درودِ پاک: رحمتوں، برکتوں اور سکونِ قلب کا عظیم خزانہ۔ - از قلم : ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔ اورنگ آبادی۔


درودِ پاک: رحمتوں، برکتوں اور سکونِ قلب کا عظیم خزانہ۔ - 
از قلم : ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔ 
اورنگ آبادی۔ 
حال مقیم: فندق صفاطیبہ روبرو روضہ اقدس مدینہ منورہ
موبائل: 9325217306

انسانی زندگی آج بے شمار پریشانیوں، ذہنی دباؤ، بے سکونی اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ ترقی کی چمکتی ہوئی دنیا میں دلوں کا سکون کہیں گم سا ہو گیا ہے۔ لوگ مال و دولت کے انبار رکھنے کے باوجود اطمینانِ قلب سے محروم ہیں۔ ایسے نازک دور میں اسلام انسان کو ایک ایسا عظیم روحانی نسخہ عطا کرتا ہے جو دلوں کو سکون، زندگی کو برکت اور روح کو نور بخشتا ہے، اور وہ ہے: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف پڑھنا۔
درودِ پاک صرف چند الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ بندۂ مؤمن اور اس کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان محبت، عقیدت اور وفاداری کا حسین ترین رشتہ ہے۔ یہی وہ عبادت ہے جس میں اللہ تعالیٰ خود اپنے فرشتوں کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشادِ ربانی ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
یعنی بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔
یہ آیت اس عبادت کی عظمت کے لیے کافی ہے کہ جس عمل میں ربِّ کائنات اور فرشتے شریک ہوں، وہ عمل کس قدر عظیم ہوگا۔
احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ جب بندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمت، مغفرت اور خیر کی دعائیں کرتے ہیں۔ گویا درود پڑھنے والا انسان تنہا نہیں رہتا بلکہ آسمانوں کی پاکیزہ مخلوق اس کے لیے دعاگو بن جاتی ہے۔
آج انسان ہر طرف سفارش اور تعلقات تلاش کرتا ہے، مگر وہ اس حقیقت سے غافل ہے کہ اگر وہ درود شریف کو اپنی زندگی کا معمول بنا لے تو فرشتوں کی دعائیں اس کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔ یہ دعائیں رزق میں وسعت، بیماریوں سے حفاظت اور دل کے سکون کا سبب بنتی ہیں۔
اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ دعائیں قبول نہیں ہوتیں، پریشانیاں ختم نہیں ہوتیں اور زندگی میں آسانیاں پیدا نہیں ہوتیں۔ اسلامی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ درود شریف دعاؤں کی قبولیت کا بہترین ذریعہ ہے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ دعا زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتی ہے جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ درودِ پاک دعا کو بارگاہِ الٰہی تک پہنچانے کا وسیلہ بنتا ہے۔
کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے درود شریف کو اپنا معمول بنایا اور ان کی بگڑی ہوئی زندگیاں سنور گئیں۔ پریشانیاں دور ہوئیں، راستے کھل گئے اور دلوں میں عجب سکون اتر آیا۔
درود شریف صرف روحانی سکون ہی نہیں دیتا بلکہ دنیاوی زندگی میں بھی برکتوں کا سبب بنتا ہے۔ بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں وسعت عطا فرماتا ہے۔
آج معاشرہ معاشی تنگی، بے روزگاری اور گھریلو پریشانیوں سے دوچار ہے۔ لوگ مختلف تدبیریں اختیار کرتے ہیں مگر روحانی اسباب سے غافل رہتے ہیں۔ درود شریف اللہ کی رحمتوں کو متوجہ کرتا ہے اور زندگی میں خیر و برکت پیدا کرتا ہے۔
اسی طرح نیک اور صالح اولاد کی دعا کرنے والوں کے لیے بھی درود شریف ایک عظیم روحانی تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مبارک نام “الحمید المجید” جو درودِ ابراہیمی میں وارد ہوئے ہیں، ان میں بڑی برکت پوشیدہ ہے۔
اسلام نے والدین کے حقوق کو بے حد اہمیت دی ہے۔ درود شریف ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنے والدین کے لیے بھی خیر و برکت کا سامان کر سکتا ہے۔ بعض اہلِ علم نے لکھا ہے کہ جب اولاد درود شریف پڑھتی ہے اور اپنے والدین کو ایصالِ ثواب کرتی ہے تو یہ ان کے لیے عظیم تحفہ بنتا ہے۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ لوگ دنیاوی تحائف پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں مگر اپنے والدین کو وہ تحفہ نہیں دیتے جو قبر میں ان کے لیے روشنی بن سکے۔ درود شریف ایسی نیکی ہے جس کا اجر زندہ اور وفات یافتہ دونوں کو پہنچتا ہے۔
درودِ پاک وفات یافتہ عزیزوں کے لیے بھی باعثِ رحمت ہے۔ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے مگر اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اولاد یا متعلقین کا پڑھا ہوا درود اس کے لیے رحمت، مغفرت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
آج ہمارے قبرستان خاموش ضرور ہیں مگر وہاں سوئے ہوئے لوگ ہماری دعاؤں کے محتاج ہیں۔ اگر ہم روزانہ کچھ وقت درود شریف اور دعا کے لیے مخصوص کر لیں تو یقیناً یہ ہمارے مرحومین کے لیے عظیم سرمایہ ہوگا۔
نماز اسلام کا ستون ہے اور درود شریف نماز کی خوبصورتی۔ فقہائے امت نے لکھا ہے کہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا نہایت اہم ہے۔ درود کے بغیر نماز کی روح ادھوری محسوس ہوتی ہے۔
درحقیقت جو دل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے خالی ہو، وہ عبادت کی حقیقی لذت سے بھی محروم رہتا ہے۔ درود شریف انسان کے اندر عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کرتا ہے، اور یہی عشق ایمان کی اصل روح ہے۔
آج سوشل میڈیا، مادہ پرستی اور دنیا کی دوڑ نے انسان کے دل کو سخت کر دیا ہے۔ غصہ، نفرت، حسد اور بے چینی عام ہو چکی ہے۔ ایسے ماحول میں درود شریف دل کے لیے نور اور روح کے لیے غذا ہے۔
جو شخص کثرت سے درود پڑھتا ہے، اس کے اخلاق میں نرمی، زبان میں مٹھاس اور دل میں سکون پیدا ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کے لیے رحمت بن جاتا ہے کیونکہ وہ اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتا رہتا ہے جو پوری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔
ہر مسلمان اگر روزانہ چند منٹ نکال کر درود شریف کا معمول بنا لے تو اس کی زندگی بدل سکتی ہے۔ چلتے پھرتے، سفر میں، کام کے دوران، مسجد میں، گھر میں، صبح و شام، ہر وقت زبان کو درود سے تر رکھا جا سکتا ہے۔
خصوصاً جمعہ کے دن کثرت سے درود شریف پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جس میں نہ مال خرچ ہوتا ہے، نہ جسمانی مشقت، مگر اجر اتنا عظیم ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔
درودِ پاک محض ایک وظیفہ نہیں بلکہ محبت، وفاداری، سکون، رحمت اور نجات کا عظیم پیغام ہے۔ یہ وہ نور ہے جو زندگی کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی مصروف اور بے سکون زندگیوں میں درود شریف کو جگہ دیں۔ اپنے گھروں، اپنی اولاد، اپنی دعاؤں، اپنی نمازوں اور اپنی محفلوں کو درودِ پاک سے معطر کریں۔ یقین جانیے، جس دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور زبان پر درود شریف ہو، وہاں مایوسی زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکتی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت سے درود شریف پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کی برکت سے ہماری دنیا و آخرت سنوار دے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔