منقبت - ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپلسانوی
منقبت -
ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپلسانوی۔
دینِ حق کی شان ہیں ابنِ علی
کربلا کا مان ہیں ابنِ علی
کس قدر ذیشان ہیں ابنِ علی
مصطفیٰ کی جان ہیں ابنِ علی
راہِ حق پر مٹ گئے پر اُف نہ کی
صبر کی چٹّان ہیں ابنِ علی
جس پہ رقصاں ہے بہارِ بے خزاں
وہ حسیں گلدان ہیں ابنِ علی
آرزوۓ خلد ہے سب كو مگر
خلد کا ارمان ہیں ابنِ علی
اَز سرِ نو باطلوں کے سامنے
جنگ کا اعلان ہیں ابنِ علی
رونقِ برگ و شجر جانِ چمن
پھول کی مسکان ہیں ابنِ علی
ہو گئے نذرِ جہنّم سب لعیں
خلد کے مہمان ہیں ابنِ علی
پرچمِ شبیر شاہد ہے فراز
آج بھی سلطان ہیں ابنِ علی
سرفراز حسین فراز پیپلسانوی
Comments
Post a Comment