دکن کی شعری روایت کے امین خان شمیم کی نئی کتاب ’’خیال پرند‘‘ منظر عام پر ۔ چیئرمین سید حسین اختر کی خان شمیم سے خصوصی ملاقات، اردو ادب کے فروغ میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین۔


اورنگ آباد (نامہ نگار):دکن میں نظم کی تابندہ روایت کو پوری آب و تاب، فکری وقار اور فنی عظمت کے ساتھ آگے بڑھانے والے ممتاز شاعر، ادیب اور منفرد لب و لہجے کے خالق خان شمیم کی تازہ شعری تصنیف ’’خیال پرند‘‘ شائع ہو کر منظرِ عام پر آگئی ہے۔ اس شعری مجموعے میں شامل نظمیں اپنے منفرد اسلوب، تازہ فکر، اچھوتے موضوعات اور گہرے انسانی مشاہدات کے باعث اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ثابت ہوں گی۔گزشتہ دنوں خان شمیم کی رہائش گاہ پر ایک خصوصی ادبی ملاقات کا انعقاد عمل میں آیا، جہاں مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکادمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے ان سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت، تندرستی اور درازیٔ عمر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اس موقع پر معروف شاعر یوسف دیوان، شاعر و مترجم ڈاکٹر ذاکر خان، افسانہ نگار عظمت اقبال، ڈرامہ آرٹسٹ خالد قریشی، پورٹریٹ آرٹسٹ علی عمران اور ابرار احمد بھی موجود تھے۔ ادبی ماحول میں ہونے والی اس نشست کے دوران خان شمیم نے اپنی تازہ کتاب ’’خیال پرند‘‘ سید حسین اختر کو پیش کی۔اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سید حسین اختر نے کہا کہ خان شمیم کا شمار ان ادیبوں اور شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تخلیقی بصیرت اور فکری دیانت داری سے اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "خان شمیم جیسے اہلِ قلم اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ایسے بزرگ شعرا اور ادبا کو ان کی زندگی ہی میں وہ عزت، احترام اور مقام ملنا چاہیے جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نئی نسل کے لکھنے والوں کو خان شمیم جیسے تجربہ کار اور صاحبِ فکر ادیبوں سے مسلسل سیکھتے رہنا چاہیے، کیونکہ ادبی روایات اسی وقت زندہ رہتی ہیں جب ایک نسل اپنے علمی و ادبی سرمایہ کو اگلی نسل تک پوری دیانت داری کے ساتھ منتقل کرے۔ اگر نوجوان قلم کار اپنے بزرگوں کے تجربات اور مشاہدات سے استفادہ کریں گے تو اردو ادب نہ صرف اپنی روایت کو برقرار رکھ سکے گا بلکہ مزید ترقی اور وسعت بھی حاصل کرے گا۔ادبی حلقوں نے خان شمیم کی تازہ تصنیف ’’خیال پرند‘‘ کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ کتاب اردو نظم کے قارئین میں مقبول ہوگی اور دکن کی شعری روایت کو مزید استحکام بخشے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔