غریب آخر کہاں جائے؟ - سید فاروق احمد قادری۔
غریب آخر کہاں جائے؟ -
سید فاروق احمد قادری۔
جے پور میں وزیرِ اعلیٰ کی آمد کے موقع پر ایک غریب خاتون کے ٹھیلے کو الٹ دیا گیا۔ خاتون مسلسل انتظامیہ کو بتا رہی تھی کہ اس کے ٹھیلے پر کھولتا ہوا پانی اور جلتے ہوئے انگارے موجود ہیں، لیکن اس کی فریاد کسی نے نہ سنی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گرم پانی اس کے جسم پر گر گیا اور وہ بری طرح جھلس گئی۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جس میں غریب کی جان اور عزت کی کوئی قیمت نہیں سمجھی جاتی۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ چند روز قبل بیڈ ضلع کے نگر روڈ پر بھی نگر پریشد کی کارروائی کے دوران پولیس کی موجودگی میں پھل فروشوں اور ٹھیلہ فروشوں کے خلاف مہم چلائی گئی۔ ٹھیلے ہٹانے کے بجائے بعض ٹھیلوں اور سامان کو ٹریکٹر میں بھر کر لے جایا گیا۔ کئی غریبوں کا فروٹ سڑک پر بکھر گیا اور ان کی دن بھر کی محنت چند لمحوں میں برباد ہو گئی۔
سوال یہ ہے کہ پولیس کا کردار کیا ہے؟ پولیس تو عوام کی محافظ کہلاتی ہے۔ اگر نگر پریشد نے کارروائی کا حکم دیا تھا تب بھی پولیس کی ذمہ داری تھی کہ احتیاط اور انسانیت کے ساتھ کارروائی کرتی۔ قانون نافذ کرنا ایک بات ہے، لیکن غریبوں کی روزی روٹی کو نقصان پہنچانا اور ان کی محنت کو سڑک پر پھینک دینا دوسری بات ہے۔ قانون کا مقصد انصاف ہونا چاہیے، انتقام نہیں۔
افسوس یہ ہے کہ یہ مسئلہ ہر سال دہرایا جاتا ہے۔ تجاوزات کے نام پر کارروائیاں ہوتی ہیں، غریبوں کے ٹھیلے ہٹائے جاتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچا جاتا کہ ان لوگوں کو متبادل جگہ کہاں دی جائے گی۔ جب سڑکیں چوڑی کی جاتی ہیں، نئے منصوبے بنتے ہیں اور شہروں کو خوبصورت بنانے کے دعوے کیے جاتے ہیں تو پھر غریب ٹھیلہ فروشوں کے لیے باقاعدہ بازار یا دکانوں کی جگہ کیوں نہیں رکھی جاتی؟
مہاراشٹر کے کئی شہروں میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ اورنگ آباد، عثمان آباد اور شولاپور سمیت مختلف مقامات پر ٹھیلہ فروشوں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لیے مخصوص جگہیں فراہم کی گئی ہیں۔ اگر وہاں یہ ممکن ہے تو پھر بیڈ اور دیگر شہروں میں کیوں نہیں؟ آخر غریب ہی ہمیشہ قربانی کا بکرا کیوں بنتا ہے؟
مقامی عوام اور سماجی کارکنوں نے بھی اس مسئلے پر آواز اٹھائی ہے۔ شیخ نجیب اور دیگر مقامی شخصیات نے متاثرہ افراد کے حق میں مداخلت کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ انتظامیہ ترقی کے نام پر صرف غریبوں پر ہی سختی کیوں کرتی ہے؟ کیا ترقی کا مطلب صرف سڑکیں صاف کرنا ہے یا ان لوگوں کے مستقبل کا تحفظ بھی جو انہی سڑکوں کے کنارے محنت کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں؟
تجاوزات کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے، لیکن انصاف، انسانیت اور متبادل انتظام کے ساتھ۔ جب تک حکومتیں غریبوں کے روزگار کے لیے مستقل جگہ فراہم نہیں کریں گی، تب تک ایسی کارروائیاں ظلم ہی سمجھی جائیں گی۔ آخر ایک ریڑھی بان، ایک پھل فروش اور ایک محنت کش غریب کہاں جائے؟ اس کے پاس نہ بڑی دکان ہے، نہ سرمایہ، نہ سیاسی طاقت۔ اس کے پاس صرف اس کا ٹھیلا ہے، اور اگر وہ بھی چھین لیا جائے تو اس کے بچوں کے منہ کا نوالہ کون واپس کرے گا؟
Comments
Post a Comment