جب ایک پرچی سوال بن جائے۔ - !شرف الدین سید۔
جب ایک پرچی سوال بن جائے!
شرف الدین سید۔
9342522346
عالمی سیاست میں بعض اوقات الفاظ سے زیادہ لہجے، اشارے اور مناظر بولتے ہیں۔ ایک جملہ، ایک مسکراہٹ، ایک اشارہ یا ایک مختصر مکالمہ بھی کئی معنی اپنے اندر سموئے ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب بات دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کے سربراہان کے درمیان ہو تو ہر لفظ اور ہر اندازِ بیان محض شخصی معاملہ نہیں رہتا، بلکہ قومی وقار اور سفارتی نفسیات کا حصہ بن جاتا ہے۔
حالیہ ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چند جملے دنیا بھر میں زیرِ بحث رہے۔ "Come here, man" یعنی "ادھر آؤ بھئی" کے انداز میں پکارنا، "Look at this man" کہتے ہوئے کسی قدر بے پروائی اور برتری کے لہجے میں گفتگو کرنا، اور "I will teach you a lesson" جیسے الفاظ کا استعمال، بہت سے لوگوں کو یہ احساس دلانے کے لیے کافی تھا کہ گفتگو کا توازن دو مساوی رہنماؤں کے بجائے ایک طاقتور اور دوسرے کمزور فریق کے تاثر کی طرف جھک رہا ہے۔پھر "He is a killer" جیسے جملے نے بحث کو مزید گہرا کر دیا۔ انگریزی محاورے میں اس کا مفہوم "انتہائی مؤثر"، "زبردست" یا "خطرناک کھلاڑی" بھی لیا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ برتری، جارحیت اور ایک قدرے منفی تاثر بھی جڑا رہتا ہے۔ بین الاقوامی سفارت میں الفاظ کے لغوی معنی سے زیادہ ان کے نفسیاتی اور علامتی اثرات اہم ہوتے ہیں۔
اسی ملاقات میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ہندی میں پہلے سے لکھی ہوئی تحریر پڑھتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جس کا ترجمہ ایک مترجم انگریزی میں کر رہا تھا۔ اس سے پہلے سعودی عرب کے دورے میں بھی ایک مختصر جملے کے لیے تحریری نوٹ سے مدد لینے کی تصویر سامنے آئی تھی۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ مترجم کے ذریعے گفتگو کرنا یا اپنی مادری زبان میں اظہارِ خیال کرنا کوئی عیب نہیں۔ دنیا کے کئی رہنما اپنی زبان میں ہی بات کرتے ہیں۔ مسئلہ زبان کا نہیں، بلکہ اس سیاسی امیج کا ہے جو برسوں سے ایک غیر معمولی خطیب اور فی البدیہہ مقرر کے طور پر تعمیر کیا گیا ہو۔
سیاست میں اصل مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تشہیر حقیقت سے بڑی ہوجائے۔ جب کسی رہنما کو بے مثال، غیر معمولی اور ہر فن مولا شخصیت کے طور پر پیش کیا جائے تو پھر معمولی انسانی کمزوریاں بھی غیر معمولی سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ ایک چھوٹا سا منظر، ایک مختصر جملہ یا ایک معمولی پرچی بھی پھر علامت بن جاتی ہے۔
اس حقیقت کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ ہندوستان کی عظمت کسی ایک رہنما، کسی ایک جماعت یا کسی ایک دورِ حکومت کی مرہونِ منت نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جس نے نہرو کی فکری گہرائی، شاستری کی سادگی، اندرا گاندھی کے اعتماد، واجپائی کی شعلہ بیانی اور من موہن سنگھ کی متانت کے ذریعے دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی جمہوری روح، فکری تنوع اور ادارہ جاتی تسلسل میں مضمر ہے۔
تاہم، یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ موجودہ سیاسی فضا نے معاشرے میں شدید تقسیم، باہمی بےاعتمادی اور مستقبل کے حوالے سے گہری تشویش پیدا کی ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر کل سیاسی اقتدار میں بڑی تبدیلی آتی ہے تو کیا ملک ایک نئے سماجی اور سیاسی انتشار سے دوچار ہوگا؟ کیا آج کے بچے اور نوجوان ایک ایسے ہندوستان میں پروان چڑھیں گے جہاں صلاحیت، تعلیم اور محنت کے باوجود ان کے لیے مواقع محدود ہوتے جائیں گے؟ یہ خدشات محض کسی ایک جماعت کے حامیوں یا مخالفین کے نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ قومی مکالمے کا حصہ ہیں۔سیاست میں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، جماعتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں، مگر قومیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب وہ اپنی اجتماعی بصیرت کھو بیٹھتی ہیں۔ کسی بھی رہنما یا جماعت کی حمایت یا مخالفت سے بڑھ کر اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا ہندوستان چھوڑ رہے ہیں جو زیادہ باوقار، زیادہ منصف اور زیادہ پُرامن ہو؟کیونکہ سفارت کاری کے ایوانوں میں مترجم کی آواز تو چند لمحوں بعد خاموش ہوجاتی ہے، مگر مناظر بولتے رہتے ہیں۔ اور سیاست کا ایک بے رحم اصول ہے کہ تشہیر وقتی تالیاں تو سمیٹ سکتی ہے، لیکن تاریخ آخرکار انسانوں، جماعتوں اور حکومتوں کو ان کے اصل قد میں ہی یاد رکھتی ہے۔ جب امیج حقیقت سے بڑا ہوجائے تو پھر ایک معمولی سی پرچی بھی محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں رہتی، بلکہ دعووں اور حقیقت کے درمیان رکھا ہوا ایک خاموش سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
" سب لوگ خوش رہیں، سب خیر و عافیت سے رہیں۔ شاید ہندوستان سمیت پوری دنیا کی سیاست کے لیے آج اس سے بڑی دعا کوئی اور نہیں۔"
Comments
Post a Comment