کربلا: صبر، قربانی اور حق پر استقامت تحریر: شعیب احمد محمدی۔


کربلا: صبر، قربانی اور حق پر استقامت
تحریر: شعیب احمد محمدی_

تمہید: 
10 محرم الحرام 61 ہجری کا دن امت کے لیے "آزمائش" کا دن ہے۔ کربلا کا میدان ہمیں 3 چیزیں سکھاتا ہے: حق پر ڈٹ جانا، باطل کے آگے نہ جھکنا، اور اللہ کی رضا کے لیے ہر قربانی دینا۔ یہ واقعہ فرقہ واریت کے لیے نہیں، اتحاد کے لیے ہے۔
_کربلا کیسے بنی؟ کیا وجہ بنی؟
کربلا کوئی اچانک ہونے والا حادثہ نہیں تھا۔ یہ 2 وجوہات کا نتیجہ تھا جن سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے:

وجہ 1: کوفہ والوں کا دوغلا پن
کوفہ والے وہی تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا، پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے صلح کروائی، پھر حضرت مسلم رضی اللہ عنہ سے 18 ہزار بیعتیں لیں۔ لیکن جب امتحان آیا تو دنیا کے خوف سے پیچھے ہٹ گئے۔ قرآن نے ایسے لوگوں کو "متذبذبین" کہا ہے - نہ ادھر کے، نہ ادھر کے۔ کربلا پوچھتا ہے: ہم بھی تو وعدہ کر کے مکر جاتے ہیں؟

وجہ 2: حق پر سمجھوتے کا دباؤ
یزید کے دربار سے پیغام تھا: "بیعت کر لو، عہدے لے لو، مال لے لو"۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے 2 راستے تھے: 1. خاموش ہو کر عیش کی زندگی، 2. آواز اٹھا کر شہادت کی موت۔ آپ نے فرمایا: "ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے"۔ یعنی کربلا کی اصل وجہ یہ تھا کہ ایک شخص نے "اصول" کو "مصلحت" پر قربان نہیں کیا۔

نتیجہ: جب قومیں وعدہ توڑتی ہیں، جب حکمران دین کو کھیل بناتے ہیں، جب علماء خاموش ہو جاتے ہیں - تو کربلا جنم *لیتا ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں "کربلا" اسی وقت بنتا ہے جب ہم رشوت کو "مجبوری"، جھوٹ کو "مصلحت"، اور حق کو "فالتو بات" کہہ دیتے ہیں۔

1. کربلا کی حقیقت - متفقہ نکات
1. نواسہ رسول کی شہادت:_ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے نواسے ہیں۔ آپ کی شہادت امت کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے۔  
2. _ظلم کے خلاف آواز: حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزیدی حکومت کے ظلم، شراب، اور شریعت سے بغاوت پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا۔ فرمایا: "میں اصلاح کے لیے نکلا ہوں"۔  
3. اہلِ بیت کی قربانی:_ کربلا میں رسول اللہ ﷺ کے گھرانے کے بچے، بوڑھے، جوان سب نے پیاس، بھوک، اور شہادت برداشت کی۔
دیوبندی علماء کا موقف: اکابرین دیوبند جیسے مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ، مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے لکھا کہ یزید کے لشکر کا فعل ظلم اور گناہ تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ حق پر تھے۔ مگر ساتھ یہ بھی کہ کسی صحابی یا مسلمان کو لعن طعن کرنا شریعت میں منع ہے۔

2. کربلا سے 3 سبق ہر مسلمان کے لیے
سبق 1: اصول پر سمجھوتہ نہیں  
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو حکومت مل سکتی تھی اگر بیعت کر لیتے۔ مگر آپ نے فرمایا: "موت عزت کے ساتھ بہتر ہے ذلت کی زندگی سے"۔ آج ہم چھوٹے مفاد کے لیے جھوٹ بول دیتے ہیں۔ کربلا پوچھتا ہے: تمہارے اصول کہاں ہیں؟

سبق 2: عورتوں کا صبر  
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کربلا کے بعد کوفہ و شام کے دربار میں جو خطبے دیے، وہ "حق کی گواہی" ہیں۔ پردے میں رہ کر، مصیبت میں رہ کر بھی دین کی بات کی۔ آج کی مائیں، بیٹیاں ان سے صبر سیکھیں۔

سبق 3: فرقہ واریت حرام ہے_  
کربلا کو گالی گلوچ، لعن طعن کا ذریعہ بنانا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ آپ نے فرمایا تھا: "میں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے نہیں آیا"۔  
لھذا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سب ہمارے سر کے تاج ہیں۔

3. محرم میں کیا کریں؟ کیا نہ کریں؟

کریں:
1. 9 اور 10 محرم کا روزہ رکھیں، یا 10 اور 11 محرم کا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہ مٹا دیتا ہے"۔  
2. صدقہ خیرات کریں - یتیموں، بیواؤں کی مدد کریں۔  
3. حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت پڑھیں۔  

نہ کریں: 
1. لعن طعن:_ کسی صحابی، کسی مسلمان کو برا بھلا کہنا گناہ ہے۔  
2. خرافات: ماتم، زنجیر زنی، ڈھول تاشے - یہ شریعت میں نہیں۔ 
3. فرقہ وارانہ تقریر: منبر کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہ کریں۔

خاتمہ: کربلا کا پیغام
کربلا ماتم کا نہیں، عمل کا نام ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے خون دے کر یہ پیغام دیا: "حق پر چلو، چاہے تنہا رہ جاؤ۔ باطل سے سمجھوتہ مت کرو، چاہے جان چلی جائے"۔
آج ہمارا کربلا "نفس" ہے، "حرام کمائی" ہے، "جھوٹ" ہے، "بداخلاقی" ہے۔ ہمیں روز اپنا نفس مارنا ہے، اپنے اندر کے یزید کو شکست دینی ہے۔
اللہ ہمیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سچا پیروکار بنائے۔ آمین۔  
`وَمَا تَوْفِیقِیْٓ اِلَّا بِاللّٰہِ`

---

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔