قابلیت کی پہچان تصویروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہےازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
قابلیت کی پہچان تصویروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
قابلیت کی پہچان تصویروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے شہرت کے پیمانے بدل دیے ہیں۔ بہت سے لوگ کسی مشہور اداکار، کھلاڑی، سیاست دان یا بااثر شخصیت کے ساتھ تصویر کھنچوانے کو اپنی کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔ پھر اس تصویر کو مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کرکے لوگوں کی توجہ، پسندیدگی اور تعریف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی معروف شخصیت کے ساتھ چند لمحے کھڑے ہو جانے سے نہ انسان کی علمی حیثیت میں اضافہ ہوتا ہے، نہ اس کے کردار میں بلندی آتی ہے اور نہ ہی اس کی حقیقی قدر و قیمت بڑھتی ہے۔
دنیا ہمیشہ انسان کو اس کے اپنے علم، اخلاق، کردار، صلاحیت اور خدمات کی بنیاد پر یاد رکھتی ہے۔ اگر محض کسی بڑے آدمی کے ساتھ تصویر بنوا لینے سے عظمت ملتی تو ہر وہ شخص عظیم شمار ہوتا جو روزانہ کسی مشہور شخصیت کے قریب رہتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عزت اور مقام ہمیشہ ان لوگوں کو ملا جنہوں نے اپنی محنت، قربانی، علم اور کردار کے ذریعے اپنی شناخت قائم کی۔
ایک طالب علم اگر کسی نامور استاد کے ساتھ تصویر لے لے تو اس سے وہ عالم نہیں بن جاتا۔ ایک شخص کسی سیاست دان کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو اس سے وہ قائد نہیں بن جاتا۔ کسی مشہور کھلاڑی یا اداکار کے ساتھ سیلفی لے لینے سے انسان کے اندر کوئی نئی صلاحیت پیدا نہیں ہو جاتی۔ صلاحیت حاصل کرنے کے لیے محنت، مطالعہ، تربیت اور مسلسل جدوجہد درکار ہوتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی زندگی میں کوئی نمایاں کارنامہ انجام دینے کے بجائے دوسروں کی شہرت کے سہارے خود کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مشہور لوگوں کے ساتھ تصاویر ان کی اہمیت بڑھا دیں گی، جبکہ سمجھدار لوگ تصویروں سے زیادہ انسان کے کردار، علم، گفتگو، عمل اور خدمات کو دیکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا کی دنیا میں وقتی تعریف اور لائکس حاصل کرنا آسان ہے، لیکن حقیقی عزت حاصل کرنا مشکل ہے۔ وقتی شہرت چند گھنٹوں یا دنوں میں ختم ہو جاتی ہے، مگر اچھا کردار اور عمدہ خدمات انسان کو برسوں بلکہ نسلوں تک زندہ رکھتی ہیں۔ لوگ حضرت امام ابو حنیفہؒ، امام بخاریؒ، علامہ اقبالؒ اور دیگر عظیم شخصیات کو اس لیے یاد نہیں کرتے کہ انہوں نے کسی مشہور آدمی کے ساتھ تصویر بنوائی تھی، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے علم، کردار اور خدمات سے دنیا پر اثر چھوڑا۔
اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ تصویروں اور ظاہری نمائش کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے پر توجہ دیں۔ علم حاصل کریں، اخلاق سنواریں، اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں اور معاشرے کے لیے مفید بنیں۔ جب انسان خود قابل بن جاتا ہے تو لوگ اس کے ساتھ تصویر بنوانے کو اعزاز سمجھتے ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ:
عظمت نسبتوں سے نہیں، صلاحیتوں سے پیدا ہوتی ہے۔
عزت تصویروں سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔
اور مقام کسی کے سائے میں کھڑے ہونے سے نہیں، بلکہ اپنے قدموں پر کھڑے ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔
"قابلیت خود میں ہو تو دنیا قدر کرتی ہے،
کسی کے دائیں بائیں کھڑے ہونے سے کردار اونچے نہیں ہوتے۔"
Comments
Post a Comment