جنت کی گیارنٹی - ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی۔(سابق فیمیلی کونسلر دبی کورٹ)


جنت کی گیارنٹی - 
ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی۔
(سابق فیمیلی کونسلر دبی کورٹ)

ہر مسلمان کی دلی خواھش ہے کہ اسے دنیا ہی میں جنت میں جانے کی گیارنٹی مل جائے - مگر اس امت میں صرف دس مسلمان ایسے ہیں جن کو واقعی یہ گیارنٹی ملی ہے اور وہ ہیں حضرت ابو بکر الصدیق  حضرت عمر بن الخطاب حضرت عثمان بن عفان حضرت علی بن ابی طالب حضرت طلحہ بن عبید اللہ حضرت زبیر بن العوام حضرت عبد الرحمن بن عوف حضرت سعد بن ابی وقاص حضرت سعید بن زید اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنھم( ترمذی، سنن ابی داود، مسند احمد بن حنبل رحمہ اللہ)
ان کے بعد قیامت تک پیدا ہونے والوں مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو باتیں ایسی بتائیں ہیں کہ اگر کوئی مسلمان ان دو باتوں پر زندگی بھر عمل کر لے تو اس کی جنت کی ضمانت اور گیارنٹی خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دی ہے - ( عن سھل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ “ من یضمن لی ما بین لحییه وما بین رجلیه أضمن له الجنة جو شخص مجہے اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان والے حصہ کی اور اس کے دونوں پیروں کے درمیان والے حصہ کی ضمانت دے دے میں اس کو جنت کی ضمانت و گیارنٹی دیتا ہوں- )
عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہے- پھر بھی کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے:
حدیث میں پہلا مطالبہ زبان کی حفاظت یعنی اس کا صحیح استعمال ہے- زبان زیادہ سے زیادہ اللہ کے ذکر کے لئے ، قرآن پڑھنے ، اچھی بات بولنے اور کسی کی دینی اور دنیوی رہنمائی کے لئے استعمال ہو - زبان سے کسی کا دل نہ دکھایا جائے غیبت چغلی اور گالی گلوچ ہرگز نہ ہو - دینی یا دنیوی مشورہ غلط نہ ہو- دوسری حدیث میں ہے ( من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیرا او لیصمت جس شخص کا اللہ اور آخرت پر ایمان ہے تو وہ ہمیشہ زبان سے فائدہ والی بات بولے یا پھر چپ رہے- 
ایک اور حدیث میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور جہنم سے دور- آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم نے بہت بڑی بات پوچھی اور یہ آسان بات ہے اس کے لئے جس کو اللہ آسان کردے- تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ- نماز کو قائم کرو زکوٰۃ دو رمضان کے روزے رکھو اور حج کرو- اس کے بعد فرمایا کیا میں تمہیں اچھے کاموں کے طریقے بتاؤں : روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہ کو ایسے ختم کرتا ہے جیسے پانی آگ کو اور آدھی رات کے بعد کسی کا نماز پڑھنا- پھر  آیت تلاوت فرمائی ( انکے یعنی سچے مسلمانوں کے پہلو یعنی جسم بستر سے دوراور اپنے رب کے حضور عبادت کرتے رہتے ہیں ) پھر فرمایا کیا میں تمہیں ان سب باتوں کو ملا کر ان کی جڑ ، اس کا ستون اور اس کی سب سے اونچی چوٹی تک پہونچ جانے کا راستہ بتاؤں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ و سلم)  فرمایا تمام کاموں کی بنیاد اسلام لانا ہے اس کا ستون نماز ہے اور اس کی سب سے اونچی چوٹی جہاد ہے- پھر فرمایا کیا میں تم کو ان سب باتوں کی اصل بنیاد بتاؤں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) ، تو آپ نے اپنی زبان مبارک کو ہاتھ لگاتے ہوئے فرمایا ( کف علیک ھذا) تم اس کی حفاظت کرو- حضرت معاذ نے عرض کیا: کیا ہم جو بات چیت کرتے رہتے ہیں اس کی پکڑ ہوگی ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا معاذ مجھے تم پر تعجب ہے ، لوگ اپنی اپنی باتوں سے کمائے ہوئے گناہوں کی وجہ سے ہی  ان کے منھ کے یا ناک کے بل جہنم میں پھینکے جائیں گے - 
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر مسلمان کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں - اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید انسان جو لفظ بھی بولتا ہے اسے وہیں بڑا باریک بین اور ٹھیک وہی بات لکھنے والا 
موجود ہے- 
جہاں تک شرمگاہ کی حفاظت ہے وہ ہر شخص کو اچھی طرح معلوم ہے یعنی زنا کاری نہ ہو - اس بارے میں سب سے پہلے نظر کی حفاظت ضروری ہے - نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا ( یا علی لا تتبع النظرۃ النظرۃ فان لک الاولی ولیست لک الآخرۃ اے علی کسی عورت کی طرف بار بار نظر مت ڈالو کیونکہ پہلی نظر معاف ہے دوسری نہیں)-
دوسری حدیث میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: آدم کی اولاد پر کچھ نہ کچھ زنا لکھ دیا گیا ہے اور وہ ہر حال میں ہوتا رہے گا- اس لحاظ سے آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا ویسی باتوں کا کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا چھونا ہے اور پیروں کا زنا اس کام کے لئے چلنا ہے اور دل اس کی خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا  جھٹلا دیتی ہے ( بخاری و مسلم)-
ایک اور حدیث میں بڑی سخت بات کہی گئی ہے : زنا کی حالت میں زانی کا ایمان باقی نہیں رہتا اور چوری کی حالت میں چور کا ایمان ختم ہو جاتا ہے اور شراب  پینے کی حالت میں شرابی کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے ( بخاری شریف) تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان تین کبیرہ گناہ کے کرنے والوں پر کلمہ طیبہ پڑھنا یعنی دوبارہ مسلمان ہونا ضروری ہے اور ایمان کی تجدید کئے بغیر اگر مر گیا تو کافروں میں شمار ہوگا-
اخیر میں علامہ اکبر الہ آبادی کے اشعار پڑھ لیجیے اور اس پر عمل بھی کیجیے:
نیچر کو ہوئی خواہش زن کی 
اور نفس نے چاہا رشک پری
شیطان نے دی ترغیب کہ ہاں
لذت تو ملے زانی ہی سہی
نیچر کی طلب بالکل ہے بجا
اور نفس کی خواہش بھی ہے روا
شیطان کا ساتھ البتہ پڑا
اور خوف خدا ہے اس کی دوا

اکبر الہ آبادی کے یہ اشعار بھی پڑھیے اور اس علاج پر عمل بھی کیجیے: 
نیچر کو ہوئی خواہش زن کی
اور نفس نے چاہا رشک پری
شیطان نے دی ترغیب کہ ہاں
لذت تو ملے زانی ہی سہی
نیچر کی طلب بالکل ہے بجا
اور نفس کی خواہش بھی ہے روا
شیطان کا ساتھ البتہ پڑا
اور خوف خدا ہے اس کی دوا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔