عورتوں اور مردوں کے مسائل - ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔
عورتوں اور مردوں کے مسائل -
ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔
میرا ٹیلیفون نمبر چونکه ہر سوسیل میڈیا پر موجود ہے اسلئے کئی لوگ مجھ سے رابطہ کرکے کچھ سوالات کرتے ہیں ۔ یہ سلسلہ عرصہ سے جاری ہے ، سب سے پہلے رابطه مصر والوں نے کیا ، مخاطب یا شیخ کہہ کر پکارتے تھے کہ فلاں نماز کیسے پڑھی جائے ، کیا عورت صلاۃ استسقا یعنی بارش کے لئے دعا میں شامل ہوسکتی ہے ؟ وہ کونسی نماز ہے جس میں دو رکوع ہوتے ہیں ۔ چاند گہن اور سورج گہن کی نماز میں دو رکوع ہوتے ہیں ۔
معلومات کے حساب سے ، ہم دو سجدے کرتے ہیں مگر صرف ایک رکوع کرتے ہیں ۔
كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعَامَكُمْ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّأُولِي النُّهَىٰ ﴿٥٤﴾سورۃ طہٰ
تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ، بیشک اس میں دانش مندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
۞ مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ ﴿٥٥﴾
(زمین کی) اسی (مٹی) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری مرتبہ (پھر) نکالیں گے
دو سجدوں کی وجہ ہے کہ پہلے سجدے میں اس بات کا اقرار ہے کہ اس مٹی سے ہم کو بنایا گیا ہے اور دوسرے سجدے کا مطلب یہ ہے کہ ہم واپس اسی مٹی میں مل جائیں گے ۔
اسی آیت کی روشنی میں تھوڑی جسارت کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ڈاروین کی تهوری آپ میں سے اکثر لوگ جانتے ہونگے ، اسانوں کا ارتقاء مٹی سے ہی شروع ہؤا ۔ مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ۔ مٹی میں سے تمہیں پیدا کیا۔ آدم کی معنی قدیم کے ہوتے ہیں۔ دنیا کے ہر پروسیس میں ایک چکر پورا ہے انسان واپس مٹی میں مل جاتا ہے ، وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ۔ اور اسی مٹی میں تمہیں پلٹ دینگے ۔ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ۔ اور دوبارا اسی مٹی سے اٹھائے جاؤگے ۔ یہ یوم قیامت میں اٹھنے والی بات ہے ۔
واپس لوٹتے ہیں سوالات جو خواتین اور مردوں کی طرف سے پوچھے جانے ہیں ، ویسے کچھ سوالات مجھے بیگم کی طرف سے ڈانٹ کی شکل میں ہوتے ہیں کیوں عورتوں سے بات کررہے ہو۔ کچھ عرصے سے میں مسلسل عورتوں کے حقوق پر خطبے دے رہا ہوں، اور عورتیں سوالات کرتیں ہیں ، ڈر رہا ہوں کہ اب کہیں مردوں کے ٹیلیفون نا شروع ہوجائیں کہ تم مردوں اور عورتوں میں فساد پھیلا رہے ہو ۔ جبکہ حقیقت میں میں عورتوں کو یاد دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کے حقوق کیا ہیں ۔
سب سے پہلے میں انھیں یاد دلادوں کہ گھر کے اخراجات مرد پر واجب ہیں ، یہ اس آیت کی تشریح کے۔ الرجال قوامون علا نساء یعنی مرد عورتوں کے ساتھ ہر حالات میں سپوڑٹ کریں گے ۔
سورۃ البقرہ آیت نمبر 32.
وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا ۖ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ ۚ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِن فَضْلِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿٣٢﴾
اور تم اس چیز کی تمنا نہ کیا کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لئے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لئے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
یہ بھی بڑے فساد کا موضوع بن سکتا ہے ، بہت ساری عورتیں بطور ٹیچر اسکولوں اور کالیجوں میں کام کرتی ہیں ، گھر کی ڈیوٹی تو قائم ہے، اس پر شوہر یہ کہے کہ لاؤ گھر کا خرچہ آپس میں بانٹ لیں تو مذہب میں اس بات کا کوئی جواز نہیں ،
اب تک تو صرف عورتوں کے فون آتے تھے ، مگر میرے خطباتِ سے مرد پریشان ہو کر یہ نا کہہ اٹھیں اب اس نے گھروں میں جھگڑے لگانا شروع کیا ہے ، میں تو صرف عورتوں اور مردوں کو ایک دوسرے کے حقوق یاد دلاتا ہوں ۔
جیسا کہ میں نے یہ بات قرآن سے واضح کئی کہ عورتوں اور مردوں کی تخلیق ایک ہی جین سے ہوئی ہے لہٰذا دونوں کے حقوق برابر ہیں مگرمرد صرف ایک درجہ زیادہ کا حق رکھتا ہے ، سورۃ البقرہ آیت نمبر 227.
وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗیہ درجہ طلاق کے متعلق ہے ، صرف مرد ہی طلاق دے سکتا ہے ، اور عورت کھلاء لے سکتی ہے۔ اس کی سائیکالوجی وجہ ہے ، عورتوں کو مہینے میں کچھ دن ایسے دور سے گذرنا پڑتا ہے جب انکی ذہنی کیفیت میں ہر بات میں جھنجلاہٹ ہوتی ہے ، بات بات پر طلاق ہوجانے کا ڈر ہے ، الله انسانوں کی ہر بات سے آگاہ ہے ۔
سورۃ الطلاق میں بہت تفصیل سے طلاق کے متعلق بیان ہوا ہے ، یہ میری کتاب میں پورا بیان ہے۔
پروفیسر مختارفرید
بھیونڈی مہاراشٹرا
Comments
Post a Comment