اقلیتی امور سے متعلق اہم مسائل پر نائب وزیراعلیٰ سنیترا اجیت پوار کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی اجلاس۔
اقلیتی امور سے متعلق اہم مسائل پر نائب وزیراعلیٰ سنیترا اجیت پوار کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی اجلاس۔
ممبئی، 3 جون: بھیونڈی ایسٹ کے رکنِ اسمبلی رئیس قاسم شیخ کی درخواست پر سہادری گیسٹ ہاؤس میں نائب وزیراعلیٰ حکومتِ مہاراشٹر سنیترا اجیت پوار کی صدارت میں اقلیتی امور سے متعلق ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں این سی پی (اجیت پوار گروپ) کی رکنِ اسمبلی ثناء ملک سمیت مختلف اقلیتی اداروں اور تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے آغاز میں رئیس قاسم شیخ نے اقلیتی محکموں میں بڑے پیمانے پر خالی اسامیوں کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ مارٹی (MARTI) میں 106 منظور شدہ عہدوں میں سے صرف 6 پر تقرری ہوئی ہے، جس کے باعث تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بھیونڈی جیسے پسماندہ علاقوں میں تربیتی مراکز کے قیام اور مارٹی میں سینئر آئی اے ایس افسر کی تقرری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت اقلیتوں کے لیے پالیسیاں اور بجٹ تو منظور کرتی ہے، مگر ان کے مؤثر نفاذ پر توجہ نہیں دی جاتی۔
وقف بورڈ سے متعلق گفتگو میں رئیس شیخ نے وقف املاک کا مکمل سروے کرکے انہیں سرکاری پورٹل پر اپ لوڈ کرنے، مارکیٹ ویلیو درج کرنے اور کرایوں کو موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وقف کی پرانی عمارتوں کی تعمیرِ نو کے لیے بھی شفاف پالیسی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر نائب وزیراعلیٰ سنیترا اجیت پوار نے کہا کہ وقف سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اقلیتی ارکانِ اسمبلی اور متعلقہ نمائندے باہمی مشاورت سے متفقہ تجاویز حکومت کے سامنے پیش کریں تاکہ ضروری اصلاحات اور اقدامات کیے جا سکیں۔
اجلاس میں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے خالی عہدوں کی فوری بھرتی، دفتر کی تزئین و آرائش کے بعد افتتاح، سالانہ فنڈ کے مؤثر استعمال، طلبہ کے لیے ادبی و تعلیمی پروگراموں کے انعقاد اور 29 اکتوبر 2025 کے حکومتی فیصلے کے مطابق اکیڈمی کی فوری تشکیلِ نو کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اس موقع پر اردو کارواں کے صدر فرید احمد خان نے اردو اکیڈمی اور اردو گھروں سے متعلق مسائل پیش کرتے ہوئے ایک تفصیلی مکتوب نائب وزیراعلیٰ کے حوالے کیا۔
رئیس قاسم شیخ نے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (TISS) کی جانب سے اقلیتوں کی سماجی و تعلیمی پسماندگی سے متعلق مجوزہ سروے کی یاد دہانی بھی کرائی اور اقلیتی مسائل کے جائزے کے لیے تمام ضلع کلکٹروں کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔
جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے انچارج شبیر شیخ نے مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر روشنی ڈالی، جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اقبال چونا والا نے وقف ٹریبونل میں ججوں کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث وقف کے مقدمات برسوں سے زیرِ التوا ہیں۔
رئیس شیخ نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ مولانا آزاد کارپوریشن میں مرکزی حکومت کی حصہ داری سے متعلق خصوصی اجلاس منعقد کرکے فنڈز کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اقلیتی طبقے کے زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد کو سرکاری اسکیموں کا فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اجلاس میں وقف بورڈ، مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن، اقلیتی کمیشن، مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی اور محکمہ اقلیتی امور کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔ بھیونڈی سے پرنسپل صابر شیخ نے بھی اجلاس میں شرکت کرکے اپنے نکات پیش کیے۔
شیواجی نگر مانخورد کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے میٹنگ میں آن لائن شمولیت کی اور اپنے نکات رکھے ۔جس پر حکومت کی جانب سے تحریری جواب کی یقین دہانی کرائی گئی۔
اختتام پر نائب وزیراعلیٰ سنیترا اجیت پوار نے سب کا شکریہ ادا کر رئیس قاسم شیخ کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف مسائل پر تفصیلی اور اطمینان بخش جوابات دیے اور اجلاس میں ثناء ملک کی شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔ رئیس شیخ نے منظور شدہ تجاویز پر مؤثر عمل درآمد، مسلسل جائزہ اور نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔
Comments
Post a Comment