ڈاکٹر بشیر بدر کا نام اردو کے صفِ اول کے شعرا میں ہمیشہ نمایاں رہے گا" — ڈاکٹر اسلم جمشید پوریڈاکٹر بشیر بدر جیسے قداور شاعر زبان اور مقام کی قید سے آزاد ہوتے ہیں" — ڈاکٹر شمس اقبالڈاکٹر بشیر بدر کی رحلت پر اردو کارواں کی جانب سے تعزیتی نشست کا خراج۔


ممبئی ۔٣١ مئی (راست) :اردو کے عظیم ترین سینیئر شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی غرض سے اردو کارواں کے زیرِ اہتمام ایک آن لائن تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس نشست میں ڈاکٹر بشیر بدر کی کئی دہائیوں پر محیط ادبی خدمات، ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور ان کی زندگی کے نشیب و فراز پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔

نشست کی ابتدا میں اردو کارواں کے صدر فرید احمد خان نے ڈاکٹر بشیر بدر کی شخصیت اور خدمات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف اردو دنیا کو اپنا گرویدہ بنایا بلکہ غیر اردو طبقے میں بھی بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کی خبر اردو اخبارات کے ساتھ ساتھ انگریزی، ہندی، مراٹھی اور دیگر مقامی زبانوں کے اخبارات میں بھی نمایاں طور پر شائع ہوئی اور ان پر خصوصی مضامین اور فیچر شائع کیے گئے۔

اس نشست کی صدارت کرتے ہوئے چوہدری چرن سنگھ یونیورسٹی، اتر پردیش کے شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے ڈاکٹر بشیر بدر کی زندگی کے مختلف مراحل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے ان کی پیدائش، ابتدائی زندگی، میرٹھ میں قیام اور پھر فسادات کے نتیجے میں اپنے گھر سے محروم ہو کر بھوپال ہجرت کرنے تک کے سفر کا تذکرہ کیا۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کہا:
"ڈاکٹر بشیر بدر بلا شبہ وہ شاعر ہیں جن کا نام آگے چل کر اردو کے صفِ اول کے شعرا میں شمار کیا جائے گا اور جن کے بغیر اردو شاعری اور بالخصوص اردو غزل کی تاریخ ادھوری سمجھی جائے گی۔"

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر بشیر بدر جیسے قداور شاعر زبان اور مقام کی قید سے آزاد ہوتے ہیں اور ہر طبقہ انہیں اپنا شاعر سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو شاعری میں ڈاکٹر بشیر بدر کا مقام ہمیشہ محفوظ رہے گا اور ان کے فن کے اثرات آنے والی صدیوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

اس آن لائن تعزیتی نشست میں
نوجوان شاعر و ادیب محسن ساحل نے بشیر بدر کو یاد کرتے ہوئے ان کے  آفاقی  شعروں کا تجزیہ کیا - تاہم تابش رام پوری ممبرا، پروفیسر نصیر بیڑ، سینئر صحافی اور مدیرِ صحافت ممبئی ہارون افروز، معروف خطاط و معلم امتیاز انصاری، شہادہ کے حاجی انصار (ریٹائرڈ ریلوے آفیسر، بھساول) سمیت ہندوستان کے مختلف شہروں اور خلیجی ممالک سے وابستہ شرکا نے بھی اظہارِ خیال کیا اور ڈاکٹر بشیر بدر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ معلم اسماعیل خان نے بھی شرکت کی۔
نشست میں اردو کارواں اورنگ آباد کی سرپرستِ اعلیٰ ڈاکٹر مسرت فردوس، پروفیسر نفیسہ، پروفیسر عرفان سوداگر، ابرار شیخ، معروف ادیبہ کوثر حیات، جبکہ اردو کارواں ممبئی کی جانب سے سینئر شاعرہ و ادیبہ تبسم ناڈکر، نائب صدر شعیب ابجی اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی اور پروگرام کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

آخر میں اردو کارواں کی مجلسِ عاملہ کی رکن پرنسپل سائرہ خان نے تمام مقررین، مہمانوں اور شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نشست کے اختتام کا اعلان کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔