دینی و عصری تعلیم کا سنگم جامعہ فیضان الرشاد تماپور۔از۔قلم ۔۔۔۔۔ ہاشم تماپوری۔
دینی و عصری تعلیم کا سنگم جامعہ فیضان الرشاد تماپور۔
از۔قلم ۔۔۔۔۔ ہاشم تماپوری۔
شہرِ تماپور کی سر زمین علمی میدان میں ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے یہاں کی مٹی کی خوشبو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے چاہے عصری تعلیم ہو ہ یا پھر دینی تعلیم دونوں اعتبار سے تماپور کی زمین سرسبزو شاداب رہی ہے یہی وجہ ہے کہ اسی مٹی سے صوفیت کی اعلیٰ سے اعلیٰ مثال ملتی ہے تو وہیں دوسری طرف ہندوستان کے خلائی سفر میں تک یہاں کی گونج سنائی دیتی ہے ۔ہندوستان کے خلائی مشن چندریان نامی مشن کے ذریعے یہاں کی صلاحیتیں چاند تک اپنے نقوش چھوڑنے میں کامیاب رہی۔ کسی بھی میدان میں شہرِ تماپور پیچھے نہیں رہا ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے نقوش چھوڑے ہیں۔ شہرِ تماپور کی بات عالمی سطح پر کیجاتی ہے ۔ انہیں میں سے نایاب مثال اک یہ بھی ہے کہ جامعہ فیضان الرشاد شہر تماپور کا اک دینی مرکز ہے اس ادارے نے اک قدم آگے بڑھاتے ہوئے سماج اور معاشرہ میں اپنی ساخت کو اک دینی مرکز تک محدود نہیں رکھا بلکہ بدلتے زمانے کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اور اکابرین کی سرپرستی و نگرانی میں گذشتہ پندرہ سال سے علاقہ کی علمی کمی کو دور کرنے میں مؤثر کردار نبھارہا جہاں پر نصاب تعلیم میں (قاعدہ, ناظرہ قرآن مجید ,حفظ قرآن مجید, احادیث, دعائیں ,نماز وغیرہ)کے علاوہ قابل ستائش بات یہاں پر یہ ہے کہ قرآن کریم کی صفحہ نمبر، رکوع نمبر، متشابہات جیسے آیات کی خصوصی مشق کرائی جاتی ہے جسکا جیتا جاگتا ثبوت طلباء کںٔی سالانہ اجلاس اور تعلیمی مظاہرہ جیسے پروگراموں میں دے چکے ہیں بچوں کی تربیت سازی و شخصیت سازی پر خاص توجہ دی جاتی ہے جس میں ہفتہ و مہانہ واری محفلیں ، جاںٔزہ میٹنگ ، پیرنٹ میٹنگ وغیرہ شامل ہیں ۔
مدرسہ پَلس ( یعنی مدرسہ کی چاردیواری میں اسکول کا تعلیمی نظام )
اکثر مدارس دینی تعلیم تک ہی محدود رہتے ہیں عصری تعلیم کا کوئی مؤثر انتظام نہیں ہوتا اس ادارے نے اک نںٔی پہل شروع کی جو روایت سے ہٹ کر علاقے میں جسکی اشد ضرورت تھی یعنی مدرسہ کے طلباء کو عصری تعلیم سے بھی آراستہ کرنا اور ہنرمندی میں بھی آگے بڑھانا یہ وقت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ علاقے کی تشنگی بھی تھی جسے بخوبی انداز میں انجام دینے میں حضرت مولانا سعادت حسین صاحب دلدار رشادی مؤثر کردار ادا کررہے ہیں جسکی مثال بہت کم ملتی ہے۔ مولانا نے عالمیت سے صرف سندِ فراغت نہیں بلکہ مشن اور ویژن لے کر لوٹے اپنے آبائی وطن آکر گولڈن اسٹار انگلش میڈیم اسکول قائم کیا ساتھ ہی مدرسہ جامعہ فیضان الرشاد کا بھی قیام عمل میں آیا جس کے سر پرست و بانی مولانا کے والد افسر حسین صاحب دلدار رہے اس ادارے کی خصوصیات یہ رہی کہ بچے دینی تعلیم کو بخوبی انجام دیتے ہوئے عصری تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دے سکتے۔ بچے حافظ قرآن کے ساتھ ساتھ اسکول کا سرٹیفکیٹ لے کر سندِ فراغت سے سرفراز ہوتے ہیں ۔کںٔی طلباء اس ادارے سے فارغ ہوکر دین کی خدمت میں مصروف ہیں کچھ حافظ کورس مکمل کرکے عالمیت کے لئے مولانا کی سرپرستی میں دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کا رُخ کںٔے ہوئے ہیں اور کںٔی عصری تعلیم میں اعلیٰ سے اعلیٰ ڈگری حاصل کررہے ہیں ۔
مولانا کی قابلِ ستائش بات یہ ہے کہ بے شمار لڑکیوں کے مدارس تو اپنی جگہ چل رہے لیکن اس میں والدین دورِ حاضر میں بگڑتے معاشرے اور حالات کو دیکھ کر مدرسہ میں چار پانچ سال خود سے دور رکھنے سے قاصر ہیں اور خراب ماحول میں مرتد ہورہی بچیاں یہ سب حالات کی مدنظر معاشرتی اصلاحی پہلو کو دھیان میں رکھتے ہوئے مولانا نے مرکزِ نسواں کی ضرورت کو محسوس کیا اور اس کا قیام جامعہ الرشاد للبنات (مرکزِ نسواں) کے نام سے کیا
جس میں اسکول و کالج کی طالبات ، گھریلو خواتین یا پیشہ ورانہ خواتین اپنے فارغ وقت کو دین سیکھنے بہتر زندگی بنانے میں صرف کرسکتیی ہیں جس میں مومنہ کورس ،داعی کورس جیسے کورس شامل ہیں یہی وجہ رہی بہت جلد عوام میں اس پہل کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی اور تحریک کی طرح بڑی تعداد میں خواتین اس سے جڑ رہی ہیں۔ جس میں زیادہ تر تعداد اسکول وکالج کی طالبات اور گھریلو خواتین شامل ہیں ۔
مولانا کی نںٔی سوچ نںٔے ویژن نے علاقے کی تعلیمی رجحان کو اک نںٔی سمت دی ہے۔
شہرِ تماپور میں مدرسہ اک خصوصیت کا حامل ہے مدرسے کے ذریعے کںٔی اک پروگرام ، سماجی خدمات، اصلاح معاشرہ جیسے اہم کام کامیابی سے انجام دیںٔے جاتے رہے ہیں ۔ مدرسہ گذشتہ پندرہ سال سے دینی و عصری تعلیم کی درمیان اک بریج کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیشہ اس ادارے کو قائم ودائم رکھے اور سرسبز و شاداب رکھے ۔آمین
از۔۔۔۔۔۔ہاشم تماپوری
Comments
Post a Comment