موجودہ دنیا خدا کی گواہی کا واضح ثبوت ہے۔۔ تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔


موجودہ دنیا خدا کی گواہی کا واضح ثبوت ہے۔
تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔
 9881836729

 دنیا میں انسانوں کی تخلیق سے قبل، فرشتوں اور جنات کا وجود تھا، جہاں وہ اللہ کی تابعداری اور اسکی عبادت میں ہمہ تن مصروف تھے۔ پھر خدا نے آدم علیہ السلام کے ذریعہ انسان کی تخلیق کی اور مرد و زن وجود میں آے۔ خدا نے دنیا میں قیامت تک پیدا ہونے والی ہر چیز کا ذکر قرآن میں کیا ہے۔ جو قیامت تک پیدا ہوتی رہینگی ۔ دنیامیں کوئ بھی یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے۔ ہماری نظر میں وہ طاقت نہیں کہ خدا کا دیدار کرسکے۔ خدا کے دیدار اور اس کو دیکھنے کا شرف حاصل کرنے کے لیے " مرنا " ضروری ہے، بغیر مرے خدا کا دیدار ممکن نہیں۔ اب تک کی تاریخ میں خدا سے ہمکلام ہمارے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسی علیہ السلام ہوے۔ حضرت موسی سے اولا اللہ نے اپنے جوتے اتارنے کو کہا تھا۔ پھر گفت وشنید بھی ہوئ تھی۔ موجودہ دنیا کے ساتھ اللہ نے ازل سے ابد تک اپنی وحدانیت پوری کائنات پر آشکارہ کی ہے۔ قدیم زمانہ میں لوگ چاند تاروں کو چمکتا دمکتا دیکھ کر یہ قیاس آرائیاں کرتے تھے کہ آسمان سے چسپاں ہیں ، جب لوگوں نے قرآن کو پڑھا اور سمجھا تو معلوم ہوا کہ کائنات میں اجسام فلکی اپنے اپنے مدار پر تیر رہے ہیں ،گھوم رہے ہیں۔ اور یہ اپنے رب کی ایماء پر اور ایک مکمل سسٹم کے تحت مقررہ وقت تک گردش عمل ہیں۔ قرآن نے اس بات کو یوں کہا ہے۔ کل فی فلک یسبحون ،یعنی ہر سیارہ اپنے اپنے مدار میں متعینہ وقت تک گھوم رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی،اور سائنس کی ریسرچ نے انسان کو چاند تک پہونچایا، اور اللہ نے اپنے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دربار تک۔ سائنس نے کائنات کے جس سسٹم کو بتایا وہ قرآن کریم نے انگنت سالوں پہلے بتادیا کہ خدا ہی اس کائنات کا خالق و مالک ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کا ایک زمانہ ایسا تھا کہ وہ اپنے رب سے ناآشنا تھے۔ رب العزت نے ان کے شرک سے چھٹکارا اور بیزاری کو اور ان کی سرگزشت قرآن میں بیان کیا ہے -اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کبھی خالق کائنات سے ناآشنا تھے۔ لیکن وہ وقت بھی ناقابل فراموش ہے کہ ،ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو مصنوعی بتوں ،مصنوعی اصنام کی عبادت سے اجتناب کرنے کو کہا تھا۔ جس کو قرآن نے انگنت سالوں پہلے دنیا پر آشکارہ کیا۔ جب اللہ نے دن کو رات میں بدلا، تب ابراہیم علیہ السلام نے رات میں چمکتے ہوے ستارہ کو اپنا رب کہا، لیکن جب وہ غروب ہوا تو کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا، میں غروب ہونے والے سے عقیدت نہیں رکھتا، جب چاند کو منور پایا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے، جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دے تو میں گمراہ لوگوں میں ہوجاؤں گا۔ جب آفتاب کو دیکھا تو کہا کہ یہ سب سے بڑا ہے ،یہ میرا رب ہے۔ جب وہ بھی غروب ہوگیا تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں تمہارے اس طرح کے شرک سے پریشان اور بیزار ہوں۔ اب میں اپنے رب جس نے چاند ،سورج ،سیارے،اور کائنات میں اجسام فلکی بنایا، اور یہی نہیں بلکہ ایسا بلیک ہول بنایا جس میں چاند،سورج اور زمین سے کئ زیادہ بڑے سیارے بلیک ہول میں سماجاتے ہیں۔ اور یہ تمام خدا کی ایماء پر اپنے اپنے ( Orbit) دائرہ میں گردش کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کا نمودار ہونا، شام میں ( sunset) سورج کا غروب ہونا،اور صبح طلوع ہونا، چاند کا رات کو منور کرنا،اور ستاروں سے راستے طے کرنا، بارش، گرمی،اور سردی کا زمین پر واقع ہونا، گیلیکسی ،کہکشاں اور شہاب ثاقب میں خدا کی قدرت جھلکتی ہے۔ چناں چہ بہت سارے فلاسفر نے یہ بات کہی ہے ۔ الون پلانٹنگا( Alvin plantiga) کا ماننا ہے ۔ خدا ے برتر پر ایمان رکھنا بنیادی عقیدہ ہے ( philosophers) فلسفیوں میں کہیں کہیں اختلاف ضرور رہا ہے، لیکن عقل سلیم رکھنے والوں نے ایک ہستی جس نے (universe ) کائنات اور ( Human creation) انسان کی تخلیق کی ہے ،خدا کو خالق کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔ چناں چہ ابن سینا کا یہ جملہ بہت مشہور ہے اور حقیقت پر مبنی ہے۔ کہتا ہے کہ " پہلا علم یہ ہے کہ ( God is existence) خدا موجود ہے"۔ گویا کہ ان کا یہ جملہ قرآن کی اس آیت پر دلالت اور اسکی تصدیق کرتا ہے، اقرا باسم ربک الذی خلق الی آخر. اپنے رب کے نام سے پڑھو۔ علم اللہ کی صفت اعلی ہے۔اور اسی نے دنیا کے سارے انسانوں کو مختصر علم عطا کیا ہے۔ اس طرح سے ابن سینا ( God existence) خدا کے وجود کا قائل ہوا۔ آئزک نیوٹن ( Isaac Newton) فزکس کا بانی ہونے کے ساتھ خدا پر کامل ایمان رکھتا تھا، کہتا ہے کہ " یہ اتہائ خوبصورت. (system) نظام سورج،اور رات دن کا نمودار ہونا صرف ایک ذہین قادر مطلق(Omnipotent) کے قدرت سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ لہذا اس موجودہ دنیا کی سائنس، فلاسفرس اور بڑی بڑی عقل رکھنے والوں نے آج سے ہزاروں سال پہلے پیغمبروں کے بات کی تصدیق اور ترجمانی کررہے ہیں ۔ اللہ کی وحدانیت اور اسکے وجود کو تسلیم کر رہے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔