غزل - ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد۔


  غزل - 
ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد۔

تمھیں کیا بتاؤں کہ کیا کر رہا ہوں
دل مضطرب کی دوا کر رہا ہوں 

محبت خطا ہے اگر یہ ہے سچ تو
میں ہر دن خطا پر خطا کر رہا ہوں 

سبق بھول جاؤں نہ مکتب کا اپنے
تمھیں یاد اس سے سوا کر رہا ہوں

جو بخشا ہے تم نے محبت میں مجھکو
وہ زخم تمنا ہرا کر رہا ہوں

میں دولت کو اپنی دھوئیں میں اڑا کر
غم دل کو نذر ہوا کر رہا ہوں 

جو معنی وفا کے سمجھتا نہیں ہے
اسی بے وفا سے وفا کر رہا ہوں 

پسند اس کو آتا نہیں کام کوئی 
فراز اس کا پھر بھی کہا کر رہا ہوں 

سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد۔


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔