نوجوانوں میں بڑھتا ڈپریشن: اسباب اور حل۔۔ ازقلم : محمد مسلم کبیر لاتور۔


نوجوانوں میں بڑھتا ڈپریشن: اسباب اور حل۔
ازقلم : محمد مسلم کبیر لاتور۔
 8208435414

موجودہ دور ترقی، سہولتوں اور جدید ٹیکنالوجی کا دور کہلاتا ہے، لیکن اس کے باوجود نوجوانوں میں ذہنی بے چینی، اضطراب، مایوسی اور ڈپریشن میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر یہی طبقہ ذہنی دباؤ، ناامیدی اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جائے تو پورے معاشرے کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ ڈپریشن صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی، معاشی، تعلیمی اور خاندانی عوامل کا مجموعی نتیجہ بھی ہے۔ اس مسئلے کے اسباب کو سمجھنا اور ان کا مؤثر حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تعلیم کو صرف ملازمت سے جوڑنے کا رجحان---
آج کے دور میں تعلیم کا مقصد علم، کردار سازی اور صلاحیتوں کی نشوونما کے بجائے صرف ملازمت حاصل کرنا سمجھ لیا گیا ہے۔ نوجوان برسوں محنت کرکے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں لیکن جب انہیں مناسب روزگار نہیں ملتا تو وہ مایوسی اور احساسِ ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تعلیم کا اصل مقصد انسان کو شعور، فہم اور زندگی گزارنے کی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔ اگر نوجوان تعلیم کو صرف ملازمت تک محدود سمجھیں گے تو ملازمت نہ ملنے کی صورت میں ان کی ذہنی حالت متاثر ہونا فطری امر ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کے ساتھ ہنر، خود روزگاری اور عملی مہارتوں کو بھی فروغ دیا جائے۔
معاشی کمزوری اور مالی مسائل ـــــ
بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور محدود آمدنی نوجوانوں کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا سبب بن رہی ہے۔ بہت سے نوجوان اپنے گھر والوں کی امیدوں کا مرکز ہوتے ہیں۔ جب وہ معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو پاتے تو احساسِ کمتری اور پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
مالی مشکلات بعض اوقات نوجوانوں کو قرض، بے چینی، احساسِ محرومی اور ذہنی تناؤ کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ اس کے لیے حکومت، سماجی اداروں اور اہلِ خیر کو نوجوانوں کے لیے روزگار اور ہنرمندی کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔
موبائل اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال -----
موبائل فون اور سوشل میڈیا نے زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن اس کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ گھنٹوں تک سوشل میڈیا پر رہنا، دوسروں کی مصنوعی اور پُرتعیش زندگیوں کو دیکھنا، فضول ویڈیوز میں وقت ضائع کرنا اور حقیقی زندگی سے دور ہونا ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔
بہت سے نوجوان اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں، جس سے احساسِ محرومی اور ناکامی پیدا ہوتی ہے۔ موبائل کا متوازن استعمال، مطالعہ، کھیل کود اور سماجی سرگرمیوں میں شرکت اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
مفت خوری اور آسان زندگی کی خواہش ----
بعض نوجوان محنت، جدوجہد اور صبر کے بجائے جلد کامیابی حاصل کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر راتوں رات مشہور ہونے والے افراد کو دیکھ کر وہ بھی بغیر محنت کے کامیابی چاہتے ہیں۔
جب حقیقت ان توقعات کے برعکس سامنے آتی ہے تو مایوسی جنم لیتی ہے۔ اسلام اور عقل دونوں محنت، استقامت اور جدوجہد کا درس دیتے ہیں۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کامیابی کا کوئی مختصر راستہ نہیں ہوتا۔
ذہنی اور جسمانی کمزوری۔ ------
صحت مند جسم اور متوازن ذہن ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ بے ترتیب طرزِ زندگی، نیند کی کمی، ورزش سے دوری، غیر صحت بخش خوراک اور مسلسل ذہنی دباؤ نوجوانوں کو کمزور بنا دیتے ہیں۔
جسمانی کمزوری رفتہ رفتہ ذہنی کمزوری میں تبدیل ہو جاتی ہے اور انسان ڈپریشن، چڑچڑے پن اور ناامیدی کا شکار ہو جاتا ہے۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، مناسب آرام اور مثبت مصروفیات ذہنی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
حالات کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرنے کی عادت-----
زندگی ہمیشہ انسان کی خواہشات کے مطابق نہیں چلتی۔ کامیابی اور ناکامی، آسانی اور مشکل، خوشی اور غم زندگی کا حصہ ہیں۔ بعض نوجوان معمولی ناکامی یا مشکلات کو برداشت نہیں کر پاتے اور حقیقت کو قبول کرنے کے بجائے مسلسل پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں۔
حالات کے ساتھ مثبت انداز میں مطابقت پیدا کرنا، صبر و تحمل اختیار کرنا اور مشکلات کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھنا انسان کو ذہنی طور پر مضبوط بناتا ہے۔
***یکسمتی سوچ اور محدود نظریہ -----
بعض نوجوان زندگی کو صرف ایک ہی زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اگر کسی ایک شعبے میں ناکامی مل جائے تو وہ پوری زندگی کو ناکام تصور کر لیتے ہیں۔ یہ یک رخا سوچ ڈپریشن کو بڑھاتی ہے۔
زندگی میں مواقع کے بے شمار دروازے ہوتے ہیں۔ ایک راستہ بند ہو جائے تو دوسرا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مثبت سوچ، مشاورت اور وسیع النظری نوجوانوں کو مایوسی سے بچا سکتی ہے۔
خاندانی داخلی انتشار------
خاندان انسان کی پہلی درسگاہ اور سب سے مضبوط پناہ گاہ ہوتا ہے۔ لیکن جب گھر کے اندر جھگڑے، نااتفاقی، طلاق، بے توجہی، والدین کی مسلسل لڑائیاں یا جذباتی فاصلے پیدا ہو جائیں تو نوجوان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
خاندانی محبت، باہمی احترام، گفتگو اور ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے مسائل کو سنیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔
اسلامی تعلیمات اور ذہنی سکون-----
اسلام انسان کو امید، صبر، توکل اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ سکھاتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
ترجمہ: "خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"
نماز، تلاوتِ قرآن، دعا، ذکرِ الٰہی اور نیک لوگوں کی صحبت انسان کو ذہنی سکون عطا کرتی ہے۔ اسلام مایوسی کو ناپسند کرتا ہے اور ہر حال میں امید اور حوصلے کا درس دیتا ہے۔
ڈپریشن کے حل کے لیے چند عملی تجاویز-----
تعلیم کے ساتھ ہنر اور عملی مہارتیں حاصل کی جائیں۔موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال اختیار کیا جائے۔ر وزانہ ورزش اور جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنایا جائے۔مثبت سوچ اور امید کو فروغ دیا جائے۔ناکامی کو زندگی کا اختتام نہیں بلکہ تجربہ سمجھا جائے۔
خاندان میں محبت، مکالمہ اور تعاون کا ماحول پیدا کیا جائے۔دینی تعلیمات، نماز اور ذکرِ الٰہی سے تعلق مضبوط کیا جائے۔ضرورت پڑنے پر ماہرینِ نفسیات اور اہلِ علم سے مشورہ لیا جائے۔نوجوانوں کو خود روزگاری اور ہنرمندی کی طرف راغب کیا جائے۔وقت کی قدر کرتے ہوئے تعمیری مصروفیات اپنائی جائیں۔
نوجوانوں میں بڑھتا ہوا ڈپریشن ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ ہے جس کے اثرات فرد، خاندان اور پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے اسباب میں معاشی مشکلات، غلط تعلیمی تصورات، موبائل کا بے جا استعمال، خاندانی انتشار اور منفی سوچ نمایاں ہیں۔ اگر نوجوان محنت، صبر، مثبت فکر، دینی وابستگی اور عملی مہارتوں کو اختیار کریں اور معاشرہ ان کی مناسب رہنمائی کرے تو اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ ایک صحت مند، پُرامید اور باصلاحیت نوجوان ہی قوم کی حقیقی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ 

محمد مسلم کبیر لاتور۔
 8208435414

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔