حضرت امام حسینؓ: سیرت، کردار اور اخلاق کا عظیم نمونہ - مضمون نگار: محمد اسلم سیٹھ، چٹگوپہ۔
حضرت امام حسینؓ: سیرت، کردار اور اخلاق کا عظیم نمونہ -
مضمون نگار: محمد اسلم سیٹھ، چٹگوپہ۔
اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام اپنے دامن میں بے شمار فضائل اور تاریخِ اسلام کے عظیم اسباق سمیٹے ہوئے ہے۔ اس مہینے کی سب سے نمایاں نسبت نواسۂ رسول ﷺ، سید الشہداء حضرت امام حسینؓ سے ہے، جنہوں نے دینِ اسلام کی سربلندی، حق و صداقت کے تحفظ اور ظلم و جبر کے خاتمے کے لیے اپنی جان سمیت اپنے اہلِ بیت اور جانثار ساتھیوں کی بے مثال قربانی پیش کی۔
حضرت امام حسینؓ کی ولادت باسعادت 5 شعبان المعظم 4 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپؓ کے والد خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰؓ اور والدہ خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراؓ ہیں۔ آپؓ کو بچپن ہی سے رسولِ اکرم ﷺ کی خصوصی شفقت اور محبت حاصل رہی۔ حضور اکرم ﷺ نے متعدد مواقع پر حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کی فضیلت بیان فرمائی اور انہیں جنتی نوجوانوں کا سردار قرار دیا۔
حضرت امام حسینؓ نہایت پاکیزہ کردار، اعلیٰ اخلاق، بے مثال سخاوت، صبر و تحمل اور تقویٰ و پرہیزگاری کے پیکر تھے۔ آپؓ کا شمار اپنے زمانے کے بڑے علماء، عبادت گزاروں اور صاحبِ بصیرت شخصیات میں ہوتا تھا۔ راتوں کو عبادتِ الٰہی میں مشغول رہنا، قرآن کریم کی تلاوت کرنا، محتاجوں اور مسکینوں کی مدد کرنا اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا آپؓ کی زندگی کا معمول تھا۔
آپؓ کی سیرت کا ایک اہم پہلو حق گوئی اور بے باکی ہے۔ آپؓ نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا اور باطل کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کیا۔ جب دینِ اسلام کی حقیقی روح کو خطرات لاحق ہوئے تو آپؓ نے خاموش رہنے کے بجائے حق و انصاف کی خاطر جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وہ عظیم کردار تھا جس نے آپؓ کو تاریخِ انسانیت کے عظیم ترین رہنماؤں کی صف میں کھڑا کر دیا۔
واقعۂ کربلا حضرت امام حسینؓ کی زندگی کا وہ باب ہے جو قیامت تک حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتا رہے گا۔ میدانِ کربلا میں آپؓ نے صبر، استقامت، شجاعت اور قربانی کی ایسی لازوال مثال قائم کی جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ شدید پیاس، بھوک اور مصائب کے باوجود آپؓ نے ظلم اور ناانصافی کے سامنے جھکنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی، لیکن اپنے اصولوں اور دین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
حضرت امام حسینؓ کا پیغام آج بھی پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپؓ ہمیں سکھاتے ہیں کہ حق کا راستہ اگرچہ مشکل ہو، لیکن کامیابی اسی میں ہے۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، کمزوروں کا ساتھ دینا، عدل و انصاف کو فروغ دینا اور اپنے کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہی امام حسینؓ کی سیرت کا حقیقی پیغام ہے۔
ماہِ محرم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ حق، عدل، صبر، قربانی اور انسانیت کی خدمت کا درس بھی دیتا ہے۔ اگر ہم حضرت امام حسینؓ کے اخلاق، کردار اور سیرتِ مبارکہ کو اپنی زندگیوں میں اپنالیں تو معاشرے میں محبت، اخوت، رواداری اور انصاف کا فروغ ممکن ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں سے سبق حاصل کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment