صفائی ستھرائی ایمان والوں کی فطرت ہے - ایامِ قربانی میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں_ از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔ (استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)


صفائی ستھرائی ایمان والوں کی فطرت ہے - 
ایامِ قربانی میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں_ 
از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔  
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں) 

مذہبِ اسلام نے جس اہتمام اور تاکید کے ساتھ صفائی ستھرائی پر زور دیا اُتنا کسی نے بھی نہیں دیا بل کہ مذہبِ اسلام میں نظافت و نفاست کو نصفِ ایمان قرار دیا ہے، امام مسلم رح نے اپنی صحیح میں حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضو اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الطُّھُورُ شطرُ الایمان (مسلم شریف جلد ١ صفحہ ١١٩ کتاب الطہارة باب فضل الوضوء) پاکی نصف ایمان ہے، اس روایت میں پاکی کو نصفِ ایمان قرار دیا ہے اس کا کیا مطلب؟ چناں چہ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رح نے اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ، ایمان مُکفّرِ سیئات ہے، صغائر اور کبائر دونوں اس سے معاف ہوجاتے ہیں، اور طہارت بھی مُکفّرِ سیئات ہے، لیکن اس سے صرف صغائر ہی معاف ہوتے ہیں تو اس لیے کہ ایمان صغائر اور کبائر دونوں کے لیے مُکفّر ہے اور طہارت ان میں سے ایک قسم یعنی صغائر کے لیے مُکفّر ہے، اس لیے طہارت کو شطر الایمان اور نصف الایمان کہہ دیا گیا ہے، (نفحات التنقیح فی شرح مشکوة المصابيح جلد٢ صفحہ ٣ ) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تَنَظَّفُوا بِکُلِّ مَا اسْتَطَعْتُمْ فإنَّ اللّٰهَ تعالیٰ بَنَی الإسْلَامَ عَلی النَّظَّافَةِ
( الجامع الصغير فی احادیث البشير النّذیر للسیوطی صفحہ ٢٠٢ رقم الحدیث ٣٣٦٩ ) 
ہر ممکن نظافت اختیار کرو اس لیے کہ اسلام کی بنیاد نظافت (صفائی ستھرائی ) پر ہے، نظافت و نفاست ہی کی بنیاد پر اہلِ ایمان اور دیگر ادیان کے ماننے والوں میں فرق واضح ہوجاتا ہے، کہ مسلمان نفاست پسند ہوتا چناں چہ حضرت عامر بن سعد روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ پاک ہیں، اور پاکی کو پسند کرتے ہیں، صفاف ہیں اور صفائی ستھرائی کو پسند کرتے ہیں مہربان ہیں اور مہربانی کو پسند کرتے ہیں، سخی اور فیاض ہیں اور جود و سخا کو پسند فرماتے ہیں، پس اپنے گھروں کے صحن (گھر کے سامنے کا میدان، یعنی آنگن مراد) کو صاف ستھرا رکھو اور یہود سے مشابہت اختیار نہ کرو، جو گندگی کو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہیں ( المطالب العالیہ لإبن حجر عسقلانی رح رقم الحدیث ٢٢٠٧، ترمذی شریف) یعنی گندگی وغیرہ کے دلدادہ غیر ایمان والے ہوتے ہیں، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ مسلمان مجموعی طور پر صفائی ستھرائی کا خیال دیگر اقوام سے زیادہ رکھتے ہیں، چوں کہ عیدالاضحٰی کی آمد قریب ہے، گزشتہ عیدالاضحٰی کے موقع پر بھی ہم نے صفائی ستھرائی کا اہتمام کیا تھا، ہمیشہ کی طرح امسال بھی ہم صفائی ستھرائی کا اہتمام کریں گے کیوں نظافت و نفاست مسلمانوں کی عادت، فطرت اور پہچان ہے،

منجانب ادارہ پیغامِ جامعی مالدہ شیوار مالیگاؤں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔