کندھوں پہ جنازہ، لبوں پہ دنیا - ازقلم : رہبر تماپوری۔


کندھوں پہ جنازہ، لبوں پہ دنیا - 
ازقلم: رہبر تماپوری۔

انسان کی فطرت ہے کہ وہ اس عارضی دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کی چاہت کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ جب کوئی انسان جنازے پر اٹھتا ہے تو وہ دراصل سب کے لیے زندگی کی بے ثباتی کا ایک واضح نشان بن جاتا ہے۔ اس آخری سفر کے ساتھ، جن لوگوں کے دل مرحوم سے قریب ہوتے ہیں، وہ جنازے کے ذریعے اس شخص کی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ جو لوگ انسان سے قریب سے واقف ہوتے ہیں، وہ اس کی زندگی کی اصل حقیقت کو پہچانتے ہیں، لیکن جو دور کے لوگ ہوتے ہیں، وہ صرف اسی کے ساتھ ہوئے اپنے ماضی کے سلوک کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرتے ہیں۔

اگر دنیا میں کسی کے ساتھ اچھا سلوک ہوا ہو تو جنازے کے وقت اس کی اچھائیاں بیان ہوتی ہیں، اور اگر برا سلوک ہوا ہو تو برائیاں سامنے آتی ہیں۔ جنازہ ہمیں یہ گہرا سبق دیتا ہے کہ انسان کی اصل تعریف وہی ہے جو لوگوں کے دلوں کی گہرائی سے نکلے، کیونکہ یہ مادی دنیا فانی ہے اور انسان کی اصل پہچان آخرت میں ہونی ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی زندگی کو نیکی، اخلاص، تقویٰ اور سچائی کے ساتھ گزارنا چاہیے تاکہ ہماری اصل پہچان اچھی ہو اور کامیابی ملے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔