شریوردھن میں بارانِ رحمت کے لیے توبہ و استغفار؛ نمازِ استسقاء میں ہزاروں مسلمانوں کی شرکت۔
شریوردھن: 20 جون 2026 (اظہر کردمے) پورا خطۂ کوکن اس وقت پانی کے شدید اور سنگین بحران سے جوجھ رہا ہے۔ امسال مانسون کی آمد میں غیر معمولی تاخیر، چلچلاتی دھوپ اور ریکارڈ توڑ گرمی کی وجہ سے شریوردھن سمیت کوکن کے بیشتر علاقے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ گرمی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شریوردھن اور اس کے اطراف کے علاقوں کو پانی فراہم کرنے والا اہم ترین ذریعہ، "رانولی ڈیم" مکمل طور پر خشک ہو چکا ہے۔ دیہاتوں میں پینے کے پانی کی صورتحال اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ ایسے کٹھن حالات میں جب تمام مادی تدابیر جواب دے جائیں، تو اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔
اسی پس منظر میں، شریوردھن اور اس کے مضافات کے مسلمانوں نے آج ربِ کائنات کی بارگاہ میں لو لگائی۔ مورخہ 20 جون، بروز ہفتہ (سنیچر) صبح ٹھیک 8:00 بجے شریوردھن کی تاریخی عیدگاہ پر ایک عظیم الشان "نمازِ استسقاء" (بارش کی خاص نماز) اور دعائیہ اجتماع کا اہتمام کیا گیا۔ اس روح پرور اور پرنور اجتماع میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کر کے بارگاہِ الٰہی میں عاجزی، انکساری اور گریہ و زاری کے ساتھ بارانِ رحمت کے لیے دعائیں مانگیں۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالمِ دین مولانا عمر گجراتی صاحب نے بارش نہ ہونے، خشک سالی اور قحط کے اسباب پر گہری روشنی ڈالی۔ انہوں نے امت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا:
"ظالم کے ظلم اور انسانوں کے گناہوں کی وجہ سے دور دراز تک اللہ کی رحمتیں اور بارشیں نازل ہونا بند ہو جاتی ہیں۔ اس قحط سالی کا اثر معصوم چرندوں اور پرندوں پر بھی پڑتا ہے؛ دور دراز جانے والے پرندوں کو غذا اور پانی نہیں ملتا اور وہ بھوکے پیاسے، سوکھ کر مر جاتے ہیں۔"
مولانا نے حاضرین سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں، حقوق العباد کی ادائیگی پر توجہ دیں اور اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں، کیونکہ سچی توبہ ہی الٰہی رحمتوں کے نزول کا سبب بنتی ہے۔
رقت آمیز دعائیں اور پُرعزم واپسی
نمازِ استسقاء کی ادائیگی کے بعد مولوی اسجد ارشد کردمے صاحب نے بارگاہِ الٰہی میں انتہائی رقت آمیز اور دلوں کو تڑپا دینے والی دعا کروائی۔ دعا کے دوران عیدگاہ کا پورا میدان آہ و بکا اور آمین کی صداؤں سے گونج اٹھا۔ بوڑھے، جوان اور بچے سبھی خدا کے حضور ہاتھ پھیلائے رو رہے تھے۔ اس پر اثر دعا کے اختتام پر، پورا مجمع دلوں میں پختہ ایمان، امید اور رب کی رحمت پر کامل یقین لیے اپنے گھروں کو واپس لوٹا۔ پورا شریوردھن اس وقت بارانِ رحمت کی امید میں دعاگو ہے۔
Comments
Post a Comment