بچیوں کی اعلٰی تعلیم سے محرومی اور ماؤں کا کردار - فردوس انجم - (بلڈانہ، مہاراشٹر)
بچیوں کی اعلٰی تعلیم سے محرومی اور ماؤں کا کردار -
فردوس انجم -
(بلڈانہ، مہاراشٹر)
بات یوں ہے کہ شروع سے ہی پسماندہ علاقوں میں اعلی تعلیم کا حصول لڑکیوں کے لیے مشکل امر رہا ہے۔تعلیم عام ہونے کے باوجود ہماری سوچ کا دائرہ محدود ہے۔ خاص طور پر پسماندگی کی زندگی گزار نے والے لوگوں کی۔ وقت کا پہیہ بار بار وہی دہراتاہے۔ آخر کب اس نظام میں تبدیلی آئے گی؟ پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کو باہر جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات کئی ہیں، جس میں ماحول کی خرابی، کالج کا دور ہونا، شہروں میں اعلیٰ تعلیم کی سہولت، معیار تعلیم صحیح نہیں، گھر سے باہر رہ کرتعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں، تعلیم کے اخراجات برداشت نہ کر سکنا، کم آمدنی، پڑھ کر کیا کر لیں گی، آخر چولہا اور چوکا ہی کرنا ہے، نوکریاں کہاں ہیں؟'، مہنگائی، سرکاری کالجوں میں داخلے کا مسئلہ، جلد شادی، پڑھنا لکھنا آگیا کافی ہے، کونسا افسر بننا ہے؟'، کیا اب چاند پر جائیگی،اعلی تعلیم حاصل کرنا بےوقوفی ہے ،روایتی سوچ ، یہ وہ تمام وجوہات ہیں جو بچیوں کی اعلٰی تعلیممیں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں ۔
دراصل یہ سب اس لیے ذکر کر رہی ہوں کہ پسماندہ علاقوں میں بچیوں کے تعلیم کا معیار بہت تیزی سے گھٹ رہا ہے، خاص طور پر لڑکیاں اعلی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں، چونکہ میں خود ایک معلمہ ہوں اور میں نے زمینی حقیقت کو قریب سے دیکھا ہے ، اس لیے مجھے اس مضمون کو لکھنے کا خیال آیا۔
پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کی خواہش کے باوجود وہ کالج کی تعلیم سے محروم ہیں۔ اس کی بڑی وجہ جو 80 سے 90 فیصد والدین نے بتائی وہ 'خراب ماحول' ہے۔ لڑکیوں کے تحفظ سے وہ لوگ خوف زدہ ہیں۔ بے شک وہ جو سوچ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں، اس سےانکار ممکن نہیں، لیکن کیا بچیوں کو اعلی تعلیم سے روک دینا ،انہیں کالج تک پڑھنے کی اجازت نہیں دینا اس کا حل ہے؟ نہیں۔۔! ہم ان باتوں سے جتنا دور رہنے کی کوشش کریں گے وہ معاشرے میں مزید جڑیں مضبوط کرتی رہیں گی۔ مجھے لگتا ہے مائیں اس بات کی طرف توجہ دیں۔خاص طور سے پسماندہ علاقوں کی مائیں اپنی بچیوں کی تعلیم کے لیے آگے آئیں ۔یہ بات جان لیں کہ حالات کبھی موافق نہیں ہوں گے، لیکن آپ اپنی بچیوں کا سہارا بنیں، ان کا حوصلہ بنیں۔ انہیں خواب دیکھنے دیں ، ان کی تعبیر کے لیے راستے ہموار کریں۔
مائیں پہلی استاد:
مائیں بچوں کی پہلی استاد ہوتی ہیں۔ اگرچہ آپ خودتعلیم سے محروم رہی ہیں، پھر بھی آپ اپنی بچیوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کریں اور انہیں بتائیں کہ موجودہ دور میں تعلیم کیوں ضروری ہے۔
درست رہنمائی:
مائیں بچوں کے لیے رہنما ہوتی ہیں۔ خاص طور پر بچیاں اپنے مسائل سب سے پہلے اپنی ماں سے کہتی ہیں۔ آپ ان کے تمام مسائل سنجیدگی سے سنیں، انہیں درست مشورہ دیں، اور ان کی فیصلہ لینے میں مناسب رہنمائی کریں۔
خود اعتمادی:
مائیں بچیوں کے لیے خود اعتمادی کا سرچشمہ ہوتی ہیں۔ بچیاں اپنی ماں کی خود اعتمادی سے متاثر ہوتی ہیں، اس لیے آپ ہمیشہ پر سکون رہیں، اپنی خود اعتمادی کو برقرار رکھیں اور اپنی بچیوں میں اس خوبی کو پروان چڑھائیں۔ انہیں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی راہ دکھائیں۔
تعلیم کی ضرورت:
عموماً پسماندہ علاقوں میں بہت کم مائیں پڑھی لکھی ہیں۔ اس لیے آج کے دور کے چیلنجز کو کم سمجھتی ہیں، لیکن وہ اس بات کو بخوبی سمجھتی اور جانتی ہیں کہ تعلیم کتنی ضروری ہے۔ خود کے ساتھ ہوئی نا انصافی کو اپنی بچیوں کے ساتھ نہ دہرائیں اور انہیں تعلیم کی اہمیت سے روشناس کرائیں۔
معاشرتی نظام:
عموماً مائیں اپنے وقت کو گزار چکی ہیں ۔وہ معاشرے کے اتار چڑھاؤ، قوانین سے بخوبی واقف ہیں، اس لیے مائیں اپنی بچیوں کو معاشرتی نظام، قوانین بتائیں، خواتین کی ذمہ داریاں اور سماجی پابندیوں کے بارے میں بھی بتائیں، انہیں بتائیں کہ معاشرے اور سماجی حدود بندی کی رعایت کرتے ہوئے ہمیں اپنی تعلیم حاصل کرنی ہے۔
اخلاقی تربیت:
مائیں بچوں کی اخلاقی تربیت کا خاص خیال رکھیں۔ انہیں وہ تمام باتیں جو ہمارے معاشرے کا حصہ ہے بتائیں اور ساتھ ہی اپنا پورا تعاون دیں۔ ضرورت کے وقت ان کی بھر پور مدد کریں۔ جہاں تک ممکن ہو اپنی بچیوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے دیں۔ مناسب وقت پر آواز اٹھائیں۔ بچیوں کے ساتھ کھڑے رہیں ،مسائل کو قبول کریں ، ان کے سدباب میں عملی تعاون پیش کریں۔
مائیں بچیوں کی رول ماڈل ہوتی ہیں۔ آپ اپنی بچیوں کو مثبت سوچ اور مثبت باتوں سے خوبصورت بنائیں، انھیں تعلیم سے آراستہ ہونے کے لیےموقع فراہم کریں۔ مائیں ہی ہیں جو اپنی بچیوں کو زندگی جینا سکھاتی ہیں، بچیوں کو آسمان چھونے کے خواب دکھاکر انہیں پورا کرنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ اس لیے ماؤں کا کردار بچیوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ماؤں کا ایک مثبت قدم معاشرے کی بے حسی اور سماج کی سخت گیر ذہنیت کا عملی جواب ہو سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment