جنتِ ارضی کشمیر کا ایک یادگار سفر۔ - تحریر : نکہت انجم ناظم الدین۔
جنتِ ارضی کشمیر کا ایک یادگار سفر۔ -
تحریر : نکہت انجم ناظم الدین۔
گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی اور ضلع امراوتی کی گرمی ناقابل برداشت معلوم ہوتے ہی برادر عزیز شاہنواز فیصل نے سب کو راضی کرلیا کہ کچھ چھٹیاں کشمیر میں گزاری جائیں۔ پلاننگ ہوئی، بکنگ ہوئی اور نصف مئی سے دھوم سے کشمیر جانے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ ۱ جون کو وہ دن آپہنچا کہ جب ہمیں کشمیر کے لیے نکلنا تھا۔ سچ ہی ہے قدرت جب اپنے حسن کے خزانے لٹاتی ہے تو کشمیر جیسی وادی وجود میں آتی ہے۔ برف پوش پہاڑ، سرسبز و شاداب میدان، شفاف جھیلیں اور رواں دریا مل کر ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ہمارا یہ سفرخوشیوں، حیرتوں اور ناقابلِ فراموش یادوں کا ایک حسین باب ثابت ہوا۔ ۱جون کی شام ہم نے اپنے سفر کا آغاز ناگپور سے کیا۔ ناگپور سے دہلی اور پھر دہلی سے سری نگر تک فضائی سفر طے کیا۔ میرے بچوں کے لیے یہ زندگی کا پہلا فضائی سفر تھا، اس لیے ان کی خوشی دیدنی تھی۔ بادلوں کے درمیان اڑتے ہوئے جہاز کی کھڑکی سے نیچے جھانکنا، زمین کو دور سے دیکھنا اور فضاؤں میں سفر کرنا ان کے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔ ان کی آنکھوں میں چمکتی خوشی ہمارے سفر کی پہلی خوبصورت یاد بن گئی۔ دونوں فلائٹس کے دوران انھیں رات اور صبح دونوں مناظر دیکھنے کو ملے۔ جس کی انھوں نے بے شمار تصاویر بھی لیں۔ اسی دوران ہمارے ننھے منے مصنف بھانجے محمد زکریا نے ہم سے اور ہم نے ان سے وعدہ کیا کہ کشمیر کا سفر نامہ ضرور لکھیں گے۔یہ الگ بات ہے کہ ہم نے اردو میں لکھا ہے وہ انگریزی میں لکھیں گے۔ خیر ۲ جون کی صبح ہم سری نگر پہنچے۔ ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا نے ہمارا استقبال کیا اور یوں محسوس ہوا جیسے ہم واقعی کسی اور ہی دنیا میں داخل ہو گئے ہوں۔ "ہوٹل گرین رومز" میں قیام کے بعد ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا اور پھر مغل گارڈن کی سیر کے لیے نکل پڑے۔مغل باغات اپنی خوبصورتی اور دلکشی کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ رنگ برنگے پھولوں سے سجے باغات، بہتے ہوئے فوارے، سرسبز لان اور بلند و بالا درخت قدرت کے حسن کی ایک دلکش تصویر پیش کر رہے تھے۔ ہر طرف تازگی، رنگ اور خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ شام تک ہم ان باغات کے سحر میں کھوئے رہے اور پھر واپس ہوٹل آ کر آرام کیا۔اگلے روز ہم سون مرگ روانہ ہوئے۔ راستے بھر بلند پہاڑ، بہتے چشمے اور سرسبز وادیاں ہمارا استقبال کرتی رہیں۔ سون مرگ پہنچ کر وادی تک جانے کے لیے ہمیں گھوڑوں پر سوار ہونا پڑا۔ گھوڑوں کی پشت پر بیٹھ کر برف پوش وادی کی جانب سفر کرنا اپنے آپ میں ایک منفرد اور نہایت دلچسپ تجربہ تھا۔دور دور تک پھیلی ہوئی سفید برف سورج کی روشنی میں چاندی کی طرح چمک رہی تھی۔ بچوں نے برف سے خوب کھیل کھیلا، برفانی گولے بنائے اور یادگار تصاویر بنوائیں۔ بچوں نے "سلیجنگ" کا لطف بھی اٹھایا۔ برفانی ڈھلوانوں پر تیزی سے پھسلتے ہوئے خوشی اور سنسنی کا جو احساس پیدا ہوتا ہے، اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
سرد موسم میں ہم نے وہاں کا مشہور کشمیری قہوہ پیا جس کی خوشبو اور ذائقہ بے مثال تھا۔ اس کے ساتھ گرما گرم "میگی" کھانے کا لطف بھی دوبالا ہوگیا۔ اسی دوران بارش شروع ہوگئی۔ بادل پہاڑوں کے گرد سمٹ آئے، ہلکی ہلکی بارش برسنے لگی اور پوری وادی ایک خوابناک منظر پیش کرنے لگی۔ وہ سماں واقعی بیان سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ یہاں ہم نے تصاویر بنوائیں اور بچوں نے ریلز بنوائیں۔ جسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا تو سبھی نے بہت سراہا اور کافی دلچسپ کمنٹس بھی پڑھنے کو ملے۔سون مرگ کی حسین یادیں سمیٹ کر ہم اگلے دن پہلگام کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں ہمیں ایک نہایت دلچسپ اور یادگار تجربہ حاصل ہوا۔ ہمارے ایک شناسا کشمیری بھائی ،جاوید بھائی نے ہمیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں میں واقع ان کے گھر پہنچ کر پہلی مرتبہ کسی روایتی کشمیری گھر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔فرش پر بچھے نفیس قالین اور دیواروں کے ساتھ رکھے ہوئے نرم کشن ماحول کو نہایت آرام دہ اور دلکش بنا رہے تھے۔ ہم ابھی اس منفرد ماحول سے لطف اندوز ہو ہی رہے تھے کہ ایک خوش اخلاق خاتون اندر تشریف لائیں۔ یہ جاوید بھائی کی اہلیہ تھیں اور حسنِ اتفاق یہ کہ ان کا نام بھی "نکہت" تھا۔ وہ ہم سب سے بے حد محبت اور اپنائیت سے ملیں۔
انہوں نے سب سے پہلے ننھے ابراہیم کے گلے میں نوٹوں سے بنا خوبصورت ہار پہنایا اور اس کی "کیری کاٹ" کو چاکلیٹس اور خشک میوہ جات سے بھر دیا۔ بعد ازاں تمام حاضرین میں بھی چاکلیٹس اور ڈرائی فروٹس تقسیم کیے گئے۔ یہ سب ہمارے لیے بالکل نیا تجربہ تھا۔ بچے حیران بھی تھے اور بے حد خوش بھی۔جاوید بھائی کے دو نہایت پیارے اور خوش اخلاق بیٹے بھی تھے۔ ان کی شائستگی اور اپنائیت نے ہمیں بہت متاثر کیا۔ کچھ ہی دیر میں بچوں کے درمیان دوستانہ ماحول قائم ہوگیا۔اس کے بعد کشمیری مہمان نوازی کا وہ رنگ دیکھنے کو ملا جو ہم نے صرف سن رکھا تھا۔ ہمارے لیے خوش ذائقہ شربت، اعلیٰ معیار کے خشک میوہ جات، خوشبودار کشمیری قہوہ اور نہایت لذیذ سیخ کباب پیش کیے گئے۔ جاوید بھائی اور ان کی اہلیہ نے بہت اصرار کیا کہ ہم ان کے گھر قیام کریں لیکن پہلے سے طے شدہ مصروف شیڈول کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔اس مختصر ملاقات نے ہمیں کشمیری عوام کے خلوص، محبت اور مہمان نوازی سے روشناس کرایا۔ ہمیں محسوس ہوا کہ کشمیر کی اصل خوبصورتی صرف اس کی وادیوں میں نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کے دلوں میں بھی بسی ہوئی ہے۔
پہلگام پہنچ کر ہم "فریش واٹر ریزورٹ" میں مقیم ہوئے۔ یہ ریزورٹ قدرتی حسن کے دامن میں واقع ایک نہایت دلکش مقام تھا۔ اس کے پہلو میں دریائے لیدر پوری آب و تاب کے ساتھ بہتا تھا۔ دن کے وقت دریا کے پانی کی آواز دل کو عجیب سکون عطا کرتی تھی، لیکن رات کی خاموشی میں یہی آواز قدرے پراسرار اور خوفناک محسوس ہوتی تھی۔صبح کے وقت جب سورج کی سنہری کرنیں دریا کے پانی پر پڑتیں تو منظر ناقابلِ بیان خوبصورت ہو جاتا۔ پانی چاندی کی طرح چمکتا اور اردگرد کے پہاڑ اس حسن کو مزید دوبالا کر دیتے۔ یہاں مختلف اقسام کے گلاب کے پودے ہیں جنھوں نے پورے ریزورٹ کو قابل دید بنا دیا ہے۔
پہلگام میں ہم نے متعدد خوبصورت وادیوں کی سیر کی۔ ان مقامات تک پہنچنے کے لیے بھی گھوڑوں پر سفر کرنا پڑا۔ سبز میدانوں، گھنے جنگلات اور بلند پہاڑوں کے درمیان واقع یہ وادیاں کسی مصور کے شاہکار سے کم نہ تھیں۔ یہاں ہم نے بے شمار تصاویر اور خوبصورت ریلز بنوائیں تاکہ ان حسین لمحات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔
کشمیر میں قیام کے دوران ہم مختلف اقسام کے کشمیری قہوے سے لطف اندوز ہوئے۔ ہم نے وہاں کے اصل زعفران، قہوے کے مصالحے، مامرا بادام، اخروٹ، کشمیری شالیں اور خوبصورت ہینڈ بیگز خریدے۔ تازہ چیریاں کھائیں اور سیب کے باغات کی سیر کی۔ درختوں پر لدے ہوئے ہرے سیب اور باغات کی خوشگوار فضا دل کو موہ لینے والی تھی۔ وہاں ہم نے تازہ سیب کا جوس بھی پیا جس کا ذائقہ اب بھی یاد ہے۔ہم نے الگ الگ ہوٹلز میں کشمیر کے تمام مشہور کھانے بھی کھائے اور "وال نٹ فج" بھی چکھا۔ ۵ جون کی صبح پھر ہم نے سری نگر کا رخ کیا اور یہاں ڈل جھیل پر واقع بوٹ ہاؤس "فلوٹنگ لگژری" میں قیام کیا۔ شام کے وقت ہم دو گھنٹے کی یادگار شکارا سواری کے لیے نکلے۔ ڈل جھیل اس وقت اپنے پورے حسن کے ساتھ جلوہ گر تھی۔ غروبِ آفتاب کی سنہری کرنیں پانی پر بکھر رہی تھیں اور جھیل آئینے کی مانند آسمان، بادلوں اور پہاڑوں کے عکس کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھی۔شکارا آہستہ آہستہ پانی پر رواں تھا اور اس کی جنبش دل کو ایک عجیب سا سکون عطا کر رہی تھی۔ اس دوران ہم نے ڈل جھیل کا مشہور فلوٹنگ مارکیٹ بھی دیکھا۔ پانی پر تیرتی چھوٹی چھوٹی دکانیں اور ان میں سجے ہوئے رنگ برنگے سامان منفرد منظر پیش کر رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے جھیل کی اپنی ایک الگ دنیا ہو، جہاں زندگی پانی کے ساتھ بہتی چلی جا رہی ہو۔شکارا سواری کے دوران ہمیں جھیل کے وسط میں آباد ایک گاؤں دیکھنے کا بھی موقع ملا۔ پانی کے درمیان بسے ہوئے گھر، روزمرہ زندگی میں مصروف لوگ اور کشتیوں کے ذریعے ہونے والی آمدورفت ہمارے لیے حیرت کا باعث تھی۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت تھا کہ انسان فطرت کے ساتھ کس خوبصورتی سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔اسی دوران ہم نے تیرتی ہوئی ایک دکان سے وہاں کی مشہور "فروٹ چاٹ" کا ذائقہ چکھا جو تازہ پھلوں کی وجہ سے نہایت لذیذ محسوس ہوا جبکہ بچے "ہاٹ چاکلیٹ ڈرنک" سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ جھیل کی ٹھنڈی ہوا میں ہاٹ چاکلیٹ کا مزہ ان کے لیے ایک الگ ہی خوشی کا باعث تھا۔راستے میں ہم نے شکارا نہرو پارک کے قریب لگایا اور وہاں کچھ وقت گزارا۔ خوبصورت مناظر کے درمیان ہم نے بے شمار تصاویر بنوائیں اور یادگار لمحات اپنے کیمرے اور موبائل میں محفوظ کیے۔ جھیل کے چاروں طرف پھیلی روشنیاں، پانی پر تیرتے رنگ برنگے شکارے، درختوں پر لوٹتے پرندے، دور دکھائی دیتے پہاڑ اور شام کی پرسکون فضا ایک جادوئی منظر تخلیق کر رہے تھے۔ ہر گزرتا لمحہ پہلے سے زیادہ حسین محسوس ہو رہا تھا اور دل چاہتا تھا کہ یہ شام کبھی ختم نہ ہو۔رات ڈھلنے لگی تو جھیل پر روشنیاں مزید نمایاں ہو گئیں۔ پانی میں ان کا عکس ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بے شمار ستارے جھیل کی سطح پر بکھر گئے ہوں۔ اس دلکش ماحول میں واپس بوٹ ہاؤس پہنچنا بھی ایک خوشگوار تجربہ تھا۔اس شام کا اختتام اس وقت ہوا جب ہمارا رات کا کھانا بوٹ ہاؤس ہی میں پیش کیا گیا۔ پانی کے اوپر تیرتے ہوئے گھر میں بیٹھ کر ڈنر کرنا ہمارے لیے ایک نہایت منفرد اور یادگار تجربہ تھا۔ جھیل کی خاموشی، ٹھنڈی ہوا اور اردگرد پھیلی روشنیوں کے درمیان کیا گیا یہ عشائیہ ہمارے پورے سفر کے خوبصورت ترین لمحات میں شامل ہوگیا۔کشمیر سے جاتے ہوئے بچوں کی ایک خواہش کسک بن کر دل میں رہ گئی۔ وہ تھی گلمرگ میں "کیبل کار رائڈنگ" کی۔ حال ہی میں ہوئے تکنیکی خرابی کے مسئلے کی وجہ سے ۸ جون تک "کیبل کار رائڈنگ" کو بند رکھا گیا تھا جس سے بچے تھوڑے مایوس ہوگئے لیکن دیگر ایڈونچرز میں بھول بھی گئے۔ ۶جون کی صبح ہماری واپسی تھی۔ دل تو چاہتا نہ تھا کہ واپس جائیں لیکن سبھی نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ دسمبر ، جنوری میں ایک بار پھر کشمیر کو رونق بخشی جائے گی۔اس خوش کن وعدے کے ساتھ لوٹنا تھوڑا سا آسان ہوگیا۔ یہ سفر ہمارے لیے صرف ایک سیاحتی تجربہ نہیں تھا بلکہ فطرت کے حسن کو قریب سے محسوس کرنے کا ایک نادر موقع تھا۔کشمیر واقعی جنتِ ارضی ہے، زمین پر موجود ایک ایسی جنت جسے دیکھنے کے بعد انسان کے دل میں بار بار واپس لوٹ جانے کی خواہش جنم لیتی ہے اور لبوں پر بے اختیار یہ الفاظ آجاتے ہیں کہ
اگر فردوس بر روئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
Comments
Post a Comment