شہادتِ امام حسینؓ اور احیائے خلافت کے عنوان پر وحدتِ اسلامی اکولہ کا موثر خطاب عام : خلافت کا قیام امت مسلمہ کا اولین فریضہ۔
اکولہ (پریس ریلیز): مقامی مومن پورہ مسجد میں دین کی سربلندی اور نظامِ خلافت کی بیداری کے لیے وحدتِ اسلامی اکولہ کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان خطاب عام کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان *"شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ اور احیائے خلافت"* تھا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض انجینئر سید راحیل نے انتہائی احسن انداز میں انجام دیے۔
معزز مہمانانِ گرامی کی تشریف آوری :
اس باوقار تقریب میں مقتدر شخصیات نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جن میں درج ذیل نامور شخصیات شامل تھیں:
محترم سید سہیل صاحب (ضلعی ناظم، وحدت اسلامی اکولہ)
محترم شہزاد احمد خان صاحب (مقامی ناظم)
محترم مولانا طفیل احمد صاحب ندوی (صدر، کل جماعتی تنظیم اکولہ)
محترم مولانا مظفّر علی صاحب مظاہری (نائب صدر، کل جماعتی تنظیم اکولہ)
خطاب عام کا آغاز قاری افروز امانی کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔
پروگرام کے کلیدی مقرر *انجینئر اسرار احمد صاحب (ممبئی)* نے اپنے خطاب سے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی:
شہادتِ امام حسینؓ کی اصل روداد: انہوں نے معرکہِ کربلا اور نواسہِ رسولؐ کی عظیم قربانی کے تاریخی پس منظر کو جذباتی اور فکری انداز میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قربانی محض ایک جنگ نہیں بلکہ باطل کے خلاف حق کا اعلان تھی۔
دین میں خلافت کی اہمیت: مقرر نے قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیا کہ خلافت صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ دینِ اسلام کا وہ مروجہ ڈھانچہ ہے جس کے بغیر احکامِ الٰہی کا مکمل نفاذ ممکن نہیں۔
خلافتِ راشدہ کا نمونہ اور حسینی جہدوجہد: انجینئر اسرار احمد نے خلافتِ راشدہ کے سنہرے دور کا نقشہ کھینچا اور بتایا کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی جدوجہد کا اصل مقصد ملوکیت (شاہی نظام) کا خاتمہ اور اسی "خلافت علیٰ منہاج النبوۃ" کا احیاء و تسلسل تھا، جس کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
پروگرام کے آخری مرحلے میں مولانا مظفّر علی صاحب مظاہری نے دعائیہ کلمات پیش کیے۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، احیائے دین، اور ملوکیت کے خاتمے کی اجتماعی دعا پر اس پروقار "خلافت ڈے" کا کامیابی کے ساتھ اختتام عمل میں آیا۔ سامعین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
Comments
Post a Comment