نشہ: سکون نہیں، تباہی کا راستہ - قرآن و حدیث کی روشنی میں۔ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔


نشہ: سکون نہیں، تباہی کا راستہ - قرآن و حدیث کی روشنی میں۔
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ 
M A M Ed 
8904317986

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن ان تمام نعمتوں میں صحت اور تندرستی ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کی قدر انسان عموماً اس وقت کرتا ہے جب وہ اس سے محروم ہو جاتا ہے۔ صحت اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ افسوس کہ آج کے دور میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مختلف قسم کے نشوں کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ کوئی شراب نوشی میں مبتلا ہے، کوئی گانجا اور منشیات استعمال کر رہا ہے، جبکہ تمباکو، سگریٹ، پان مسالہ اور گٹکا بھی صحت کو تباہ کرنے والے نشوں میں شمار ہوتے ہیں۔
بعض نوجوان یہ کہتے ہیں کہ "نشہ کرنے سے سکون ملتا ہے" یا "پریشانیاں بھول جاتی ہیں"، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نشہ سکون نہیں دیتا بلکہ انسان کو وقتی غفلت میں مبتلا کر کے مستقل تباہی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ جو سکون اللہ تعالیٰ کی یاد، نماز، دعا اور تلاوتِ قرآن میں ہے، وہ دنیا کی کسی نشہ آور چیز میں نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ﴾ "یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔" (سورۃ الرعد: 28)
اسلام نے ہر اس چیز سے منع کیا ہے جو انسان کی عقل، صحت اور کردار کو نقصان پہنچائے۔ شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے:
﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾
"اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا، بت اور فال نکالنے کے تیر شیطانی گندے کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔" (سورۃ المائدہ: 90)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" "ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔" (صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
"مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ" "جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔" (سنن ابی داؤد، ترمذی)
نشہ صرف انسان کی صحت ہی کو برباد نہیں کرتا بلکہ اس کی عقل، عزت، مال، خاندان اور مستقبل کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔ کتنے ہی گھر نشے کی وجہ سے اجڑ گئے، کتنے والدین اپنی اولاد کی بری عادتوں کی وجہ سے آنسو بہانے پر مجبور ہیں، اور کتنے بچے اپنے باپ کی نشے کی لت کے سبب تعلیم، محبت اور اچھی تربیت سے محروم ہیں۔
اسلام انسان کو صبر اور توکل کی تعلیم دیتا ہے۔ زندگی میں مشکلات، پریشانیاں، خوشیاں اور غم آتے رہتے ہیں۔ یہ دنیا آزمائش کا گھر ہے۔ اگر انسان کو ہر وقت خوشیاں ہی ملتی رہیں تو وہ اپنے رب کو بھول سکتا ہے، اور اگر صرف مشکلات ہی ہوں تو وہ مایوسی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ حالات کو بدل بدل کر بندے کا امتحان لیتے ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِيْنَ﴾ "اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک، مال و جان اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔" (سورۃ البقرہ: 155)
پریشانیوں کا علاج نشہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہے۔ نماز، دعا، تلاوتِ قرآن، نیک صحبت اور صبر انسان کو حقیقی سکون عطا کرتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں شراب حرام نہیں تھی اور عرب معاشرے میں اس کا عام رواج تھا۔ لوگوں کو اس کی عادت بھی تھی۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا اور نبی کریم ﷺ نے یہ حکم صحابۂ کرامؓ تک پہنچایا تو ایمان والوں نے فوراً اطاعت کا مظاہرہ کیا۔
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے اپنے گھروں میں موجود شراب کو فوراً بہا دیا، یہاں تک کہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔
یہ صحابۂ کرامؓ کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت اور فرمانبرداری کا عظیم نمونہ تھا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ "ہمیں اس کی عادت ہے" یا "آہستہ آہستہ چھوڑیں گے" بلکہ اللہ کے حکم کے سامنے فوراً سرِ تسلیم خم کر دیا۔
آج اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ "نشہ چھوڑنا مشکل ہے" تو اسے صحابۂ کرامؓ کی اس مثال کو یاد کرنا چاہیے۔ جس دل میں اللہ کی محبت اور آخرت کی فکر ہو، اس کے لیے کوئی بھی بری عادت چھوڑنا ناممکن نہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا جسم ہمارا ذاتی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ قیامت کے دن انسان سے اس کی عمر، صحت اور جوانی کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ اسے کہاں اور کس کام میں صرف کیا۔
لہٰذا آئیے عہد کریں کہ ہم خود بھی ہر قسم کے نشے سے دور رہیں گے، اپنی اولاد اور نوجوان نسل کو بھی اس سے بچانے کی کوشش کریں گے اور اپنے معاشرے کو ایک پاکیزہ، صحت مند اور باکردار معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی برائی اور نشے کی لعنت سے محفوظ فرمائے، ہماری نوجوان نسل کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنی صحت، جوانی اور زندگی کو اس کی رضا کے مطابق استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔