نماز استسقاء اور اسکی حقیقت و فضیلت۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔


نماز استسقاء اور اسکی حقیقت و فضیلت۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔

  اللہ تعالی ہی ساری مخلوقات کا خالق و مالک اور رازق و پالنہار ہے زمین و آسمان کے خزانے اسی کی ملکیت ہیں اور ہر چیز کے اسکے پاس خزانے ہیں جو نہ کبھی ختم ہونگے اور نہ کبھی ان میں کبھی کوئی کمی ہی واقع ہوگی 
   لیکن بندوں کے اعمال بد اور گناہ اور نافرمانیاں جو اللہ تعالی کی ناراضگی اور اسکے غیض و غضب کو دعوت دینے والے ہوتے ہیں جسکی وجہ سے بسااوقات اللہ تعالی اپنے بندوں کو احساس دلانے اور انھیں راہ راست پر لانے کے لئےاپنے فضل و رحمت کے دروازے بند فرما دیتے ہیں تاکہ انسانوں کو اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کا احساس ہوجائے اور پھر وہ اپنے گناہوں اور نافرمانیوں پر نادم و شرمندہ ہوکر اللہ تعالی کے حضور توبہ و استغفار کرے اور اللہ تعالی کو راضی و خوش کرنے کی فکر کرے تاکہ اللہ تعالی اپنے فضل و رحمت کے دروازے کھول دے 
  بارش کے نازل فرمانے والے اللہ تعالی ہی ہیں جیساکہ قرآن کریم میں متعدد مرتبہ بیان ہوا ہے اور بارش کب ہوگی کہاں ہوگی اور کتنی ہوگی اسطرح وہ نفع بخش ہوگی یا نقصاندہ ہوگی اسکا بھی حقیقی علم و معلومات سوائے اللہ تعالی کے اور کسی کو نہیں ہے 
  علم فلکیات اور علم نجوم والے بارش کے ہونے یا نہ ہونے یا اسکے کم و زیادہ ہونے کے بارے میں جو کچھ پیشن گوئیاں کرتے ہیں وہ ظاہری اسباب و قرائن دیکھکر انکا اندازہ ہوتا جسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے اسلئے کہ بسااوقات انکے پیشن گوئی کے بالکل برعکس ہوتا ہے 
  اسلئے حدیث شریف میں کفارمکہ کے اس نظریے اور عقیدے کی تردید فرمائی گئی ھیکہ فلاں ستارہ فلاں برج میں داخل ہونے سے بارش ہوتی ہے یہ ظاہری سبب تو ہوسکتا ہے لیکن حقیقی و اصلی نہیں اسلئے کہ بارش کے نازل کرنے والے اللہ تعالی ہیں جو اسباب کے محتاج نہیں وہ بغیر اسباب کے سب کچھ کرنے ہر قادر ہیں کسی بھی چیز کے وجود کے لئے انکی چاہت اور ارادہ ہی کافی ہوتا ہے اسلئے مسلمانوں کو ایسے نظریات اور ایسی باتوں سے بچنا چاہئے جو انکے ذہنوں اور یقین کو اللہ تعالی کی ذات اور اسکی قدرت سے ہٹاکر اسباب کی طرف کردے 
  حدیث شریف میں ھیکہ جو قوم زکات کو روک دیتی ہے یعنی اپنے مالوں کی زکات نہیں دیتی اللہ تعالی اس سے بارش کو روک دیتے ہیں یعنی زکات کا نہ نکالنا یہ بارش کے رکنے کا سبب بنتا ہے 
   گناہوں اور نافرمانیوں کیساتھ اللہ تعالی کے فضل و رحمت اور اسکے انعامات اور نوازشات کو حاصل نہیں کیا جا سکتا اسلئے ایسے موقع پر توبہ و استغفار کی کثرت کرنی چاہئے مظالم سے دستبردار ہونا چاہئے بندوں کے حقوق اگر ذمہ میں باقی ہوں تو انکے ادائیگی کی فکر کرنی چاہئے صلہ رحمی اور صدقہ و خیرات کرنا چاہئے بارش کے لئے دعاوں کا اہتمام کرنا چاہئے فرض یا نفل نمازوں کے بعد یا جمعہ کے خطبے میں بارش کے لئے دعا مانگے اسطرح روزے کی حالت میں باہر جنگل اور صحرا یا عید گاہ میں جاکر دورکعت نماز پڑھے پھر دو خطبے دے اور توبہ و استغفار کی کثرت کرے اسطرح عاجزی و انکساری اور الحاء و زاری کیساتھ روتے ہوئے اللہ تعالی کی بارگاہ میں بارش کے لئے دعا مانگنی چاہئے 
  غرض یہ کہ ہمیں اللہ تعالی کو راضی اور خوش کرنیکی کوشش کرنے اور اسکے غیض و غضب اور اسکے غصے کو ٹھنڈا کرنیکی کوشش کرنی چاہئے اسکے بغیر ہم اسکی رحمتوں اور اسکے فضل و کرم کو حاصل نہیں کرسکتے 
    اے اللہ ہمارے گناہوں اور خطاوں کی وجہ سے ہمیں اپنی رحمت سے محروم نہ فرما اور خشک سالی اور قحط سالی سے ہماری حفاظت فرما اور ہم پر اپنے فضل و کرم سے اپنے انعامات عنایات اور نوازشوں کی بارش فرما   
    آمین 


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔