وقت کی راہیں دراز۔۔ از قلم : محمود علی۔
وقت کی راہیں دراز۔
از قلم : محمود علی۔
8055402819
آج کل دنیا بھر میں "اپنا وقت آئے گا" کا نعرہ غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ جدھر نگاہ اٹھائیے یہی صدا سنائی دیتی ہے اور جس سمت دیکھیے یہی امید دلائی جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے اچھے دن کا وعدہ کرکے اقتدار کی منزل تو حاصل کر لی مگر جن لوگوں نے ان پر اعتماد کیا وہ آج بھی ان بہتر دنوں کے منتظر ہیں۔
وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
حقیقت یہ ہے کہ اچھا وقت محض انتظار کرنے سے نہیں آتا بلکہ وہ مسلسل محنت تدبیر استقامت اور صبر کا ثمر ہوتا ہے۔ زندگی کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بسا اوقات وہ خوشگوار لمحے اس وقت آتے ہیں جب انسان ان کا شدت سے منتظر نہیں رہتا بلکہ حالات سے سمجھوتا کر چکا ہوتا ہے
شاعر نے بھی اسی انسانی تجربے کو اپنے انداز میں بیان کیا ہے کہ اچھا وقت اکثر اس وقت نہیں آتا جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، بلکہ اس وقت دستک دیتا ہے جب انسان اس کی خواہش اور انتظار سے آگے نکل چکا ہوتا ہے۔ یہی وقت کی ستم ظریفی اور زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہے۔
نفسیات کے نقطۂ نظر سے وقت کا ادراک مدت ترتیب اور وقت کے گزرنے کے ذاتی یا شخصی تجربے کا نام ہے یہ کوئی جامد اور مادی گھڑی نہیں بلکہ ایک نہایت لطیف اور پیچیدہ ذہنی و ادراکی Perception کیفیت ہے جو حواسِ خمسہ سے زیادہ انسان کی توجہ یادداشت احساسات اور جذباتی کیفیات کے زیرِ اثر تشکیل پاتی ہے۔ اسی لیے مختلف حالات میں ایک ہی مدت کسی کو بہت مختصر اور کسی کو نہایت طویل محسوس ہو سکتی ہے۔
آسان وقت سے مراد زندگی کا وہ دور کوئی ایسا کام یا ایسی صورتِ حال ہے جس کا سامنا انسان کو بغیر کسی خاص دشواری ذہنی دباؤ یا رکاوٹ کے کرنا پڑے۔ اس سے ایک پُرسکون ہموار اور بے تکلف تجربہ مراد ہوتا ہے جس میں معاملات فطری انداز سے اور بغیر کسی جدوجہد کے انجام پاتے ہیں
بنیادی مفاہیم اور استعمال
آسان وقت گزارنا
اس سے مراد کسی کام کو سہولت کے ساتھ مکمل کرنا یا کسی صورتِ حال سے بغیر کسی پریشانی یا پیچیدگی کے گزر جانا ہے۔
مثال اس نے امتحان کی بھرپور تیاری کی تھی اس لیے امتحان اس کے لیے نہایت آسان ثابت ہوا
آسان اوقات
یہ ایسی مدت یا زمانے کو ظاہر کرتا ہے جو سکون آسودگی خوش حالی اور مشکلات سے نسبتاً پاک ہو۔
آسان وقت نہ ہونا
یہ تعبیر اس حالت یا دور کے لیے استعمال ہوتی ہے جو انتہائی دشوار پُرتناؤ آزمائش بھرا یا کٹھن ہو۔ اس سے مراد وہ حالات ہیں جن میں انسان کو شدید ذہنی جسمانی یا معاشرتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
وقت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ نہ کبھی رکتا ہے نہ پلٹ کر آتا ہے اور نہ ہی کسی کا انتظار کرتا ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ وقت کی ایک راہ ہے جو انسان کو بچپن سے جوانی جوانی سے بڑھاپے اور آخرکار ابدی اور مستقل سفر کی طرف لے جاتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وقت کی راہیں دراز ہیں کیونکہ یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا صرف مسافر بدلتے رہتے ہیں۔
کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں
جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا
وقت کی راہوں میں خوشیاں بھی آتی ہیں اور غم بھی۔ کامیابیاں انسان کے حوصلے بلند کرتی ہیں جبکہ ناکامیاں اسے صبر، برداشت اور جدوجہد کا درس دیتی ہیں۔ جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں وہ زندگی کے ہر موڑ پر کچھ نہ کچھ سیکھتے اور آگے بڑھتے رہتے ہیں لیکن جو وقت کو ضائع کر دیتے ہیں، وہ بعد میں صرف پچھتاوا حاصل کرتے ہیں۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑی قوموں اور عظیم شخصیات نے وقت کی اہمیت کو سمجھا۔ انہوں نے ہر لمحے کو علم محنت اور خدمتِ انسانیت کے لیے استعمال کیا اسی لیے ان کے کارنامے آج بھی زندہ ہیں اس کے برعکس سستی غفلت اور بے عملی قوموں کے زوال کا سبب بنتی ہیں۔
وقت کی راہیں دراز ضرور ہیں مگر انسان کی زندگی مختصر ہے اس مختصر زندگی میں ہمیں اپنے کردار کو بہترین بنانا علم حاصل کرنا دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا اور نیکی کے کام انجام دینا چاہیے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو وقت کے گزر جانے کے بعد بھی انسان کے نام کو زندہ رکھتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وقت ایک خاموش استاد ہے۔ وہ بغیر کچھ کہے ہمیں ہر روز یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔ جو شخص وقت کی راہوں کے ساتھ قدم ملا کر چلتا ہے وہی اپنی منزل تک پہنچتا ہے جبکہ رک جانے والے صرف ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ہیں۔ اور کسی فلسفی شاعر کے لیے وقت یہ ہے
وقت کی بے رحم ساعتوں میں
زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی
Comments
Post a Comment