اساتذہ کی اہلیت کے امتحان (ٹی ای ٹی) کی بار بار منسوخی، آخر کیوں؟ - سید فاروق احمد قادری۔


اساتذہ کی اہلیت کے امتحان (ٹی ای ٹی) کی بار بار منسوخی، آخر کیوں؟ - 
سید فاروق احمد قادری۔

28 جون کو منعقد ہونے والا اساتذہ کی اہلیت کا امتحان (ٹی ای ٹی) ایک مرتبہ پھر منسوخ کر دیا گیا۔ محکمۂ تعلیم کے مطابق ممبئی کے بھیونڈی علاقے میں پولیس کو کچھ امیدواروں کے پاس ایسے سوالات ملے جو 28 جون کے امتحان کے سوالات سے ملتے جلتے تھے۔ اسی بنیاد پر امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اگر واقعی بھیونڈی میں کسی منظم گروہ نے امتحانی پرچہ لیک کیا ہے تو اس کی مکمل، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور اصل قصورواروں کو قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اگر معاملہ صرف سوالات کی مماثلت کا ہے تو اس کی بھی گہرائی سے جانچ ضروری ہے۔ ہمارے امتحانی نظام میں طلبہ گزشتہ چار پانچ برسوں کے سوالیہ پرچوں کا بار بار مطالعہ کرتے ہیں، اہم سوالات کی تیاری کرتے ہیں اور انہی میں سے متعدد سوالات دوبارہ امتحان میں آ جاتے ہیں۔ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں بھی اس نوعیت کی مماثلت کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اس لیے صرف سوالات کے مشابہ ہونے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ پورا پرچہ لیک ہو گیا تھا۔

ضلع بیڑ کے تقریباً 17 ہزار امیدوار اس امتحان میں شریک ہونے والے تھے۔ گزشتہ امتحان میں کامیابی کی شرح انتہائی کم رہنے کے بعد 17,262 امیدواروں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کی ہدایت پر امتحانی عمل کو دو مراحل میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل امیدواروں کو کامیابی کا منصفانہ موقع مل سکے۔ ایسے حالات میں بار بار امتحان کی منسوخی ان امیدواروں کے لیے مزید تشویش کا سبب بن رہی ہے۔

آج اساتذہ کی اہلیت کا امتحان صرف ایک امتحان نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے روزگار، مستقبل اور ان کے خاندانوں کی امیدوں کا معاملہ بن چکا ہے۔ بار بار امتحان ملتوی یا منسوخ ہونے سے امیدواروں کو ذہنی اذیت، مالی نقصان اور شدید بے یقینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی امیدوار دور دراز علاقوں سے امتحانی مراکز تک پہنچنے کے لیے اخراجات کرتے ہیں، مہینوں محنت سے تیاری کرتے ہیں، لیکن ہر بار ان کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور محکمۂ تعلیم امتحانی نظام کو مزید محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد بنائیں۔ اگر کہیں بدعنوانی ہوئی ہے تو اس کے اصل ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، مگر چند افراد کی غلطی کی سزا لاکھوں محنتی اور بے قصور امیدواروں کو نہ دی جائے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ امتحانات بروقت، شفاف اور منصفانہ انداز میں منعقد ہوں تاکہ اساتذہ اور امیدواروں کا اعتماد بحال رہے اور ان کے مستقبل پر بار بار بے یقینی کے سائے نہ منڈلاتے رہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔