آرمور میں اردو ٹیچر پر تھپڑ رسید کرنے کا واقعہ، ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ،صدر جمعیت علماء مولانا سید احسان الدین رشادی و قاسمی کا بیان۔


حیدرآباد 28 جون ( نمائندہ) آرمور میں مختلف سیاسی جماعتوں، مذہبی تنظیموں اور سماجی گروپوں کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر آرمور پولیس اسٹیشن کے سرکل انسپکٹر (CI) کو ایک شکایت پیش کرتے ہوئے اردو ٹیچر پر مبینہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا، وفد نے اس واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکول انتظامیہ کی ہدایت پر طلبہ کو اردو پڑھانے کے دوران ایک استاد کو مبینہ طور پر تھپڑ مارا گیا، جو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اساتذہ، طلبہ اور اردو بولنے والی برادری میں خوف، بے چینی اور غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے، شکایت کنندگان نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مقدمہ درج کرتے ہوئے منصفانہ تحقیقات کی جائیں، ملوث افراد کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ کو بلا خوف و خطر اپنے تدریسی فرائض انجام دینے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جانا چاہیے، آرمور کے سرکل انسپکٹر نے شکایت وصول کرتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات قانون کے مطابق کی جائیں گی اور حقائق کی بنیاد پر مناسب قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اس واقعہ پر صدر جمعیت علماء ہند ریاست تلنگانہ مولانا شاہ سید احسان الدین رشادی قاسمی نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک استاد پر حملہ ناقابلِ برداشت عمل ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت اور محکمہ پولیس سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے، اساتذہ کے وقار اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ایسے عناصر کے خلاف مثالی اقدام کیا جائے تاکہ آئندہ کسی استاد کے ساتھ اس طرح کا افسوسناک واقعہ پیش نہ آئے۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔