیں۔جہاں جہاں انہوں نے انیس صدیقی کی شخصیت اور انکے فن پر اظہارِ خیال کرنے کی کوشش کی ہے وہیں پر انہوں نے قابلِ اعتبار حوالے بھی دیے ہیں۔اور ان حوالوں کے ذریعہ انہوں نے اپنے خیالات اور تاثرات کی تصدیق بھی کی ہے۔اور انہوں نے انیس صدیقی کی شخصیت کے پہلوؤں کو اور انکے واقعات کو ترتیب وار پیش کیا ہے۔اس کتاب کے مطالعہ سے انیس صدیقی کی شخصیت اور انکی ادبی خدمات کھل کر واضح ہوتی ہیں۔اس کتاب کی اشاعت پر میں انیس صدیقی کو اور اظہر جمال کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔184 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت200 روپیے ہے۔دیدہ زیب ٹائیٹل اور خوبصور ت صفحات پر شائع اس کتاب کے ناشر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤز دلی ہیں۔
Comments
Post a Comment