مسجد نور گلشن باغ بیدر میں جلسۂ شہادتِ امام حسینؓ، علماء نے فلسفۂ کربلا اجاگر کیا۔


بیدر، 25 جون (نامہ نگار) انتظامی کمیٹی مسجد نور، گلشن باغ بیدر کے زیرِ اہتمام محرم الحرام کی مناسبت سے جلسۂ شہادتِ امام حسینؓ منعقد کیا گیا، جس میں علماء کرام نے واقعۂ کربلا، سیرتِ اہلِ بیتِ اطہارؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فلسفۂ کربلا کو عام کرنے اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی تلقین کی۔
مولانا مفتی محمد خواجہ معین الدین نظامی، بانی و ناظم معہد انوار القرآن بیدر نے اپنے خطاب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو اہلِ بیتِ اطہارؓ خصوصاً حضراتِ حسنین کریمینؓ سے بے پناہ محبت تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ ولادتِ حضرت امام حسینؓ کے بعد حضور اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ سے نومولود کے نام کے بارے میں دریافت فرمایا۔ عرض کیا گیا کہ "حرب" نام رکھا گیا ہے، جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان کا نام "حسین" ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حضراتِ حسنین کریمینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں اور ان کی محبت درحقیقت محبتِ رسول ﷺ کا حصہ ہے۔ مولانا نظامی نے مزید کہا کہ ولادتِ حضرت امام حسینؓ کے بعد حضور اکرم ﷺ نے انہیں اپنی آغوشِ مبارک میں لیا، ان کے حق میں دعائیں فرمائیں اور اپنے لعابِ دہنِ مبارک سے تحنیک فرمائی۔
اس موقع پر مولانا مفتی محمد فیاض الدین نظامی، صدر نائب قاضی بیدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت اسلام کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ واقعۂ کربلا حق و باطل کے درمیان ایک ایسا معرکہ تھا جس میں حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ خانہ اور رفقاء کے ساتھ دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کربلا کا پیغام صبر، استقامت، حق گوئی، ایثار اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا پیغام ہے۔
جلسہ کی نظامت کے فرائض حافظ محمد رفیق احمد نظامی، امام و خطیب مسجد نور گلشن باغ بیدر نے انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز حافظ محمد اسماعیل کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جبکہ انہوں نے حمد، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور منقبت بھی پیش کی۔ بعد ازاں فاتحہ خوانی، سلام اور اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا۔
جلسہ میں محمد فراست علی ایڈوکیٹ،شاہ متین قادری الملتانی ،مولانا حافظ نذیر احمد شرفی، حافظ محمد ٹیپو سلطان نظامی، جناب عبدالقادر صاحب صدر مسجد ہذا، محمد سلطان خطیب صاحب سیکریٹری مسجد ہذا، اراکینِ انتظامیہ، علماء، مشائخین، عمائدینِ شہر اور نوجوانانِ گلشن باغ کی کثیر تعداد موجود رہی۔
دعا سے قبل حاضرین کے لیے شربت کا اہتمام کیا گیا۔ آخر میں منتظمین کی جانب سے اظہارِ تشکر پیش کیا گیا جس کے بعد جلسۂ شہادتِ امام حسینؓ اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر ملک و ملت کی سلامتی، امن و امان، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور عالمِ اسلام کی سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔