اللہ تعالی کی قدرت اور انسان کی مجبوری و بےبسی۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔


اللہ تعالی کی قدرت اور انسان کی مجبوری و بےبسی۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔

   زمین و آسمانوں پر اللہ تعالی کی حکومت ہے یعنی ان پر اللہ تعالی کا ہی حکم چلتا ہے اور جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے وہ اللہ تعالی ہی کی ملکیت ہے اور کسی بھی مخلوق میں اتنی طاقت و قوت نہیں ھیکہ وہ اسکی حکومت اور ملکیت میں مداخلت کرسکے ساری مخلوقات اسکے سامنے مجبور و بےبس ہیں زمین و آسمانوں کے خزانوں کا وہ تنہا مالک ہے اور ہر چیز کے اسکے پاس خزانے ہیں جو نہ کبھی ختم ہونگے اور نہ ہی انمیں کبھی کمی واقع ہوگی لیکن اللہ تعالی اپنی حکمت بالغہ کے ذریعے ہر چیز کو ایک معین مقدار میں نازل فرماتے ہیں جیساکہ قرآن کریم میں اسکو واضح کیا گیا ہے 
آسمان سے بارش کا نزول اللہ تعالی کی حکمت اور مشیت سے ہوتا ہے جسمیں انسان یا کسی اور چھوٹی بڑی مخلوق کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ بارش کب ہوگی کتنی ہوگی اور کہاں ہوگی ? اسکا بھی صحیح اور حقیقی علم سوائے اللہ تعالی کے اور کسی کو نہیں ہے انسان اپنے تجربے اور معلومات کی بنیاد پر قرآئن کی روشنی میں اندازہ تو لگا سکتا ہے لیکن حقیقی معلومات نہیں دے سکتا جیساکہ ہمیشہ اسکا تجربہ ہوتا رہتا ہے سائنس اور ٹکنالوجی کی اتنی ترقی کے باوجود کہ انسان بادلوں کے اوپر سفر کرتا ہے لیکن کسی میں اتنی طاقت و قوت نہیں ھیکہ آسمان سے ایک قطرہ بارش کا برسا سکے تو انسان چاہے کتنا ہی ترقی کرلے لیکن اللہ تعالی کی قدرت اور طاقت کے سامنے وہ انتہائی کمزور ، مجبور اور بے بس ہے اسلئے انسانوں کو اس سے سبق لینا چاہئے 
  انسانی زندگی کا دارومدار پانی پر ہے اسلئے بارش کی تاخیر یا اسمیں کمی سے ساری مخلوقات کو پریشانی اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسلئے کہ بسااوقات نعمتوں کی ناقدری و ناشکری اور بندوں کا اللہ تعالی کی عبادت اطاعت اور فرمانبرداری سے منہ موڑنا یہ ایسے گناہ ہیں جو بارش میں تاخیر و کمی اور قحط سالی کا سبب بنتے ہیں جیساکہ قرآن کریم اور احادیث 
 مبارکہ میں اسکو بیان کیا گیا ہے 
    اور تمہیں جو کچھ مصیبت لاحق ہوتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے اور وہ تو بہت سے گناہوں سے درگذر فرماتے ہیں 
  ایک حدیث شریف میں اپنے مالوں کی زکات نہ ادا کردینے کو بارش کے روک دینے کا سبب بتلایا گیا ہے بلکہ اور ایک حدیث میں ھیکہ اگر یہ چوپائے نہ ہوتے تو اللہ تعالی بارش بھی نہیں برساتا 
  تو ایسے موقع پر ہمیں اللہ تعالی کو راضی اور خوش کرنیکی کوشش کرنی چاہئے اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہونا چاہئے صدقہ و خیرات کی کثرت کرنی چایئے اور ظلم و ستم اور مظالم سے رکنا چاہئے اللہ تعالی اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی فکر بڑی عاجزی و انکساری کیساتھ دعاووں اور نماز استسقاء کا اہتمام کرنا چاہئے جیساکہ احادیث مبارکہ میں نبئ کریم کا عمل بتلایا گیا ہے 
  حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو توبہ و استغفار کا حکم دیا تھا اور یہ بھی فرمایا کہ توبہ و استغفار کرنیکی وجہ سے اللہ تعالی تم پر موسلا دھار بارش برسائیگا اسلئے کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور تمہاری مال اور بیٹوں کے ذریعے مدد کریگا اور تمہارے لئے نہریں اور باغات جاری کریگا 
   اسلئے جب تک بارش نہیں ہوتی تب تک بار بار ہمیں ان اعمال کو دوہراتے رہنا چاہئے 
  اللہ تعالی ہمارے گناہوں اور خطاووں کو معاف فرمادے اور خطاووں اور لغزشوں سے درگذر فرمائے اور اپنے فضل و کرم سے ہم پر نفع بخش بارش کو نازل فرمادے اور اپنے بندوں کیساتھ وہ معاملہ فرمائے جو آپکی ذات عالی کے شایان شان ہو 


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔