تعلیمی دوڑ میں کہیں ایمان تو نہیں کھو رہا؟ جدید تعلیم، فکری یلغار، قومی تعلیمی پالیسی اور نسلِ نو کے عقیدۂ توحید کے تحفظ میں والدین اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں۔تحریر: مفتی عبدالصبور قاسمی، ظہیرآباد۔


تعلیمی دوڑ میں کہیں ایمان تو نہیں کھو رہا؟
 جدید تعلیم، فکری یلغار، قومی تعلیمی پالیسی اور نسلِ نو کے عقیدۂ توحید کے تحفظ میں والدین اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں۔
تحریر: مفتی عبدالصبور قاسمی، ظہیرآباد۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور ان تمام نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت اولاد ہے۔ اولاد صرف ایک خاندانی رشتہ نہیں بلکہ انسان کے دل کا سکون، اس کی زندگی کا سہارا، اس کی امیدوں کا مرکز اور اس کے مستقبل کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ والدین اپنی پوری زندگی اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ ایک باپ اپنی جوانی، اپنی محنت، اپنی صحت، اپنی خواہشات اور اپنی توانائی اس ایک مقصد کے لیے لگا دیتا ہے کہ اس کے بچے ایک بہتر مقام تک پہنچیں، کامیاب ہوں اور معاشرے میں عزت و وقار حاصل کریں۔ اسی طرح ایک ماں اپنی نیند، اپنی راحت، اپنی خواہشات اور اپنی ذات کو مکمل طور پر اولاد کی پرورش کے لیے قربان کر دیتی ہے۔ لیکن اس پوری قربانی کے باوجود آج کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر یہ “بہتر مستقبل” جس کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے، اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟
اگر اس بہتر مستقبل کا مفہوم صرف اچھی نوکری، بڑا عہدہ، اعلیٰ تعلیم، دولت، شہرت اور دنیاوی مقام ہے تو یہ تصور بظاہر بہت خوبصورت مگر حقیقت کے اعتبار سے انتہائی محدود ہے۔ انسان کی زندگی صرف اس دنیا تک محدود نہیں بلکہ اس کے بعد ایک ایسی زندگی بھی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، جہاں اصل حساب ہوگا، اصل عدل ہوگا اور اصل کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوگا۔ اسلام اس حقیقت کو انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی نہ مال ہے، نہ منصب، نہ طاقت اور نہ شہرت بلکہ ایمان کی سلامتی ہے۔ عقیدۂ توحید کی حفاظت، اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت، رسول اللہ ﷺ کی محبت اور آخرت کی تیاری ہی وہ بنیادی سرمایہ ہے جس پر انسان کی حقیقی کامیابی کا دارومدار ہے۔
آج کا دور بظاہر علم، ترقی اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ انسان نے سائنسی میدان میں حیرت انگیز ترقی کی ہے، مشینوں نے زندگی کو آسان بنا دیا ہے، معلومات کی دنیا بے حد وسیع ہو گئی ہے اور تعلیم ہر گھر تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن اسی ترقی کے ساتھ ایک انتہائی گہرا اور خاموش فکری بحران بھی پیدا ہو چکا ہے۔ علم کی مقدار بڑھ گئی ہے مگر اس کے ساتھ حکمت کم ہو گئی ہے، معلومات بڑھ گئی ہیں مگر مقصدِ زندگی کمزور ہو گیا ہے، وسائل بڑھ گئے ہیں مگر دلوں کا سکون کم ہوتا جا رہا ہے، اور بظاہر ترقی کے باوجود انسان اندرونی طور پر بے چینی، اضطراب اور ذہنی انتشار کا شکار ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے نئی نسل کا اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ آج کا بچہ صرف ایک طالب علم نہیں بلکہ ایک مکمل فکری ماحول کا حصہ ہے۔ وہ جس تعلیمی ادارے میں داخل ہوتا ہے وہاں صرف کتابیں اور نصاب نہیں ہوتے بلکہ ایک مکمل تہذیبی، سماجی اور فکری ماحول ہوتا ہے جو خاموشی سے اس کی شخصیت کو تشکیل دیتا ہے۔ تعلیم اب صرف تدریس کا عمل نہیں رہی بلکہ ایک مکمل “ذہنی انجینئرنگ” بن چکی ہے جس میں انسان کی سوچ، رجحانات اور شناخت بتدریج ایک خاص سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔
بچہ روزانہ کئی گھنٹے اسکول میں گزارتا ہے اور اس دوران وہ صرف علم حاصل نہیں کرتا بلکہ ایک مکمل طرزِ فکر، ایک مخصوص زبان، ایک خاص ذہنی رویہ اور ایک تہذیبی شناخت کو جذب کرتا ہے۔ اس کے اساتذہ، اس کے دوست، اس کا نصاب، اس کی سرگرمیاں، اس کا ماحول اور اس کی روزمرہ کی گفتگو مل کر اس کی شخصیت کی بنیادیں مضبوط یا کمزور کرتے ہیں۔ یہ عمل بظاہر بہت سادہ نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔
آج والدین کی بڑی تعداد اسکول کے انتخاب میں صرف ظاہری معیار دیکھتی ہے—اچھی عمارت، انگریزی زبان، امتحانی نتائج اور فیس۔ مگر سب سے اہم سوال اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے کہ کیا یہ ماحول بچے کے ایمان، اس کی دینی شناخت اور اس کی اخلاقی بنیادوں کو محفوظ رکھ رہا ہے یا نہیں؟
یہ غفلت آہستہ آہستہ ایک بڑے فکری بحران کو جنم دیتی ہے۔
اسلام علم کا مخالف نہیں بلکہ علم کا سب سے بڑا داعی ہے۔ قرآن مجید کا پہلا حکم “اقرأ” اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام علم، شعور، تحقیق اور غور و فکر کا دین ہے۔ جدید سائنس، میڈیکل، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی آج کے دور کی ناگزیر ضرورت ہیں اور ان کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ لیکن اصل مسئلہ علم نہیں بلکہ علم کے ساتھ جڑی ہوئی فکری سمت ہے۔ یہی سمت فیصلہ کرتی ہے کہ تعلیم انسان کو ایک مضبوط کردار بنائے گی یا اسے شناخت کے بحران میں مبتلا کر دے گی۔
آج تعلیم صرف نصاب تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک مکمل تہذیبی نظام بن چکی ہے۔ بچہ اسکول میں صرف پڑھتا نہیں بلکہ ایک مکمل ذہنی سانچہ اختیار کرتا ہے۔ اس کی زبان، اس کا لباس، اس کے مشاغل، اس کی ترجیحات اور اس کی سوچ سب کچھ اس ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔ یہ اثر فوری نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ ہوتا ہے—پہلے اثر، پھر عادت، پھر قبولیت اور آخر میں شناخت کی تبدیلی۔
اسی پس منظر میں نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت “Indian Knowledge System”، “Indian Values”، “Indian Culture” اور “Indian Heritage” جیسے تصورات کو نصاب میں نمایاں کیا جا رہا ہے۔ یہ بظاہر ایک ثقافتی اور علمی کوشش ہے، مگر چونکہ تعلیم بنیادی طور پر ذہن سازی کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے، اس لیے ہر نصابی تبدیلی آنے والی نسلوں کی فکری سمت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اگر کسی نظام میں فکری توازن نہ ہو تو وہ آہستہ آہستہ ایک مخصوص تہذیبی رنگ غالب کر دیتا ہے۔
اسی طرح مخلوط نظامِ تعلیم، ثقافتی پروگرام، سالانہ تقریبات اور غیر نصابی سرگرمیاں بھی بچے کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ یہ چیزیں ابتدا میں صرف تفریح محسوس ہوتی ہیں مگر رفتہ رفتہ یہ بچے کی تہذیبی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور نے اس اثر کو مزید بڑھا دیا ہے جہاں اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا بچے کے ذہن کو مسلسل مختلف نظریات کے زیر اثر رکھتے ہیں۔
ان حالات میں بعض تعلیمی ادارے ایسے بھی ہیں جہاں مذہب کو محض ذاتی معاملہ سمجھ کر تعلیم کے مرکزی نظام سے الگ رکھا جاتا ہے۔ وہاں بچہ علم تو حاصل کرتا ہے مگر اس کے اندر روحانی توازن، اخلاقی استحکام اور دینی وابستگی کمزور ہونے لگتی ہے۔ وہ دنیاوی لحاظ سے ترقی یافتہ ضرور ہوتا ہے مگر فکری طور پر غیر متوازن ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس اسلامی تعلیمی ادارے ایک ایسا ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں علم اور ایمان ایک ساتھ چلتے ہیں۔ وہاں سب سے پہلے عقیدۂ توحید کی بنیاد مضبوط کی جاتی ہے کہ کائنات کا خالق صرف اللہ ہے، رازق صرف وہی ہے، اور عبادت کا مستحق صرف وہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی محبت کو صرف نصاب نہیں بلکہ ایک زندہ احساس بنایا جاتا ہے جو بچے کے کردار میں جھلکتا ہے۔ آخرت کا تصور محض نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی شعور بن جاتا ہے جو ہر عمل کو متاثر کرتا ہے۔
ایسے اداروں میں اخلاق، حیا، سچائی، دیانت، نظم و ضبط اور ذمہ داری کو تعلیم کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ قرآن، نماز، سیرت اور اسلامی آداب روزمرہ نظام کا حصہ ہوتے ہیں، جس سے علم اور ایمان ایک دوسرے کے مخالف نہیں رہتے بلکہ ایک دوسرے کے مکمل کرنے والے بن جاتے ہیں۔
اصل حقیقت یہی ہے کہ اگر ایمان محفوظ ہے تو زندگی کی ہر ناکامی عارضی ہے، لیکن اگر ایمان ضائع ہو جائے تو دنیا کی ہر کامیابی بے معنی ہو جاتی ہے۔
اسی لیے آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم تعلیم کے ساتھ ساتھ فکر، ماحول اور عقیدے کی حفاظت کو بھی ترجیح دیں۔
اور آخر میں یہ بات ہر والدین، ہر استاد اور ہر ذمہ دار کے دل پر نقش ہونی چاہیے کہ آج کے دور میں صرف ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل بنانا کافی نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ ڈاکٹر کیسا ہے؟ یہ انجینئر کیسا ہے؟ اور یہ وکیل کس مزاج کا ہے؟ اگر ڈاکٹر کے اندر ایمان نہیں تو وہ صرف علاج کرنے والی مشین ہے، اگر انجینئر کے اندر دیانت نہیں تو وہ صرف عمارت بنانے والا کاریگر ہے، اور اگر وکیل کے اندر انصاف اور آخرت کا خوف نہیں تو وہ حق کو چھپانے کا ماہر بن سکتا ہے۔ اصل ضرورت یہی ہے کہ ہر پیشہ ایمان، اخلاق اور حیا کے ساتھ جڑا ہو۔
اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں کے ایمان، عقیدہ، اخلاق اور کردار کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔