سلیلِ سادات، پیکرِ علم و حلم، محسنِ قوم و ملت : حضرت سید علی احمد صاحب کی حیات و خدمات - تحریر: (سید حسن احمد)
سلیلِ سادات، پیکرِ علم و حلم، محسنِ قوم و ملت : حضرت سید علی احمد صاحب کی حیات و خدمات -
تحریر: (سید حسن احمد)
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب علم کو نسبتِ رسول ﷺ اور فیضانِ اولیاء کا ساتھ مل جائے تو وہ معاشرے کے لیے مینارۂ نور بن جاتا ہے۔ حضرت سید علی احمد صاحب کی شخصیت اسی علمی و روحانی تسلسل کا ایک روشن باب ہے، جن کا خمیر سادات کے پاکیزہ گھرانے اور ولایت کے سائے میں تیار ہوا۔
خاندانی وجاہت اور روحانی نسبت:آپ کے والدِ بزرگوار عارف باللہ خواجہ سید محمد مسلم رحمتہ اللہ علیہ اپنے وقت کے باکمال ولیِ کامل تھے۔ انہیں جہاں اپنے اجداد سے فیض ملا، وہیں وہ شہنشاہِ خطابت حضور مفتی حشمت علی خان صاحب سے خلافت و اجازت سے بھی سرفراز تھے۔ آپ کا خاندانی سلسلۂ طریقت انتہائی معتبر ہے۔ آپ کے پردادا حضرت خواجہ سید نعمت علی قادری چشتی فردوسی رحمانی رحمتہ اللہ علیہ کو اویسِ دوراں حضرت مولانا فضلِ رحمان گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ سے اربع سلاسل کی اجازت و خلافت حاصل تھی۔
تعلیمی سفر اور خدماتِ دین:13 رجب 1380ھ کو بکوہ درگاہ، گونڈہ میں پیدا ہونے والے سید علی احمد صاحب نے اپنی والدہ کی نگرانی میں 7 سال کی عمر تک قرآنِ کریم مکمل کیا۔ ممبئی کے دارالعلوم محمدیہ سے فراغت کے بعد آپ کی دستار بندی حضور حافظِ ملت کے ہاتھوں ہوئی۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گھر سے دور رہ کر دینِ متین کی خدمت میں صرف کیا۔ 1986ء میں ممبئی سے امامت کا آغاز کیا اور 1988ء میں مدرسہ غریب نواز قائم کیا۔ آپ کی خدمات کا مرکز و محور ممبئی کی تاریخی جامع مسجد حکیم دائم (سورتی محلہ) بنی، جہاں آپ نے مسلسل 34 سال تک بطور خطیب فرائض سرانجام دیے۔
بیعت و خلافت اور روحانی سلاسل:آپ کا روحانی سفر جلیل القدر ہستیوں کی سرپرستی میں پروان چڑھا۔ آپ اپنے استادِ محترم حضور سید اصفیاء، قائدِ اعظم، امین العارفین، پروردۂ محبوبِ ربانی حضرت خواجہ سید حامد اشرف (اشرف العلماء) اشرفی الجیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر مرید ہوئے اور ان سے خلافت و اجازت پا کر سلسلۂ اشرفیہ منوریہ کے امین بنے۔ اس کے علاوہ آپ کو اپنے والدِ بزرگوار عارف باللہ خواجہ سید محمد مسلم صاحب سے سلسلۂ قادریہ چشتیہ فردوسیہ رحمانیہ نعمتیہ کی خلافت حاصل ہوئی۔ روحانیت کے اس سفر میں آپ کو بھینسوڑی شریف کے سجادۂ دوم محبوب الاولیاء صوفی خواجہ لیاقت حسین صاحب سے سلسلۂ حسنیہ عزیزیہ لیاقتیہ ابوالعلائیہ کی خلافت و اجازت کا شرف بھی حاصل ہوا۔
ذاتی زندگی اور قیام گاہ:دین کے لیے مسلسل سفر اور خدمت کے باوجود آپ کی ممبئی میں مستقل آرام گاہ میرا روڈ کے علاقے میں واقع المدینہ بلڈنگ میں رہی۔ آج بھی آپ کے صاحبزادگان اسی مقام پر مقیم ہیں اور آپ کے مشن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
وصال اور جانشینی:علم و عرفان کا یہ سورج 29 محرم الحرام 1443ھ کو ملکِ نیپال میں اپنے مریدین و محبین کے درمیان غروب ہوا۔ آپ کا مزارِ پر انوار آپ کے آبائی وطن بکوہ درگاہ (گونڈہ) میں مرجعِ خلائق ہے۔ آپ کے بعد آپ کے منجھلے صاحبزادے حضرت سید حسن احمد صاحب آپ کے مشن اور سجادگی کے منصب کو نہایت وقار کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں
Comments
Post a Comment