ذمہ داران مساجد اور مصلیان۔ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔


ذمہداران مساجد اور مصلیان۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔

   گاووں میں مساجد کا سارا نظام اور نظم و نسق جماعت المسلمین کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور مساجد کی ساری ضروریات اور امام و موذن اور خدام کی تنخواہیں بھی جماعت المسلمین کے ذریعے ادا کیجاتی ہیں گاوں کے سارے گھر جماعت کے ممبران ہوتے ہیں اور ماھانہ یا سالانہ ایک متعین  رقم جسکو جماعت پٹی کہتے ہیں نکالتے ہیں اور اسکے ذریعے مساجد کے یہ سارے خرچے پورے کئے جاتے ہیں اسطرح گاوں کے مخیر حضرات اسطرح بیرونی ملک برسرروزگار نوجوان بھی وقتا فوقتا تعاون کرتے ریتے ہیں اسطرح بعض مساجد میں جمعہ و عیدین میں بھی چندہ کیا جاتا ہے جس سے ایک خاصی رقم جمع ہوجاتی ہے جس سے بھی خرچے میں آسانی ہوتی ہے 
  لیکن شہروں میں  اکثر و بیشتر جماعت المسلمین کا نظام نہیں ہوتا بلکہ ٹرسٹ اور ادارے بنائے جاتے ہیں اور جمعہ و عیدین کے چندے اور دیگر مخیر حضرات کے عطیات اور تعاون سے مساجد کا نظام سنبھالا جاتا ہے 
  اسلئے امام و موذن اور خدام مساجد کو اچھی تنخواہیں دینا اور انکی ضروریات کا خیال رکھنا اور مساجد و مکاتب کے نظام کو صحیح طورپر چلانا اسطرح مساجد میں آنے والے مصلیان کی سہولیات کا خیال رکھنا یہ ذمہداران کے ذمہ لازم و ضروری ہے 
 آج کل گرمی عروج پر ہے اور گاوں اور شہر کی مساجد میں پنکھے اور بعض مساجد میں الحمد لللہ اے _ سی بھی لگے ہوئے ہیں اسلئے حالات کی ضروریات کے اعتبارسے لائٹ پنکھے اور اے سی کو چلانا تاکہ مصلیان اطمینان اور سکون کیساتھ عبادت کرسکیں یہ انتظامیہ کی ذمہداری ہے لیکن بعض مساجد میں ذمہداران حضرات اسکا خیال نہیں کرتے بلکہ اسکے لئے مختلف قسم کے بہانے بناتے ہیں کہ لائٹ بل زیادہ آتا ہے یا گھر میں تم پنکھے یا اے سی چلاتے ہوکیا وغیرہ تو یہ کہنا درست نہیں ہے ہاں بیجا اسراف نہ ہو بلکہ ساری چیزیں اعتدال اور ضرورت کے اعتبارسے ہونی چاہئے اسلئے کہ مساجد کی ساری چیزیں وقف ہوتی ہیں اور ٹرسٹیان اسکے مالک نہیں ہوتے بلکہ اسکے امین ہوتے ہیں 
  لیکن ضرورت کے باوجود اے سی اور پنکھے چلانے نہیں دینا یا ایک یا دو وقت ہی چلانا آج کے ان حالات میں جبکہ شدت سے گرمی پڑ رہی ہے اور خصوصا شہروں میں جہاں پنجوقتہ نمازوں میں مساجد مصلیان سے بھری رہتی ہے کسی طرح بھی مناسب نہیں اسلئے کہ پیسہ عوام کا ہے ٹرسٹیان کا نہیں ہے تو عوام کی سہولیات کے لئے استعمال ہونا چاہئے 
 اسلئے ایسے حضرات کو انتظامیہ میں رکھنا چائے جو اچھے اخلاق و عادات کے حامل ہوں جسکے دل میں قوم و ملت کادرد ہو جو قوم و ملت اور مسجد و ادارے کا خیرخواہ ہو مصلیان کے لئے سہولتیں اور آسانیاں پیدا کرنے والا ہو تاکہ مساجد ہمیشہ آباد رہیں 
   اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو مساجد میں لوگوں کو اللہ کا ذکر کرنے سے روکے اور اسکی بربادی کے لئے کوشش کرے 
  اسلئے نماز سے پہلے اور نماز کے بعد مناسب اوقات میں لائٹ پنکھے اور اے سی چلائے اور بند کئے جائیں تاکہ مساجد ہمیشہ ذکر و تلاوت اور نماز اور دیگر دینی امور کے ذریعے آباد رہیں 
   اسطرح ٹرسٹیان اور انتظامیہ کو مساجد کے آمدنی کے بڑھانیکی فکر کرنی چایئے اور اپنی جانب سے بھی ماھانہ یا سالانہ کچھ عطیات کی شکل میں جمع کرنی چاہئے صرف یہ کہنا کہ اگر ہمارے پاس آیا تو دینگے یہ کہنا کافی نہیں ہے اسلئے اس سے ہی ادارے برباد اور مساجد کا نظام بگڑجاتا ہے اسلئے ایسے افراد کو ذمہدار بنانا چاہئے جو قابل اور باصلاحیت ہو جو قوم و ملت اور مساجد و مکاتب کا خیرخواہ اور ہمدرد ہو اور مساجد مکاتب اور مصلیان کی سہولیات کے لئے جانی و مالی قربانی دینے والا صرف کرسی اور مسند پر بیٹھکر حکم چلانے والا نہ ہو 
   اللہ تعالی مساجد کے متولیان اور ذمہداران کو اپنی ذمہداریوں کو سمجھنے اور صحیح طورپر انکو پورا کرنے اور مصلیان کے لئے سہولتیں اور آسانیاں پیدا کرنیکی توفیق عطا فرمائے 


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔