حضرت مولانا محمد فاروق ملی صاحب کا اجمالی تعارف۔ از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)


حضرت مولانا محمد فاروق ملی صاحب کا اجمالی تعارف۔
از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں) 
زیرِ اہتمام مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ بڑا قبرستان مالیگاؤں_ 
انسان کے اندر تحقیق و جستجو کا مادہ پنہاں ہوتا ہے، جو حجابات اٹھاکر پوشیدہ چیزوں کو نمایاں کرتاہے، اور یہی مادہ سمندر کی گہرائیوں میں لؤلؤ اور مرجان کی تلاش اور خلاؤں کے سربستہ رازوں کو آشکارا کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اسی مادہ کی بنیاد پر انسان اپنے بڑوں، بزرگوں، اہلِ علم، خُدامِ دین اور اسلاف کے حالات، کمالات، عروج اور تابندہ کارناموں سے آشنا ہونے کا خواہاں ہوتا ہے، کیوں کہ باکمال افراد و شخصّیات  کے حالات کی تحقیق و تفتیش اور مطالعہ میں عبرت و نصیحت کے ساتھ عقیدت و محبت کے جذبات بھی شامل ہوتے ہیں، شہرِ عزیز مالیگاؤں میں تقریباً چار دہائیوں سے اپنی علمی و فکری جولانی اور شیریں بیانی سے عوام کے درمیان ایک نمایاں مقام بنانے والی بلند ترین شخصیت حضرت مولانا محمد فاروق ملی صاحب کی ذاتِ گرامی ہیں ، اس مختصر سی تحریر میں، مولانا موصوف کے سوانحی خاکہ کو اجمالی طور پر زیبِ قرطاس کرنے کی کوشش کی گئی ہے،
⬜*خصائل و محاسن*⬜  شہرِ عزیز مالیگاؤں میں مولانا کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں! ہر ایک ان کی ذات اور عمدہ صفات سے واقف ہیں، مولانا کا اندازِ ملاقات بڑا نرالا ہے، کہ ہر ایک سے تبسّم آمیز چہرے سے ملاقات کرناجس سے تواضع و فروتنی، سادگی و سنجیدگی اور اپنائیت و ملنساری آشکارا ہوتی ہے، علاوہ ازیں سفید لباس میں ملبوس ہوکر البسوا من ثیابکم البیاض فانھا من خیر ثیابکم ( سنن ابی داؤد) پر عمل پیرا رہتے ہیں نیز ہمہ وقت پیدل چلتے ہیں، یقیناً یہ پا پیادہ کی صفت موجودہ زمانے میں اہلِ علم کے لیے ایک نمونہ ہے ان کے علاوہ بہت ساری خوبیاں ہیں جو ملاقات سے مترشّح ہوتی ہے،
⬜*تاریخ پیدائش و ابتدائی تعلیم* ⬜
مولانا موصوف کا اسم گرامی فاروق احمد (اور مشہور محمد فاروق) والد کا نام عبدالوہاب اور دادا کا نام مسعود احمد مستری ہے آپ کی پیدائش شہرِ عزیز کے معروف محلہ بیلباغ میں 1 جون 1967 میں ہوئی، ابتدائی نوشت و خواندگی گھر کے دینی ماحول اور قریب کی مسجد میں ہوئی، پھر عصری علوم سے وابستگی کے لیے پرائمری اسکول (چونا بھٹی) میں داخل ہوئے یہاں پر چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کیں، پڑھائی میں بڑے تیز اور ذہین تھے اپنے ہم کلاس ساتھیوں سے ہمیشہ ممتاز رہے، اور شہری سطح پر تقریری مقابلہ میں ہمیشہ ایک نمبر سے کامیاب ہوئے 
⬜*دینی تعلیم و فراغت*⬜
 خالقِ کائنات نے نوشتۂ ازل میں لکھ دیا تھا کہ آپ علمِ دین سے متصف ہوگے اس لیے آگے ایسے اسباب مہیا کردیئے کہ آپ دینی تعلیم کی طرف مائل ہوگئے، چوں کہ اس وقت معھد ملت کا غُلغلہ عروج پر تھا اور نابغۂ روز گار شخصیات مسندِ تدریس پر جلوہ گر تھیں، مولانا محمد فاروق ملی نے 1979 میں داخلہ لیا اور محنت، لگن، ذوق و شوق مطالعۂ کتب اور علمی انہماک کے ساتھ درسِ نظامی کی تکمیل کیں اور 1986 میں شعبۂ عالمیت سے فراغت حاصل کی،
⬜*حفظِ قرآن پاک سے متصف*⬜
تحصیلِ فراغت کے فوراً بعد حافظ بشیر احمد ملی صاحب رح کی کلاس میں داخلہ لیا اور تقریباً 120 دن (چار ماہ) میں حفظ قرآن کی تکمیل کیں، یہ بھی فضلِ خداوندی ہے ورنہ ہمارے بعض اکابر ایسے گزرے ہیں جن کا حافظہ اور قوتِ یاد داشت امام احمد بن حنبل رح، امام بخاری رح، علامہ إبن حجر عسقلانی رح، اور علامہ شمس الدین ذہنی رح وغیرہ کی یاد کو تازہ کرتا تھا مگر وہ حافظ قرآن نہیں تھے،
⬜*امامتِ تراویح و تدریسی خدمات*⬜
تکمیلِ حفظِ قرآن کے بعد تسلسل کے ساتھ بلا ناغہ 33 سالوں تک مختلف مقامات پر مثلاً منماڑ، چاندوڑ، کوپر گاؤں، انتا پور، ملیر دیہوڑ اور مالیگاؤں وغیرہ میں تنِ تنہا قرآن پاک کو سنایا ابھی گزشتہ 8 سالوں سے یہ سلسلہ موقوف ہے اسی طرح  1990 سے مدرسہ رمضانی (آزاد نگر) میں نونہالوں کی ذہنی و اخلاقی کردار سازی اور علمی آبیاری میں منہک ہیں، یہاں تدریسی دورانیہ 36 سالوں پر محیط ہے، نیز بعدِ نماز مغرب مدرسہ احسن القرآن ( شاہی مسجد) میں گزشتہ 25 سالوں سے امت کے معصوم بچوں کے دل و دماغ کی سادہ تختیوں پر تعلیماتِ قرآن کے نقش و نگار کندہ کررہے ہیں، بچوں کو پڑھانا یقیناً بڑے مجاہدہ کا کام ہے،
⬜*درس قرآن و سحر بیانی*⬜
قرآن پاک کے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وَلاَ تَنْقَضِی عَجَائِبَهُ (ترمذی)  اس کے حیرت انگیز مضامین کبھی ختم نہیں ہوسکتے، یعنی اس کے الفاظ و اسالیب میں پنہاں اسرار و حکم کے اتھاہ خزانے کبھی ختم نہیں ہوسکتے یقیناً یہ کلامِ الٰہی کا اعجاز ہے، حضرت مولانا محمد فاروق ملی صاحب گزشتہ 26 سالوں سے مکمل تیاری، پابندئ اوقات اور تسلسل کے ساتھ جونی مسجد (بیل باغ) میں درس قرآن دے رہے ہیں فی الحال 26 واں پارہ جاری ہے،  درسِ قرآن کے لیے پختہ مطالعہ ضروری ہے، بغیر مطالعہ کے آدمی درس دے نہیں سکتا گویا درس قرآن ذوق مطالعہ کو پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے، بل کہ درسِ قرآن سے خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں، اسی طرح مولانا موصوف شیریں بیاں مقرر  بھی ہے شہر کی مختلف مساجد میں نمازِ جمعہ سے قبل آپ کی فکر انگیز اور دلپذیر تقاریر ہوتی ہے، بل کہ مہینوں قبل آپ کے بیانات طے رہتے ہیں نیز دینی جلسے و اجتماعات میں بھی بطورِ مقررِ خصوصی اور ناظمِ جلسہ کے لیے آپ کو مدعو کیا جاتا ہے، تقریر اور نظامت بھی ایک فن ہے آپ دونوں فن میں ماہر ہیں، 
⬜*اصلاحی تعلق*⬜
آپ نے اپنا اصلاحی تعلق ملک کے نامور و بزرگ عالمِ دین، بلند نسبتوں سے معمور امیرِ شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رح سے قائم کیا ہے اور خوانِ سلوک و احسان سے وافر مقدار میں فائدہ اُٹھایا آج بھی آپ اوراد و وظائف کے ساتھ اسی طریق پر کاربند ہے،
⬜*اساتذۂ کرام*⬜
آپ کے اساتذہ کرام کی ایک طویل فہرست ہے مگر چیدہ اساتذۂ کرام جن کے آبِ دہن سے آپ نے علوم دینیہ اور فنونِ ادبیہ کی پیاس بجھائی  مثلاً مولانا محمد حنیف ملی رح مولانا محمد شفیع صاحب رح مولانا نصیر احمد ملی صاحب رح  مولانا نہال احمد ملی صاحب رح مولانا جاوید احمد ملی صاحب رح، حافظ بشیر احمد ملی صاحب رح قاضی عبدالاحد ازہری صاحب رح مولانا ادریس عقیل ملی صاحب، مولانا اقبال احمد ملی صاحب، حافظ یعقوب بشارتی صاحب قاری مختار احمد ملی صاحب وغیرہ حضرات قابلِ ذکر ہیں، حضرت مولانا محمد حنیف ملی صاحب رح اور حضرت مولانا قاضی عبدالاحد ازہری رح آپ کے خالہ زاد بھائی ہے، جس سے بلند علمی نسبتیں آشکارا ہوتی ہے 
⬜*مجلس ابنائے قدیم کا قابلِ قدر اقدام* ⬜
حرمین شریفین کی دید سے اپنی چشمِ خاص کو معطر کرنا ہر اہلِ ایمان کی دلی تمنا و چاہت ہوتی ہے، بعض حاضری سے محروم اسباب و وسائل کے ناہونے کے سبب، بے چین و بے قرار ہوتے ہیں اور بچشمِ گریاں حضورِ خدا التجا کرتے ہیں کہ خدایا حاضری کے لیے ہمیں بھی قبول فرما! مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ بڑا قبرستان کا قابلِ قدر و قابلِ تحسین اقدام کہ انہوں حضرت مولانا محمد فاروق ملی صاحب کی خدماتِ جلیلہ و عظیمہ کے بنیاد پر سفرِ عمرہ کا گرانقدر تحفہ عطا کیا یقیناً یہ بڑی نیکی ہے نیز 30 جون 2026  بروز منگل بعد نماز عشاء حبیب لانس میں ایک استقبالیہ تقریب کا انعقاد ہوگا جس میں مولانا محمد فاروق ملی صاحب اور مولانا ابو اسامہ یوسفی صاحب کا اعزاز و استقبال ہوگا یقیناً اس اقدام پر مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ کے صدر و اراکین خصوصاً مولانا سفیان احمد جمالی صاحب اور ان کے رفقائے کار مبارک کے مستحق ہیں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی جمیلہ و کاوشات عظیمہ کو قبول فرمائے آمین 

منجانب مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ بڑا قبرستان مالیگاؤں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔