انقلابِ شمسی۔ -ازقلم : سعدیہ فاطمہ عبدالخالق، ناندیڑ مہاراشٹر۔
انقلابِ شمسی۔ -
ازقلم : سعدیہ فاطمہ عبدالخالق، ناندیڑ مہاراشٹر۔
8485884176
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، ہر دن اللّٰہ کے بنائے ہوئے ہیں اور ہر رات اللّٰہ کے حکم سے ہے ، چاند اور سورج کی گردش واحد لاشریک کے حکم کے تابع ہے سبحان اللہ ،
قدرت کے نظام میں سورج کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ، زمین پر زندگی کا وجود، موسموں کی تبدیلی، دن اور رات کا سلسلہ اور نباتات و حیوانات کی نشوونما سب سورج کی روشنی اور حرارت سے وابستہ ہیں ، سال کے مختلف ایام میں سورج کی زمین کے مقابل کیفیت بدلتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں دن اور رات کے دورانیے میں فرق پیدا ہوتا ہے ، 22 جون کا دن اسی قدرتی نظام کے اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ وقت عموماً موسمِ گرما کے عروج اور سورج کی سالانہ حرکت کے ایک اہم مرحلے سے تعلق رکھتا ہے ،22 جون کو شمالی انقلاب Summer Solstice کہا جاتا ہے ، 22 جون شمالی نصف کرے Northern Hemisphere کا سب سے بڑا دن اور مختصر ترین رات ہوتی ہے ، اس دن سورج خط سرطان Tropic of Cancer کے بالکل اوپر چمکتا ہے ،زمین سورج کے گرد ایک مخصوص مدار میں گردش کرتی ہے اور اپنے محور پر تقریباً 23.5 درجے جھکی ہوئی ہے ، یہی جھکاؤ موسموں کی تبدیلی کا سبب بنتا ہے ، جب زمین کا شمالی حصہ سورج کی طرف زیادہ جھک جاتا ہے تو شمالی نصف کرہ میں گرمی کا موسم ہوتا ہے اور دن لمبے ہونے لگتے ہیں ، جون کے مہینے میں سورج کی شعاعیں شمالی خطوں پر زیادہ عمودی پڑتی ہیں، جس سے وہاں روشنی اور حرارت میں اضافہ ہوتا ہے ،
22 جون کے آس پاس سورج اپنی ظاہری سالانہ حرکت میں شمالی نصف کرہ کے لیے انتہائی بلند مقام پر ہوتا ہے ، اس عرصے کو عموماً موسمِ گرما کے انقلابِ شمسی (Summer Solstice) کے قریب سمجھا جاتا ہے ، اس موقع پر شمالی نصف کرہ میں دن کا دورانیہ سال کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، جبکہ راتیں نسبتاً مختصر ہوتی ہیں ، اس کے برعکس جنوبی نصف کرہ میں اس وقت سردی کا موسم ہوتا ہے اور وہاں راتیں لمبی ہوتی ہیں ،
سورج کی یہ تبدیلی صرف فلکیاتی واقعہ نہیں بلکہ انسانی زندگی، زراعت، موسم اور ثقافت پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے ، قدیم زمانے سے انسان سورج کی حرکت کا مشاہدہ کرتا آیا ہے ، کسان سورج کی روشنی، موسموں اور بارشوں کے نظام کو سمجھ کر اپنی فصلوں کے اوقات طے کرتے تھے ،آج بھی دنیا بھر میں زرعی منصوبہ بندی میں سورج اور موسموں کے تعلق کو اہمیت دی جاتی ہے ،
22 جون کے قریب دن بڑے ہونے کی وجہ سے سورج کی روشنی زیادہ دیر تک زمین پر رہتی ہے ، زیادہ روشنی سے درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے اور ماحول میں موسمی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں ، درخت، پودے اور فصلیں سورج کی توانائی کو استعمال کر کے اپنی نشوونما جاری رکھتے ہیں ، فوٹو سنتھیسس کے عمل کے ذریعے پودے سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں، جو زمین پر زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے ، قرآن مجید میں سورج (الشمس) کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے اسے بنیادی طور پر دن کے ایک روشن چراغ، وقت کے تعین (کیلنڈر اور سال)، اور اللہ کی قدرت کی عظیم نشانی کے طور پر پیش کیا گیا ہے قرآن کی سورہ نمبر ۹۱ کا نام بھی ,,الشمس ،، ہے ، قرآن مجید میں سورج کے حوالے سے اہم ترین حقائق ہیں قرآن میں سورج کو ایک چمکتے ہوئے چراغ (سراجاً
وهاجاً) سے تشبیہ دی گئی ہے، جیسا کہ سورۃ النبأ (آیت ۱۳) میں ہے ,,اور ہم نے (اس میں) ایک انتہائی روشن اور تپتا ہوا چراغ بنایا تیرتا ہوا مدار ،، سورج ایک مقررہ وقت تک اپنے مدار میں حرکت کررہا ہے ، سورۃ یٰس (آیت ۳۸) میں فرمایا گیا ,, اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چل رہا ہے یہ زبردست اور دانا (خدا) کا مقرر کردہ اندازہ ہے ،، سورج اور چاند دونوں اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں، جیسا کہ سورۃ الانبیاء (آیت ۳۳) میں مذکور ہے ,, اور وہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند، سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں ،، ۔۔۔۔۔ سورج اور چاند کی گردش سالوں اور مہینوں کو جاننے کا ذریعہ ہے ،
قرآن مجید میں چاند اور سورج کا کئی بار ذکر آیا ہے ، سورج کو دن کا چراغ کہا گیا ہے اور چاند کو رات کا نور ، ان دونوں کی حرکت سے دن اور رات بنتے ہیں ،
سورج صرف روشنی اور حرارت کا ذریعہ نہیں بلکہ کائناتی نظام کا مرکز بھی ہے ، ہماری زمین سمیت کئی سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں سورج کی کششِ ثقل تمام سیاروں کو اپنے مدار میں قائم رکھتی ہے ، اگر سورج نہ ہو تو زمین پر زندگی کا تصور ممکن نہ ہوتا ، اسی لئے انسانی تاریخ میں سورج کو ہمیشہ عظمت اور اہمیت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے ، قدیم تہذیبوں میں سورج کے مشاہدے کے لئے مختلف طریقے اختیار کیے گئے ہیں ، مصر، یونان، ہندوستان اور دیگر تہذیبوں کے لوگ سورج کی حرکت کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ، انہوں نے سورج کے طلوع و غروب، دن کے دورانیے اور موسموں کے فرق کو نوٹ کیا ، کئی قدیم عمارتیں اور کیلنڈر سورج کی حرکت کے مطابق بنائے گئے تاکہ وقت اور موسموں کا اندازہ لگایا جا سکے ،22 جون ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ کائنات ایک منظم نظام کے تحت چل رہی ہے ، زمین کی گردش، محور کا جھکاؤ اور سورج سے اس کا تعلق سب قدرت کے حیرت انگیز مظاہر ہیں ، انسان نے سائنس کے ذریعے ان رازوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، مگر قدرت کا یہ نظام آج بھی انسان کے لیے حیرت اور غور و فکر کا ذریعہ ہے ،مذہبی اور روحانی اعتبار سے بھی سورج کو اہم مقام حاصل رہا ہے مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں سورج کو قدرت کی نشانی سمجھا گیا ، اسلامی تعلیمات میں بھی سورج، چاند اور ستاروں کو اللہ کی قدرت کی نشانیاں قرار دیا گیا ہے ، قرآن مجید میں کائنات کے اس منظم نظام کی طرف انسان کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے ،سورج کی روشنی انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے ،مناسب مقدار میں سورج کی روشنی جسم کے لئے ضروری ہے، کیونکہ یہ قدرتی ماحول کا حصہ ہے ، تاہم شدید گرمی اور تیز دھوپ میں احتیاط بھی ضروری ہے، کیونکہ ضرورت سے زیادہ حرارت انسان اور ماحول دونوں پر اثر ڈال سکتی ہے ،
22 جون کے قریب دنیا کے کئی حصوں میں موسمِ گرما اپنے عروج پر ہوتا ہے ، اسکولوں کی تعطیلات، سفر اور مختلف سرگرمیاں بھی موسم کے مطابق ترتیب دی جاتی ہیں ، لوگ اس وقت کو قدرتی حسن، لمبے دنوں اور گرم موسم کے تجربے کے طور پر محسوس کرتے ہیں ، یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان زمین کے بڑے قدرتی نظام کا ایک حصہ ہے ، سورج، زمین، ہوا، پانی اور موسم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ، اگر انسان قدرتی توازن کو نقصان پہنچائے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں ، اس لئے سورج کی اہمیت کو سمجھنا اور قدرتی وسائل کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے ،ہمیں یاد رکھنا چاہئیے کہ 22 جون سورج کے نظام کے اعتبار سے ایک اہم دن ہے ، یہ دن زمین کے جھکاؤ، سورج کی روشنی، موسموں کی تبدیلی اور قدرت کے عظیم نظم کی یاد دلاتا ہے ، سورج زندگی کا سر چشمہ ہے اور اس کی حرکت ہمیں کائنات کی وسعت اور قدرت کے حسن پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے ، قدرت کی ہر اک عظیم نعمت پر اللہ کا شکر ہے اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے آمین
Comments
Post a Comment