حج کے یادگار تحائف میں جدت کی جھلک، سعودی ڈیزائنرز کی نئی کاوش۔


کے این واصف : ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مسلمان حج کرنے کے لیے مکہ آتے ہیں۔ حج اُن کی زندگی کے خاص ترین لمحات میں سے ایک ہوتا ہے۔ مناسک حج کی ادائیگی، عبادت اور جسمانی مشقت کے بعد بہت سے حجاج اپنے اس سفر کی یاد میں کوئی نہ کوئی نشانی ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق روایتی طور پر یہ یادگار نشانیاں بہت سادہ ہوا کرتی تھیں یعنی آب زم زم کی بوتل، جائے نماز، تسبیح یا مقدس مقامات کے قریب سے خریدی گئیں مختلف قسم کی اشیا۔
ان چیزوں کی اصل اہمیت ان کے ڈیزائن میں نہیں بلکہ ان سے جڑے ہوئے گہرے روحانی تجربے سے ہوتی ہے۔
آج کے دور میں سعودی کاروباری شخصیات اور فنکار حج کے ان تحائف کو ایک نیا روپ دے رہے ہیں۔ ایسی مصنوعات بنائی جا رہی ہیں جس میں ایمان، ثقافت اور جدید ڈیزائن کا امتزاج شامل ہے۔
حجاج کرام اب کئی اقسام کے سوونیئر (یادگار تحائف) کا انتخاب کر سکتے ہیں جن میں جدید آرٹ ورک، جدید خطاطی، ہاتھ سے بنے ہوئے تحائف اور مقدس مقامات سے متاثر ہو کر بنائی گئی مصنوعات وغیرہ۔
یہ تحائف حجاج کو اپنے سفر کی یادوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کا ایک نیا طریقہ پیش کر رہے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔