سمے کی دھارا میں (افسانچہ)بقلم : م.علی۔
سمے کی دھارا میں
(افسانچہ)
بقلم : م.علی۔
سمے کی دھارا میں بہت کچھ بہہ گیا تھا لوگ رشتے آوازیں اور انتظار بھی مگر کچھ صدائیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے شور میں بھی خاموش نہیں ہوتیں
عالیہ بیگم ساٹھ برس کی تھیں ان کے شوہر ستر برس کے ہو چکے تھے۔ کبھی یہی گھر بچوں کی ہنسی مہمانوں کی آمد و رفت اور روزمرہ کی مصروفیات سے آباد رہتا تھا اب وہی گھر بڑا ہو گیا تھا اور اس میں رہنے والے دو انسان چھوٹے
ان کے دونوں بیٹے برسوں پہلے امریکہ منتقل ہو گئے تھے شروع شروع میں فون روز آتے پھر ہفتہ وار پھر مہینوں کے فاصلے سے اب زیادہ تر تہواروں اور سالگرہوں پر ویڈیو کال ہو جاتی تھی۔
عالیہ بیگم روز شام کھڑکی کے پاس بیٹھی گزرتے لمحوں کو دیکھا کرتیں ان کا شوہر پرانی آرام کرسی پر بیٹھ کر خاموشی سے سامنے کی دیوار کو تکا کرتے۔
اس شام بارش ہو رہی تھی۔ کمرے میں ہلکی سی نمی اور خاموشی تھی۔ اچانک ٹی وی پر ایک گیت بجنے لگا
"میں نہ بھولوں گا…..
ان رسموں کو، ان قسموں کو ان رشتے ناطوں کو…
سمے کی دھارا میں…
عالیہ بیگم کے ہاتھ رک گئے۔ انہوں نے آہستہ سے شوہر کی طرف دیکھا
"یاد ہےنا ؟"
بوڑھے شوہر ہلکے سے مسکرائے
"سب یاد ہے… جب تم پہلی بار دلہن بن کر آئی تھیں تب بھی یہی گیت ہر جگہ بج رہا تھا۔
عالیہ بیگم ہنس دیں۔
"اور آپ کہتے تھے، تو دلہن بن جا…"
دونوں چند لمحے خاموش رہے۔
پھر شوہر نے دھیرے سے کہا
"عمر بہہ جانی ہے… جو گھڑی جی لیں، وہی رہ جانی ہے۔"
بارش تیز ہو گئی۔۔
"ہم نے سب کچھ تو نہیں کھویا…"
"ہاں…" بوڑھے شوہر نے جواب دیا، "ابھی ہم ایک دوسرے کو تو نہیں بھولے۔"
کمرے میں گیت اب بھی چل رہا تھا
یہ دن کٹ جائیں گے…"
باہر ساون برس رہا تھا عالیہ بیگم نے آہستہ سے کہا یہ لو تسبیح .....
اگر نیند نہیں ارہی ہو تو تسبیح پڑھو ....عالیہ بیگم اب بھولنے بھولانے کی بات مت کرو ....اللہ اللہ کرو
پھر شوہر نے دھیرے سے کہا
"عمر بہہ جانی ہے… جو گھڑی جی لیں وہی رہ جانی ہے۔.۔.........
بارش تیز ہو گئی۔
کمرے میں خاموشی تھی، مگر خاموشی کے بھی اپنے بول ہوتے ہیں۔
عالیہ بیگم نے تسبیح کے دانے آہستہ آہستہ پھیرنے شروع کیے۔
ٹی وی پر گیت کی آواز مدھم ہو رہی تھی…
"سمے کی دھارا میں…"
دونوں خاموش بیٹھے رہے۔
وقت بہت کچھ بہا لے گیا تھا مگر شاید سب کچھ نہیں۔
کیونکہ سمے کی دھارا میں کچھ رشتے بہتے نہیں بہتے رہتے ہیں۔ صبح کو جب بوڑھے شوہر جو ایک اچھے نغمہ نگار بھی تھے نیند سے جاگے تو انہوں نے عالیہ بیگم کو یہ شعر سنایا
ادب بخشا ہے ایسا ربط الفاظ مناسب نے
دو زانو ہے مری طبع رسا ترکیب اردو سے
اور آہستہ سے کہا وہ گیت کی اسکریپٹ میں نے ہی لیکھا تھا
سمے کی دھارا میں
جسے جیون سے سانسوں کا رشتہ
انہوں نے عالیہ بیگم کو دیکھا وہ شرما گئی جسے دلہنیں شرماتی ہیں
ختم شد
Comments
Post a Comment