مسجدِ بارگاہ حضرت راجہ باگ شیر سوارؒ میں پہلی مجلسِ امام حسینؓ، سجادہ نشین کا پراثر خطاب۔
بیدر19 جون(نامہ نگار) مسجدِ بارگاہ حضرت راجہ باگ شیر سوار رحمۃ اللہ علیہ میں ماہِ محرم الحرام کے سلسلہ میں پہلی مجلسِ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس موقع پر پیرِ طریقت حضرت مولانا خواجہ ضیاء الحسن جاگیردار صاحب قبلہ، سجادہ نشین و متولی بارگاہِ حضرت ممدوح نے پراثر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیاتِ مبارکہ حق، صداقت، عدل، صبر اور استقامت کا روشن مینار ہے۔ آپؓ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور امتِ مسلمہ کی اصلاح کے لیے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور رفقاء کی عظیم قربانی پیش کرکے رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان فرق کو واضح کردیا۔
انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم درس ہے، جو ہمیں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے، حق پر ثابت قدم رہنے اور دینِ اسلام کے اصولوں کی حفاظت کا پیغام دیتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے باطل قوتوں کے سامنے سر جھکانے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی اور اپنے کردار سے ثابت کردیا کہ عزت و سربلندی صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی اطاعت میں ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے مزید فرمایا کہ آج کے دور میں بھی ہمیں سیرتِ امام حسینؓ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اخلاص، اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو تلقین کی کہ وہ اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور کردار، دیانت داری اور خدمتِ خلق کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔
سجادہ نشین صاحب نے کہا کہ اہلِ بیتِ اطہارؓ سے محبت ایمان کا تقاضا ہے اور واقعۂ کربلا ہمیں صبر، قربانی اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اتحاد و اتفاق عطا فرمائے اور ہمیں حق و صداقت کے راستے پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
محفل کا آغاز جناب محمد مصباح الحسن جاگیردار کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں منتخب نعت خواں حضرات نے حمدِ باری تعالیٰ، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور منقبت پیش کرکے سامعین کے دلوں کو منور کیا۔
مجلس میں بڑی تعداد میں مریدین، معتقدین، علماء کرام اور محبانِ اہلِ بیت نے شرکت کی۔ آخر میں سلام، فاتحہ اور دعائے خیر کے ساتھ مجلس کا اختتام عمل میں آیا۔
Comments
Post a Comment