وسیم راہی کی غزلوں میں اقدار اور علامتیں: ایک تنقیدی جائزہ - ڈاکٹر سہیم الدین خلیل الدین صدیقی ۔ (اورنگ آباد دکن)


وسیم راہی کی غزلوں میں اقدار اور علامتیں: ایک تنقیدی جائزہ - 
ڈاکٹر سہیم الدین خلیل الدین صدیقی ۔ 
(اورنگ آباد دکن)
اسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو، 
سوامی رامانند تیرتھ مہاودیالیہ امبا جوگائی، ضلع بیڑ 
8087933863۔

اورنگ آباد دکن کی وہ خجستہ  بنیاد ہے جہاں اردو تحقیق و تنقید کے ساتھ ساتھ اردو شعر و شاعری نے بھی نمایاں جوہر دکھائے۔ اس روایت کی ابتدا ولی دکنی و سراج اورنگ آبادی سے ہوتی ہے۔ بعد ازاں عہدِ متوسط کے شعرا میں فاروق شمیم، خان شمیم، سلیم محی الدین اور ارتکاز افضل نے اردو غزل کے دامن کو وسعت عطا کی، جب کہ عہدِ جدید میں احمد اورنگ آبادی، غزالہ پروین، بلال انور، زورین صدف، صبا منیر احمد اور وسیم راہی جیسے نوجوان شعرا اردو غزل کے روشن چراغ بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان نوجوان شعرا میں وسیم راہی اپنی انفرادی شناخت، منفرد لہجے اور عصری حسّیت کے باعث خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
وسیم راہی کا تعلق ایک ایسے خانوادے سے ہے جو تقریباً ستر برسوں سے اورنگ آباد میں مقیم ہے۔ ان کے والد شیخ رفیق ایم آئی ڈی سی چیکل تھانہ کی کسی کمپنی میں ملازم تھے۔ سن 2005 میں ان کے والد کا انتقال ہوا، اس وقت وسیم راہی کی عمر صرف پندرہ برس تھی۔ اس حادثے نے ان کی شخصیت اور فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کی والدہ حیات ہیں اور یہی خاندانی وابستگی، محرومی اور جدوجہد ان کی شاعری میں داخلی کرب اور سچائی کی صورت جلوہ گر ہوتی ہے۔ وسیم راہی کی ابتدائی تعلیم سے لے کر گریجویشن تک کا تمام تعلیمی سفر مراٹھی میڈیم میں مکمل ہوا۔ انہوں نے مولانا آزاد کالج روزہ باغ اورنگ آباد سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اگرچہ ان کی تعلیمی زبان مراٹھی رہی، لیکن اردو زبان و ادب سے ان کی محبت نے انہیں ایک معتبر غزل گو شاعر کے طور پر متعارف کرایا۔
وسیم راہی کی شاعری کا بنیادی حوالہ انسان کی داخلی شکست و ریخت، سماجی انتشار، تہذیبی زوال، محبت کے کرب اور ذات کی تلاش ہے۔ ان کے اشعار میں زندگی کی تلخ حقیقتیں نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں نظر آتی ہیں۔ وہ لفظوں کی نمائش کے بجائے احساس کی شدت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کی غزلیں قاری کے دل میں فوری اثر پیدا کرتی ہیں۔
وسیم راہی کے یہاں تہذیبی شکست اور مغربی اثرات کے خلاف ایک فکری اضطراب نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
آئی ہے جب سے مغربی تہذیب گھر مرے
گھر چیختا ہے روز کہ بے گھر کرو مجھے۔۔

یہ شعر محض تہذیبی تصادم کی منظر کشی نہیں بلکہ مشرقی اقدار کے زوال کا نوحہ بھی ہے۔ شاعر نے “گھر” کو علامتی پیکر کے طور پر استعمال کیا ہے جو صرف اینٹ پتھر کی عمارت نہیں بلکہ تہذیب، رشتوں اور روایتوں کا استعارہ ہے۔
اسی طرح ان کا یہ شعر ان کی داخلیت اور خود شناسی کا آئینہ دار ہے:
جس نے پڑھا مجھے تو ادھورا پڑھا وسیم
قصہ ہی مختصر ہوں، سو ازبر کرو مجھے۔۔

یہاں شاعر اپنی ذات کی پیچیدگی اور فکری گہرائی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ “ادھورا پڑھا” جیسی ترکیب اس بات کی علامت ہے کہ شاعر کو سمجھنے کے لیے محض سرسری مطالعہ کافی نہیں بلکہ اس کی روح تک رسائی ضروری ہے۔
وسیم راہی کے یہاں محبت محض جذباتی واردات نہیں بلکہ ایک روحانی اور نفسیاتی تجربہ بن کر سامنے آتی ہے۔ ان کے اشعار میں ہجر، تنہائی اور اضطراب کی کیفیت بہت شدت سے موجود ہے:
تنہائی، اضطراب، شبِ ہجر اور ہم
دل نے تمام رات چراغوں سے بات کی۔۔

یہ شعر کلاسیکی غزل کی فضا رکھتا ہے مگر اس کا احساس مکمل طور پر عصری ہے۔ “چراغوں سے بات کرنا” تنہائی کی آخری حد کا استعارہ ہے جہاں انسان بےجان اشیا سے بھی مکالمہ کرنے لگتا ہے۔
وسیم راہی کی شاعری میں انسانی رشتوں کی تلخی اور معاشرتی رویوں کی بے حسی بھی نمایاں ہے۔ مثلاً:
مجھ کو بلندیوں کی دعائیں بھی تم نے دی
میری ترقیوں سے بھی جلنے لگے ہو تم۔۔

یہ شعر عصرِ حاضر کے منافقانہ رویوں اور حسد زدہ معاشرے کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ شاعر نے نہایت سادہ زبان میں انسانی نفسیات کی پیچیدگی کو بیان کیا ہے۔
اسی طرح یہ شعر بھی ان کی فکری پختگی کا غماز ہے:
منزل کی جستجو میں مگن اس قدر تھے ہم
پاؤں کے آبلوں کی عیادت نہ کر سکے۔۔

یہ شعر جدید انسان کی بے سمتی اور مسلسل دوڑ کی علامت ہے۔ شاعر نے کامیابی کی اندھی خواہش کو اس خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ شعر قاری کو اپنے وجود پر غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
وسیم راہی کی غزلوں میں داخلی کرب اور تخلیقی اذیت بھی جابجا دکھائی دیتی ہے۔ ان کا مشہور شعر ہے:
رگوں سے خون رستا ہے یہاں اک شعر کہنے میں
میاں تم شاعری کرنے کو کیا آساں سمجھتے ہو۔۔

یہ شعر دراصل تخلیق کے کرب کی علامت ہے۔ شاعر واضح کرتا ہے کہ شاعری محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں سے گزرنے کا عمل ہے۔
ان کے یہاں خود احتسابی اور انا کی نفی کا تصور بھی موجود ہے:
دل سے انا کی آگ بجھا تو سہی کبھی
اک دیپ چاہتوں کا جلا تو سہی کبھی۔۔

یہ شعر اخلاقی اور روحانی اقدار کا ترجمان ہے۔ شاعر محبت، انکساری اور انسانی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
وسیم راہی کی شاعری کا ایک اہم پہلو ان کا تہذیبی اور لسانی شعور بھی ہے۔ وہ اردو زبان سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ ان کا یہ شعر دیکھیے جس میں اُن کی اُردو سے محبت دکھائی دیتی ہے:
لہجے میں میرے کوئی الگ بات تو نہیں
کرتا ہوں بات بس کہ میں اردو زبان میں۔۔

یہ شعر اردو زبان کی مٹھاس، تہذیب اور شائستگی کی نمائندگی کرتا ہے۔ شاعر کے نزدیک اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیبی شناخت ہے۔
اسی سلسلے کا ایک اور شعر ملاحظہ ہو:
زندہ ہے ابھی ایسے بھی اردو کے محافظ
اردو کی بچاتے ہیں جو دستار غزل میں۔۔

یہاں شاعر نے اردو غزل کو تہذیبی وقار کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ “دستارِ غزل” کی ترکیب نہایت خوبصورت اور معنی خیز ہے۔
وسیم راہی کے بعض اشعار میں فلسفیانہ رنگ بھی جھلکتا ہے۔ مثلاً:
اس قدر اپنے آپ کو تقسیم کر دیا
اب خود کو ذرہ بھر بھی میسر نہیں ہوں میں۔۔

یہ شعر جدید انسان کی منتشر شخصیت اور داخلی ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ معاشرتی ذمہ داریوں اور تعلقات کے بوجھ تلے دب کر انسان اپنی ذات سے ہی دور ہو جاتا ہے۔
اسی نوعیت کا مزید ایک اور شعر:
کس نے وسیم ہستی یہ میری اُجاڑ دی
مدت سے اپنی ذات کے اندر نہیں ہوں میں۔۔

یہ شعر وجودی کرب کا بہترین اظہار ہے۔ شاعر اپنی داخلی ویرانی کا اعتراف کرتا ہے اور یہی اعتراف اس کی شاعری کو سچائی عطا کرتا ہے۔
وسیم راہی کی غزل گوئی میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ کلاسیکی غزل کے آہنگ کو برقرار رکھتے ہوئے عصری مسائل اور جدید احساسات کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بناتے ہیں۔ ان کے یہاں زبان سادہ، رواں اور عام فہم ہے مگر اس سادگی میں گہری معنویت پوشیدہ ہے۔ یہی خوبی انہیں معاصر شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔
ان کی شاعری میں علامت نگاری اور استعاراتی حسن بھی نمایاں ہے۔ مثلاً:
حیرت سے تاکتی رہی ساحل کی تشنگی
دریا سمٹ کے جب مرے کوزے میں آ گیا۔۔

یہ شعر وسیم راہی کے تخیل کی بلند پروازی اور شعری جمالیات کا عمدہ نمونہ ہے۔ “دریا” اور “کوزہ” کی علامتیں صوفیانہ معنویت بھی رکھتی ہیں اور انسانی ظرف کی وسعت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔
وسیم راہی کے یہاں سادگیِ بیان ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ وہ مشکل الفاظ اور پیچیدہ تراکیب کے بجائے عام فہم زبان میں گہری بات کہنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار قاری کے ذہن میں دیر تک باقی رہتے ہیں۔
ان کی شاعری کا ایک اور اہم پہلو سماجی شعور ہے۔ وہ معاشرے کے بدلتے ہوئے رویوں، رشتوں کی بے معنویت اور انسان کی داخلی تنہائی کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا یہ شعر دیکھیے:
اس نے بھی اپنے آپ کو مصروف کر لیا
ہم کو بھی یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی۔۔

یہ شعر جدید زندگی کی مصروفیت اور تعلقات کی سردمہری کا مکمل منظرنامہ پیش کرتا ہے۔
اسی طرح:
میں جب خانہ بدوشوں کو بھٹکتے دیکھتا ہوں تو
مجھے غمگین کرتے ہیں کرائے دار کے قصے۔۔

یہ شعر معاشی مسائل اور بے گھری کے کرب کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتا ہے۔ شاعر نے عام انسان کے مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بنا کر اپنی عصری آگہی کا ثبوت دیا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وسیم راہی کی غزل گوئی میں فکری سنجیدگی، داخلی سچائی، تہذیبی شعور، محبت کا کرب اور سماجی آگہی ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ان کے اشعار میں جذبات کی شدت بھی ہے اور فکر کی گہرائی بھی۔ وہ روایت سے جڑے ہوئے شاعر ہیں مگر ان کا لہجہ مکمل طور پر عصری ہے۔ یہی خصوصیت انہیں نئی نسل کے اہم شعرا میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔
وسیم راہی کی شاعری اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو غزل آج بھی زندہ، متحرک اور عصری حسیت سے بھرپور صنفِ سخن ہے۔ انہوں نے اپنے تجربات، مشاہدات اور احساسات کو جس سادگی اور خلوص کے ساتھ شعری قالب میں ڈھالا ہے، وہ انہیں معاصر اردو شاعری میں ایک منفرد شناخت عطا کرتا ہے۔ اگر وہ اسی سنجیدگی اور تخلیقی ریاضت کے ساتھ اپنی شعری سفر جاری رکھتے ہیں تو یقیناً اردو غزل کے افق پر ان کا نام مزید روشن ہوگا۔ میں اپنے خیالات کو انہیں کے شعر پر ختم کرتے ہوئے یہ دُعا کرتا ہوں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔
انداز بیاں آپ کا بھی خُوب ہے لیکن
راہی کے بھی کُچھ کم نہیں اشعار غزل میں۔۔!

Dr. Sahimoddin Khaliloddin Siddiqui
(Aurangabad Deccan)
Mob. 8087933863.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔