غزل۔۔ ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد یو۔ پی۔
غزل۔
ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد یو۔ پی۔
وہ کیا نظر سے میری ذرا دور ہو گیا
روشن چراغِ قلب تھا بے نور ہو گیا
اسبابِ یاس و حرماں بتاؤں کیا آپ کو
وہ یاد آئے اور میں رنجور ہو گیا
کیسے کہوں بھلا میں شریف النَّسب اسے
شہرت ذرا سی پا کے جو مغرور ہو گیا
سن کر حریفِ عشق کا ادنیٰ سا اک بیان
آسیبِ عشق آن میں کافور ہو گیا
افسردگی میں غرق تھا پہروں سے دل فگار
دیکھا جو حسنِ یار تو مسرور ہو گیا
مصروف حرف گیری میں رہتے ہیں ہر گھڑی
اہلِ ادب کا آج یہ دستور ہو گیا
ویران زندگی میں بھی آ جائے گی بہار
گر ان کو میرا فیصلہ منظور ہو گیا
عیش و طرب کے معنی وہ سمجھے گا کیا فراز
پڑھنے کی عمر میں ہی جو مزدور ہو گیا
Comments
Post a Comment